کابل میں عراقی سفارت خانے کے باہر خودکش دھماکہ

کابل تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانے والی تصاویر میں کابل کے اوپر دھویں کے بادل دیکھے جا سکتے ہیں

افغان پولیس کا کہنا ہے کہ کابل میں عراقی سفارت خانے کے باہر ایک خودکش حملہ ہوا ہے۔

پیر کو کابل کے علاقے شہرِ نو میں کئی دھماکوں کی آوازیں آئی ہیں جن کے بعد گولیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔

افغان وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ چار حملہ آوروں نے عراقی سفارت خانے کی عمارت کو نشانہ بنایا۔

٭ افغانستان میں جنگ، ناخواندگی اور امیدیں

٭ کابل: خودکش حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک

اطلاعات کے مطابق ایک بمبار نے خود کو سفارتخانے کے داخلی دروازے پر ہی دھماکے سے اڑا لیا جس کے بعد دیگر تین حملہ آور عمارت میں داخل ہوگئے۔

بتایا گیا ہے کہ فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے جبکہ عام شہریوں کو علاقے سے نکالا جارہا ہے۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ خیال رہے کہ اس سال کابل میں کئی بڑے حملے ہوئے ہیں جن کا الزام دولت اسلامیہ یا طالبان پر عائد کیا جاتا ہے۔

ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق خودکش حملہ آور نے پولیس ہیڈکوارٹرز اور عراقی سفارت خانے کے علاقے کو نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر میں آسمان پر دھوئیں کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پیر کو ہونے والا یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دو ہفتے قبل عراقی سفارت خانے میں ہی عراقی شہر موصل میں دولت اسلامیہ کی شکست پر جشن منانے کی ایک تقریب منعقد کی گئی تھی۔

تاحال اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان میں رواں سال کی پہلی شش ماہی میں 1662 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 20 فیصد ہلاکتیں کابل میں ہوئیں۔

گذشتہ ماہ کابل کے شیعہ اکثریتی علاقے میں ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

جبکہ 31 مئی کو دارالحکومت کے مرکزی علاقے میں اپک بڑے دھمالے میں 150 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے، جو سنہ 2001 کے بعد اب تک ہونے والا سب سے بڑا دھماکہ تھا۔

اسی بارے میں