مسلمانوں پر حملے: ریٹائرڈ فوجیوں کا مودی کے نام کھلا خط

مودی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہاں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک تقریب میں فوجیوں کی سلامی لیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے

انڈیا میں مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے حملوں کے درمیان انڈین آرمڈ فورس کے ریٹائرڈ فوجیوں نے وزیر اعظم مودی کو کھلا خط لکھا ہے۔

خط میں سابق فوجیوں نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی فوجیوں نے ہندوتوا کی حفاظت کے لیے خود ساختہ محافظوں اور ان کی جانب سے وحشیانہ حملوں کی شدید تنقید کی ہے۔

٭ ’بس ایک ہی مسلمان تو مرا‘

٭ تقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کا سب سے بڑا بحران

کھلے خط میں ان فوجیوں نے کہا ہے کہ وہ اس بربریت کے خلاف 'ناٹ ان مائی نیم' مہم کے ساتھ کھڑے ہیں۔ خط میں لکھا ہے کہ ملک کی مسلح افواج اب بھی 'کثرت میں وحدت' کے اصولوں پر یقین رکھتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال خوفزدہ کرنے والی، نفرت انگیز اور مشکوک ہے۔

اس خط میں مسلح افواج یعنی ملٹری، بحریہ اور فضائیہ کے 114 ریٹائرڈ فوجیوں کے دستخط ہیں۔

سابق فوجیوں نے اپنے خط میں مزید لکھا ہے:

'آج ہمارے ملک میں جو ہو رہا ہے اس سے ملک کی مسلح افواج اور آئین کو دھچکہ لگا ہے۔ ہندوتوا کی حفاظت کے لیے خود ساختہ محافظوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

'ان حملوں کو ہم معاشرے میں غیر متوقع طور پر ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں۔ ہم مسلمانوں اور دلتوں پر ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'ہم لوگ میڈیا، سول سوسائٹی گروپ، یونیورسٹی، صحافی اور دانشوروں کے اظہار رائے کی آزادی پر حملے، ایک مہم کے ذریعہ انھیں ملک کا مخالف بتائے جانے اور ان کے خلاف روز افزوں تشدد پر حکومت کی خاموشی کی مذمت کرتے ہیں۔

'ہم سابق فوجیوں کا ایک گروپ ہیں، جنھوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی خدمت کرتے ہوئے گزاری ہے۔ منظم طور پر ہم کسی سیاسی پارٹی سے تعلق نہیں رکھتے۔ ہمارا مشترکہ عزم صرف انڈیا کے آئین کی سربلندی ہے۔

'اس خط کو لکھنے میں ہمیں تکلیف ہو رہی ہے لیکن انڈیا میں ہونے والے حالیہ واقعات جو ملک کو تقسیم کر رہے ہیں، ان پر ہونے والی تکلیف کا اظہار بھی ضروری ہے۔

'مسلح افواج 'کثرت میں وحدت' پر یقین رکھتی ہے۔ فوج میں اپنی خدمات کے دوران انصاف، کشادگی کا احساس اور منصفانہ رویے نے ہمیں صحیح اقدامات کرنے کی راہ دکھائی۔ ہم ایک خاندان ہیں۔

'ہماری وراثت میں بہت سے رنگ ہیں، یہی ہندوستان ہے اور ہم اس زندہ تنوع کو سنبھال کر رکھتے ہیں۔

'اگر ہم سیکیولر اور اعتدال پسند اقدار کے حق میں نہیں بولیں گے تو ہم اپنے ملک کا ہی نقصان کریں گے۔ ہمارا تنوع ہی ہماری طاقت ہے۔

'ہم مرکز اور ریاستی حکومتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے خدشات پر غور کریں اور ہمارے آئین کی روح کا احترام کریں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں