جہاں بیوی شوہر کا نام نہیں لیتی

انڈیا

انڈیا میں لاکھوں ایسی خواتین ہیں جنھوں نے کبھی بھی اپنے شوہر کو نام لے کر نہیں پکارا اور یہ عمل یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ شوہر کی عزت کرتی ہیں۔

یہ رواج دیہی علاقوں میں سختی سے قائم ہے جبکہ شہروں میں قدرے کم ہے۔ کچھ ایسے لوگ ہیں جو دیہی عورتوں پر زور دیتے ہیں کہ اس رواج کو چھوڑ دیں۔

میرے والدین کی شادی 73 برس تک رہی۔ میرے والد کی وفات گذشتہ برس ہوئی۔ ان کی شادی کے وقت میری ماں کی عمر 11 برس تھی جبکہ والد 15 سال کے تھے۔

وہ پہلے انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہے اور بعد میں کلکتہ (کولکتہ) میں رہنے لگے تھے۔ والدہ نے کبھی میرے والد کو نام سے نہیں پکارا تھا۔

جب وہ ہم سے باتکرتی تھیں تو ہمیں ان کا حوالے دیتے ہوئے کہتی تھیں' بابو جی'۔

ہندی میں والد کے لیے لفظ 'بابو جی' استعمال ہوتا ہے۔ اور جب امی ابو سے براہ راست مخاطب ہوتی تھیں تو ہمیشہ کہتی تھیں 'ہے او' جس کا مطلب ہے 'اجی سنیے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIDEO VOLUNTEERS

جب لڑکپن میں ہمیں اس کی وجہ سمجھ آئی تو ہم نے والدہ کا مذاق اڑایا۔ ہم نے کوشش کی کہ وہ ایک بار ہی والد کا نام لے لیں لیکن ایسا کبھی نہیں ہو سکا۔

میرے آس پڑوس میں اور گھر میں بھی دیگر خواتین اپنے شوہروں کا نام نہیں لیتی تھیں۔ اور شاید ایسا ہی انڈیا میں بسنے والی کروڑوں خواتین کرتی ہیں چاہے ان کا کوئی بھی مذہب ہو اور وہ خواہ کسی بھی ذات سے تعلق رکھتی ہوں۔

انڈیا کے روایتی معاشرے میں مرد کو خدا کے برابر سمجھا جاتا ہے اور عورت کو یہ چھوٹی عمر سے ہی سکھایا جاتا ہے کہ وہ اس کی عزت کرے۔

وہ کہتی ہیں کہ شوہر کا نام لینے سے قسمت بری ہو جاتی ہے اور عمر کم ہو جاتی ہے۔ کبھی کبھی اس کے اثرات خاندان کے دیگر افراد پر بھی مرتب ہو جاتے ہیں۔

مشرقی ریاست اڑیسہ میں ایک عورت نے بتایا کہ انھیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

مالتی ماہتو نے ایک پریشر گروپ کی جانب سے بنائی جانے والی فلم میں بتایا کہ 'ایک روز انھوں نے اپنے شوہر اور انکل سمیت سب لوگوں کے نام لیے۔ ان کی نند نے اس کی شکایت دیہی کونسل میں کر دی جس نے فیصلہ دیا کہ ماہاٹو ے الفاظ ناقابل معافی ہیں۔ انھیں بطور سزا بچوں کے ہمراہ گھر سے نکال کر آبادی کے سرے پر ایک گھر رہنے کو دے دیا گیا۔ اب گذشتہ 18 ماہ سے وہ گاؤں کے دیگر لوگوں سے کٹ کر زندگی گزار رہی ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ VIDEO VOLUNTEER

سماجی ماہر پروفیسر اے آر وسائی کا کہنا ہے کہ مردوں کی خاندان پر اجارہ داری یا کنٹرول کے مختلف لیول ہیں۔

'شوہر کو خدا کے برابر کا درجہ دیا جاتا ہے۔ اس لیے اسے پوجنا ہوتا ہے۔ روایتی طور پر وہ اعلیٰ ذات رکھتا ہے اور معاشی طور پر وہ عورت کو سپورٹ کرتا ہے اس لیے وہ مالک ہے۔ عموماً وہ عمر میں بڑا ہوتا ہے اس لیے اس وجہ سے بھی اس کی عزت کی جانی چاہیے۔'

ویڈیو میں رضاکارانہ طور پر شامل لوگوں نے بعض دیہی برادریوں میں اس پدرانہ روایت کو بدلنے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

گذشتہ سال اکتوبر میں مغربی شہر پونے کے ایک گاؤں کی رضاکار خاتون روہنی پوار نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خاوند کا نام لینے کے مسئلے کو گاؤں کی خواتین کے سامنے اٹھائيں گی۔

لیکن ایسا کرنے سے قبل انھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے وہ خود ایسا کریں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کی شادی 15 سال کی عمر میں ہوئی تھی اور انھوں نے اپنی 16 سالہ شادی شدہ زندگی میں اپنے شوہر پرکاش کو کبھی نام لے کر نہیں پکارا تھا۔

پہلے میں ان کو 'بابا' کہتی تھی کیونکہ ان کے بھتیجے انھیں بابا کہتے تھے۔ یا پھر انھیں متوجہ کرنے کے لیے 'آہو' (مراٹھی زبان میں آپ) کہتی تھیں۔

پرکاش کو اس سے کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن زیادہ تر گاؤں والے مطمئن نہیں تھے۔ بعض لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ بہرحال خواتین کی ٹولی نے اس خیال کو پسند کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ VIDEO VOLUNTEERS

پوار ہنستے ہوئے کہتی ہیں: 'اس دن ہم لوگوں نے بہت مزے کیے اور دن بھر ہنستے رہے۔ ہم لوگ پہلی بار اپنی زندگی میں اپنے شوہروں کا نام لے رہی تھیں۔

ہم نے ایک ویڈیو بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے شوہر کے نام تین انداز خوشی، غصے اور پیار کے ساتھ لینے کا فیصلہ کیا۔

ایک خاتون اس رو میں بہہ گئی وہ اتنی پرجوش تھی کہ جیسے ہی اس نے اپنے شوہر کو دیکھا اسے نام سے پکارا اور جواب میں اسے تھپڑ ملا۔

'اس نے کہا کہ اگر آئندہ کبھی بھی اس نے اس کا نام لیا تو وہ اس کی اچھی طرح سے پٹائی کرے گا۔‘

انڈیا کے شہروں میں شوہر کا نام پکارنا عام بات ہے۔ زیادہ خواندگی سے زیادہ سے زیادہ خواتین کام کر رہی ہیں اور والدین کی پسند کے بجائے اپنی پسند کی شادیاں کر رہی ہیں ایسے میں یہ روایت فرسودہ خیال کی جانے لگی ہے۔

ایک خاتون نے کہا کہ ’جب میں نے شادی کی تو میرا شوہر میرے ساتھ کام کرتا تھا اور میں اسے اس کے نام سے پکارتی تھی۔ شادی کے بعد انھیں ان کے نام سے نہ بلانا عجیب ہوتا۔‘

تاہم اے آر وساوی کہتی ہیں کہ ابھی بھی بہت کم لوگ ہی اپنے خاوند کو نام لے کر پکارتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ 'بڑے شہروں کی صرف پڑھی لکھی اور پراعتماد خاتون ہی اپنے شوہر کا نام لے کر پکارتی ہیں۔'

'دیہی انڈیا کے لاکھوں گھروں میں ابھی بھی ایسا کرنا مشکل ہے اور کوئی نئی دلہن ایسا کرنے کی کوشش کرتی ہے تو ساس یا پھر گھر کی کوئی بڑی خاتون اس کی سرزنش کر ہی دیتی ہیں۔'

روہنی پوار کہتی ہیں کہ تبدیلی لانا بہت آسان نہیں، لوگ پوچھتے ہیں کہ آخر نام لینا ان کے لیے اتنا اہم کیوں ہے آخر اس میں اتنی بڑی بات کیا ہے۔

'میرا خیال ہے کہ جب تک آپ چھوٹے چھوٹے مسئلے سے نہیں نمٹیں گی تب تک آپ بڑے مسئلے کیسے سلجھائيں گی۔ یہ چھوٹی بات نظر آ سکتی ہے لیکن یہ پہلا قدم ہے اور پہلا قدم بڑا قدم ہوتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں