اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، ریپ کا شکار بچی ماں بننے پر مجبور

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ نے زیادتی کا شکار ہونے والی دس سالہ بچی کو اسقاط حمل کی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا کرنے سے ان کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹرز کے پینل نے عدالت کو بتایا کہ بچی کے حمل کو ٹھرے 32 ہفتے ہو گئے ہیں ایسی صورت میں حمل کو ختم کرنا خطرے کا باعث ہو سکتا ہے۔

بچی کے حاملہ ہونے کی تصدیق اس وقت ہوئی جب دو ہفتے قبل انھوں نے پیٹ میں درد کی شکایت کی اور والدین اسے ہسپتال لے کر گئے۔

اس سے قبل چندی گڑھ کی ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ نے 18 جولائی کو اسی درخواست کو مسترد کیا تھا۔

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

'ہر سات سیکنڈ میں 15 سال سے کم عمر کی ایک بچی بیاہ دی جاتی ہے'

جمعے کو طبی رپورٹ کی تفصیلات بتائے بغیر عدالت نے فیصلہ سنایا کہ حمل کا خاتمہ 'لڑکی کے لیے اچھا نہیں'

عدالت نے چندی گڑھ شہر کے شمال میں واقع حکومت کے ماتحت چلنے والے پوسٹ گریجوایٹ میڈیکل اینڈ ریسرچ ہاسپٹل کے حکام سے کہا ہے کہ بچی کی نگہداشت اچھے طریقے سے کی جائے۔

اعلیٰ عدالت نے اپنے حکمنامے میں یہ بھی تجویز دی ہے کہ حکومت ہر ریاست میں ایک مستقل میڈیکل بورڈ قائم کرے جو اس قسم کے کیسز کا فوری فیصلہ کرے۔

پیر کو سپریم کورٹ نے ڈاکٹرز کو حکم دیا تھا کہ وہ بتائیں کہ کیا لڑکی کے لیے اسقاط حمل محفوظ رہے گا۔

عدالت نے یہ حکم وکیل الک الوک سریواستہ کی اس درخواست پر دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ 10 سالہ لڑکی ابھی جسمانی اعتبار سے بچہ پیدا کرنے کے قابل نہیں ہے ابھی ان کی پیڑو کی ہڈیوں کی مکمل نشونما نہیں ہوئی اور اس سے انھیں اور ان کے بچے کی جان کو بہت خطرہ ہے۔

طبی حکام پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دس سالہ لڑکی کا آپریشن کیا جائے یا ان کے ہاں نارمل طریقے سے بچہ پیدا ہو یہ دونوں صورتوں میں ان کے لیے اور بچے کے لیے نقصان دہ ہے۔

لڑکی کا تعلق بہت غریب گھرانے سے ہے ان کی والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں جبکہ والد سرکاری ملازم ہیں۔ بچی نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں ان کے ایک انکل نے گذشتہ سات ماہ کے دوران کئی مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنایا جو ان کے گھر آتے جاتے تھے۔ متعلقہ شخص کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا کے قانون کے مطابق حمل ٹھہرنے کے 20 ہفتے گزر جانے کے بعد اسقاط حمل کی اجازت تب تک نہیں دی جاتی جب تک ڈاکٹرز یہ تصدیق نہ کریں کہ اس سے ماں کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

انڈین حکومت کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ بچے انڈیا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں