مجسمے کے ساتھ گیتا کیوں رکھی؟

عبدالکلام کا مجسمہ اور مودی تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/Narendra Modi
Image caption انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام کے ایک مجسمے کی رامیشورم میں نقاب کشائی کی

انڈیا کے سابق صدر اے پی جے عبدالکلام اپنی زندگی میں تنازعے سے خواہ کتنے ہی دور کیوں نہ رہے ہوں آج ان کا مجسمہ باعث نزاع بن گیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے جب سے ان کے مجسمے کی رونمائی کی ہے اس کے بعد سے ہی تنازع رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔

در اصل ان کے مجسمے سے ان کی ایک سیکیولر شبیہ پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں وہ بیٹھے وینا بجا رہے ہیں اور رحل پر گیتا (ہندوؤں کی مقدس کتاب) کا نمونہ رکھا ہے۔

دا ہندو اخبار کے مطابق سب سے پہلے اس پر ایم ڈی ایم کے سربراہ وائیکو اور ديگر رہنماؤں نے اعتراض کیا تھا کہ 'بھگوت گیتا' کا وہاں رکھا جانا یہ بتاتا ہے کہ گویا وہ مذہب سے بڑے تھے۔

٭ جب جناح کا بنگلہ گنگا جل سے دھلوایا گیا

٭ مودی تحائف کا انتخاب کیسے کرتے ہیں

پھر انھوں نے یہ کہا کہ گیتا کی جگہ تمل کی شاہکار کتاب تھیروکورل وہاں رکھے جانے کے لیے زیادہ مناسب ہوتی کیونکہ وہ انھیں بہت عزیز تھی۔

بہر حال ان شکایات کے بعد سابق صدر کے رشتے داروں نے گیتا کے ساتھ وہاں شیشے میں کندہ قرآن اور انجیل کے نسخے رکھ دیے تاکہ تنازع ختم ہو جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter/Narendra Modi

لیکن اس کا الٹا اثر ہوا اور اتوار کو ہندو مکل ماچی نے قرآن اور انجیل پر اعتراض کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرائی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ چیزیں حکام کی اجازت کے بغیر وہاں رکھی گئی ہیں۔

سابق صدر عبدالکلام کے رشتے میں پوتے اے پی جے ایم شیخ سلیم نے انڈین خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کو بتایا کہ قرآن اور انجیل کو وہاں اس لیے رکھا گیا کہ یہ پیغام جا سکے کہ عبدالکلام سیکیولر تھے۔

انھوں نے کہا: 'بعض لوگوں کی جانب سے غیر ضروری تنازع کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ڈی آر ڈی او نے اس یادگار کو بنانے کی انتھک کوشش کی اور کسی بدنیتی کے بغیر وہاں گیتا کی موجودگی دکھائی اب ہم نے وہاں مزید دو کتابیں رکھ دی ہیں۔'

انھوں نے کہا کہ وہ تمل ادب کی کتاب تھیروکورل بھی جلد ہی مجسمے کے پاس رکھ دیں گے۔

عبدالکلام کا مجسمہ ریاست تمل ناڈو میں واقع ان کے آبائی شہر رامیشورم میں رکھا گیا ہے جس کی رونمائی 27 جولائی کو وزیر اعظم نریندر مودی نے کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں