چینی صدر کا پریڈ سے خطاب انڈیا کو انتباہ؟

شی جن پنگ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا اور چین کے درمیان سکم میں ڈوكلام سرحد پر کشیدگی کے درمیان چین نے اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔

پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے 90 ویں یوم تاسیس کے موقع پر آرمی پریڈ نکالی گئی اور چینی صدر شی جن پنگ فوجی لباس میں اس پریڈ میں شریک ہوئے اور چین کی طاقت کا اظہار کیا۔

انھوں نے کہا کہ دراندازی کرنے والی قوتوں سے نمٹنے کے لیے چین پوری طرح تیار ہے۔ چین کے شمالی صوبے اندرونی منگوليا میں منعقد پریڈ میں 12 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا اور جدید ترین ہتھیاروں کی نمائش کی گئی۔

٭ 'انڈین 1962 کی شکست سے نکل نہیں سکے'

٭ کیا چین اور انڈيا جنگ کے دہانے پر ہیں؟

٭ چین کی انڈین سرحد پر اصلی گولہ بارود سے مشقیں

کیا یہ بھارت سمیت باقی دنیا کے لیے کوئی اشارہ تھا؟ بی بی سی کی نمائندہ ہریتا کانڈپال نے بیجنگ میں موجود سینئر صحافی سیبل داس گپتا سے بات کی۔

انھوں نے کہا کہ یہ چین کے لیے دنیا کو یہ بتانے کا موقع تھا کہ ان کے پاس کون کون سے جدید ہتھیار ہیں۔ انھوں نے بطور خاص میزائلوں کی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ ان میں جوہری ہتھیار لے جانے والی میزائلوں کے ساتھ موبائل میزائلی بھی شامل تھے جنھیں آپ ٹرک میں لے جا کر دوسری جگہ سے داغ سکتے ہیں۔

اس دوران سو سے زیادہ جنگی طیارے آسمان میں گشت کر رہے تھے۔ چھ ہزار سے زیادہ ٹینک اور توپیں اور دوسرے ہتھیار پریڈ میں پیش کیے گئے۔ چینی وزارت دفاع کے مطابق ان میں سے نصف پہلے کبھی دکھائے نہیں گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چینی کے فوجی طاقت کے مظاہرے میں 12 ہزار فوجیوں نے شرکت کی

شی جن پنگ نے کہا کہ پی ایل اے کسی بھی دراندازی کو ناکام کر سکتی ہے۔

صحافی سیبل کا کہنا ہے کہ 'یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ڈوكلام میں انڈین فوجی تعینات ہیں اور دونوں فوجیں آمنے سامنے ہیں۔ چین کا خیال ہے کہ انڈین فوج ان کی سرحد میں گھس آئی ہے۔'

دوسری طرف شمالی کوریا نے بین براعظمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے جس سے امریکہ کو بھی قدرے تشویش لاحق ہے۔ شی جن پنگ نے براہ راست ان دونوں واقعات کا ذکر نہیں کیا۔ لیکن ان کی باتوں سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ دنیا اور اپنے فوجیوں کو یہ اشارہ دے رہے تھے کہ ہم پوری طرح تیار ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یہ باتیں صرف چین کی اپنی سرحد تک ہی محدود نہیں کیونکہ شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا میں بدامنی پھیلی ہوئی ہے اور امن لانے کے لیے دنیا کو چین کی ضرورت ہے۔ شی جن پنگ نے کہا کہ وہ چین کا 'عظیم قوم' کا خواب پورا کر کے دکھائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین کی پیپلز لبریشن آرمی دنیا کی اہم ترین افواج میں سے ایک ہے

چین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا دفاعی بجٹ کافی ہے۔ لیکن چین یہ کہتا ہے کہ امریکہ کے مقابلے اس کا دفاعی بجٹ کافی کم ہے۔

اس سلسلے میں سیبل چیٹرجی نے کہا: 'سوال یہ ہے کہ آپ دفاعی بجٹ کا اندازہ کس طرح لگائیں گے؟ فوج کے لیے جو ریلوے اور سڑک جیسی چیزیں بنائی جاتی ہیں، وہ ایسی ناقابل رسائی پہاڑی مقامات پر بنائی جاتی ہیں، جہاں فوج کے سوا کوئی نہیں جاتا۔ اس کو بھی اگر آپ ریلوے کے بجٹ میں شامل کر دیں اور جہاز کے بجٹ کو بھی فوج کا بجٹ نہ مانیں تو ظاہر ہے کہ فوج کا بجٹ کم نظر آئے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں