مودی کی لہر کو روکنا اب بہت مشکل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption نریندر مودی بی جے پی کے سینیئر رہنماؤں کے ساتھ

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں سیاست نے جس تیزی سے کروٹ لی ہے اس طرح کا تغیر بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے لالو پرساد یادو کی جماعت راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس سے اپنا اتحاد اچانک ختم کر کے چند ہی گھنٹوں میں بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا لی۔

بے جے پی کے اتحاد کے ساتھ وزیر اعلیٰ بنتے ہی نتیش نے لالو اور ان کے بیٹے پر وار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی بدعنوانی کے گناہ کو سیکولرزم کے چولے سے چھپانا چاہتے ہیں۔

لالو کے بیٹے اور سابق وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو اور بیٹی میسا یادو سمیت خاندان کے کئی افراد کے خلاف بدعنوانی سے حاصل کی گئی جائیدادوں کے کئی مقدمات حال میں درج کیے گئے تھے اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ رہا تھا لیکن نتیش کے لالو اور کانگریس سے اتحاد توڑنے کی وجہ کیا یہی تھی؟

٭ مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا

٭ نتیش کمار ایک دن بعد پھر سے وزیرِ اعلیٰ

نتیش کمار اپوزیشن جماعتوں میں واحد ایسے معتبر اور تجربہ کار رہنما تھے جن کے بارے میں یہ رائے بنتی جا رہی تھی کہ آئندہ پارلمیانی انتخابات میں ایک متحدہ اپوزیشن امیدوار کے طورپر صرف وہی نریندر مودی کو چیلنج کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیتیش کمار اس سے قبل بھی بی جے پی کے ساتھ حکومت سازی کر چکے ہیں

انھوں نے سنہ 2015 کے اسمبلی انتخابات میں بہار میں مودی کی بی جے پی کو شکست فاش دی تھی اور وہ ان کے حریف کے طور پر ایک طاقتور رہنما کے طور پر ابھرے تھے۔ بی جے پی کے خیمے میں واپس چلے جانے سے انھوں نے وزیر اعظم بننے کا اپنا خواب واضح طور پر توڑ دیا ہے۔

وجہ جو بھی رہی ہو لیکن یہ واضح ہے کہ لالو اور کانگریس کے اتحاد کے بعد گذشتہ دو برس میں وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کی کاردگی اتنی اچھی نہی رہی تھی جتنی اس سے پہلے کے دور میں تھی۔ انھیں ترقی اور تبدیلی کا رہنما تصور کیا جاتا تھا لیکن یہ شبیہ پچھلے دو برس میں تیزی سے مجروح ہوئی ہے۔

نتیش کو یہ احساس ہونے لگا تھا اس اتحاد سے ان کی مشکلیں بڑھ رہی ہیں۔ لالو پرشاد، ان کے بیٹے اور بیٹی پر بدعنوانی کے الزام کے بعد انھیں یہ محسوس ہوا کہ لالو کی جماعت اب خطرے میں ہے اور ان کے ساتھ اتحاد رکھنا خود ان کی بقا کے لیے مسلہ بن جائے گا۔

انھوں نے لالو اور کانگریس سے اتحاد توڑ کر اگلے اسمبلی انتخاب تک اپنی سیاسی پوزیشن فی الحال محفوظ کر لی ہے۔

شمال میں بہار واحد ایسی ریاست تھی جہاں ہندوتوا کی لہر ابھی تک داخل نہیں ہو سکی تھی۔

سی بی آئی نے لالو اور ان کے پورے سیاسی خاندان کو اب اپنے نرغے میں لے لیا ہے۔ پارٹی اب اپوزیشن میں چلی گئی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل اندرونی انتشار اور بے چینیوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس بدلتی ہوئی سیاست میں لالو کی پارٹی بچ سکے گی یا نہیں یہ جاننے میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نریندر مودی کو بظاہر اب کسی چیلنج کا سامنا نہیں ہے

نتیش نے بی جے کے ساتھ حکومت بنا کر سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کے لیے بہار کے دروازے کھول دیے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو دوبارہ اقتدار میں آنے کے لیے اتر پردیش اور بہار دونوں ریاستوں میں گذشتہ انتخابات کی کارکردگی دہرانی ہوگی۔ بی جے پی کو صرف ان دو ریاستوں سے 102 پارلیمانی نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔

کئی بار اپنا سیا سی پالا بدلنے سے نتیش کمار کا سیاسی قد کم ہوا ہے اور معتبریت گھٹی ہے۔

لالو کی جماعت کے انتشار کی وجہ سے آنے والے دنوں میں بہار میں بی جے پی کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہو گا۔ بی جے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور ہندوتوا کی لہر نتیش کمار کو پس منظر میں دھکیل سکتی ہے۔

بہار کے اس سیاسی تغیر میں سب سے بڑی جیت وزیر اعظم مودی کی ہوئی ہے جن کی مستقبل کی سیاست کے راستے کا آخری کانٹا بھی اب نکل چکا ہے۔

اسی بارے میں