بی جے پی کو 200 سال پرانا غدر کیوں یاد آیا؟

پائکوں کی بغاوت تصویر کے کاپی رائٹ Biswaranjan Mishra
Image caption پائیکوں نے انگریزوں کے خلاف سہن 1817 میں بغاوت کی تھی جس کی کئی وجوہات تھیں

انڈیا میں جب سے نریندر مودی کی حکومت اقتدار میں آئی ہے، اس کے بعد سے کئی بار حکومت پر ہندوستانی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کے الزام کی زد میں ہے۔

اسی سلسلے میں مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت آج سے دو سو سال پہلے اڑیسہ میں ہونے والی ’پائیک بغاوت‘ کا سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہ رہی ہے۔ دوسری طرف ریاست میں حکمران بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) بھی اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتی۔

20 جولائی، 2017 کو نئی دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ ایک بڑی تقریب میں صدر پرنب مکھرجی نے ’پائیک بغاوت‘ کی 200 ویں سالگرہ پر مرکزی حکومت کی طرف سے سال بھر جاری رہنے ولے پروگرام کا افتتاح کیا تو وہاں بی جے ڈی کے سربراہ اور اڑیسہ کے وزیر اعلی نوین پٹنائک اور بی جے پی میں ان کے مد مقابل کے طور پر دیکھے جانے والے مرکزی وزیر پٹرولیم دھرمیندر پردھان دونوں موجود تھے۔

٭ انڈیا: اڑیسہ میں فرقہ وارانہ کشیدگی، 35 افراد گرفتار

٭ انڈیا میں پھنسی ہوئی خاتون کا 'تکلیف دہ انتظار'

اس تقریب میں اگر پردھان نے كھوردھا کے برونیئی پہاڑ کے پاس ’پائیک بغاوت‘ کی یادگار قائم کرنے کے لیے اڑیسہ حکومت سے زمین مہیا کرانے کی اپیل کی تو پٹنائک نے اس بغاوت کو ’آزادی کی پہلی جنگ‘ قرار دیے جانے کا مطالبہ کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 200 سال پہلے ہونے والی اس جنگ کے بارے میں اڑیسہ کی نئی نسل بہت کم جانتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BISWARANJAN MISHRA
Image caption مرکزی حکومت کی جانب سے پائیکوں کی بغاوت کی دو سو سالہ یادگاری تقریب سال بھر جاری رہے گی

لیکن سیاست کی بساط پر اس سے فائدہ حاصل کرنے کا خیال علاقائی پارٹی بی جے ڈی کے بجائے قومی سطح کی پارٹی بی جے پی کو پہلے آيا۔

دھرمیندر پردھان کی قیادت میں مرکزی حکومت نے 2017 میں پائک غدر کی 200 ویں سالگرہ منائے جانے کا اعلان ہی نہیں کیا بلکہ 2017-18 مالی سال کے بجٹ میں پورے ایک سال چلنے والی اس تقریب کے لیے 600 کروڑ روپے کا فنڈ بھی مختص کیا۔

اب بی جے ڈی بھی اس کے تعلق سے سیاسی روٹی سینکنے کی کوشش میں جی جان سے لگ گئی ہے۔

کیا تھی پائیک بغاوت؟

’پائیک بغاوت‘ کیا ہے جسے 200 سال بعد ان دو پارٹيوں نے تاریخ کے صفحات نکال کر سیاست کی بساط پر لا کھڑا کیا ہے؟

سنہ 1803 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے مراٹھوں کو شکست دے کر اڑیسہ پر قبضہ کیا پھر انگریزوں نے كھوردھا کے اس وقت کے راجہ مكند دیو دوئم کے ہاتھوں پوری میں قائم ہندوؤں کے معروف جگناتھ مندر کا انتظام چھین لیا۔

چونکہ مكند دیو دوئم اس وقت نابالغ تھے، لہذا ریاست کی نگرانی ان کے اہم مشیر جیی راج گرو کر رہے تھے۔ جيی راج گرو کو یہ توہین برداشت نہیں تھی اور انھوں نے انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ لیکن راج گرو کو کمپنی کی فوج نے گرفتار کر لیا اور پھانسی دے دی۔

انگریزوں کا خیال تھا کہ جس وحشیانہ طور پر راج گرو کو سر عام پھانسی دی گئی ہے اس سے خوفزدہ ہو کر اڑیسہ کے لوگ بغاوت سے باز آ جائیں گے، لیکن واقعہ اس کے بالکل برعکس ہوا۔ راج گرو کی پھانسی کے بعد انگریزوں کے خلاف غصہ ابل پڑا اور جگہ جگہ ان پر حملے شروع ہو گئے۔

پائیک کون تھے؟

تصویر کے کاپی رائٹ BISWARANJAN MISHRA
Image caption بخشی جگ بندھو کی قیادت میں پائكوں نے 200 سال قبل انگریزوں کے خلاف جنگ چھیڑ دی تھی

پائیک كھوردھا کے راجہ کے وہ کسان فوجی تھے، جو جنگ کے وقت دشمنوں سے لڑتے تھے اور امن کے وقت ریاست میں ضبط و نظم برقرار رکھنے میں مدد کرتے تھے۔ اس کے عوض انھیں راجہ کی جانب سے جاگیر ملی ہوئی تھی، جسے ایسٹ انڈیا کمپنی نے ختم کر دیا تھا۔

اس کے ساتھ کمپنی نے کسانوں کے لگان کئی گنا بڑھا دیے۔ ’کوڑی‘ کی جگہ روپے اور سکے رائج ہوئے اور نمک بنانے پر پابندی لگا دی۔ سنہ 1814 میں مكنددیو دوئم کے سپہ سالار اور پائیكوں کے سردار بخشی جگ بندھو وديادھر مہاپاترا کی جاگیر چھین لی گئی اور انھیں پائی پائی کے لیے محتاج کر دیا گیا۔

اس کے بعد انگریزوں کے خلاف لوگوں کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ بخشی جگ بندھو کی قیادت میں پائكوں نے جنگ چھیڑ دی۔ جلد ہی اس جنگ میں كھوردھا کے علاوہ پوری، بانپور، پیپلی، کٹک، كنیكا، كوجنگ اور كیونجھر کے باغی بھی شامل ہو گئے۔

سنہ 1817 میں انگریزوں کے ظلم سے ناراض گھومسر ( کندھمال) اور بانپور کے کندھ قبائیلیوں نے بخشی کی فوج کے ساتھ مل کر انگریزوں پر حملہ کر دیا۔ یہ متحد حملے اتنے شدید تھے کہ انگریزوں کو كھوردھا سے بھاگنا پڑا۔

باغیوں نے تقریبا 100 انگریزوں کا قتل کر دیا، سرکاری خزانہ کو لوٹا اور كھوردھا میں واقع کمپنی کے انتظامی دفتر پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد بھی باغیوں نے کئی جگہ انگریزوں کو شکست دی، لیکن آخر کار کمپنی کی بہتر جنگی حکمت علی کے سامنے انھیں شکست ملی۔

بہت سے باغیوں کو پھانسی دی گئی، کئیوں کو قیدی بنا لیا گیا اور 100 سے بھی زیادہ لوگوں کو جلاوطن کر دیا گیا۔ سنہ 1917 کے ہیرو بخشی جگ بندھو کو کٹک کے قلعہ میں قیدی بنایا گیا جہاں 1821 میں ان کا انتقال ہو گیا۔ 1817 سے شروع ہونے والی جنگ 1827 تک چلتی رہی لیکن بالآخر انگریزوں کی جیت ہوئی۔

مؤرخ کیا کہتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ BISWARANJAN MISHRA
Image caption پائیکوں کی بغاوت کی یادگار اڑیسہ میں قائم کی جار رہی ہے اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس سے سیاسی فائدہ حاصل کیا جائے گا

ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ چونکہ 'پائیک بغاوت' بڑی اور جائز لڑائی تھی اور یہ 1857 کے ’غدر‘ سے 40 سال قبل ہوئی تھی اس لیے اسے آزادی کی پہلی جنگ قرار دیا جانا چاہیے۔ لیکن مورخ اس دلیل سے متفق نہیں ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے بھی اڑیسہ، بنگال اور ملک کے دیگر حصوں میں بغاوت ہوئی ہے۔ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹر پريتش آچاریہ کہتے ہیں کہ سیاستدانوں کو اس پر بحث کرنے کے بجائے یہ فیصلہ مورخین پر چھوڑ دینا چاہیے۔

بہر حال اس میں شک نہیں ہے کہ ’پائیک بغاوت‘ پر بی جے ڈی اور بی جے پی کے درمیان جاری رسہ کشی سنہ 2019 میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر ہے۔

دونوں ہی پارٹیاں اوڑيا بہادروں کی کہانی سنا کر لوگوں کا دل جیتنے کی کوشش میں مصروف ہیں اور یہ امید لگائے بیٹھی ہیں کہ آنے والے انتخابات میں وہ اس سے فائدہ حاصل کریں گے۔

اس معاملے بس ابھی یہ کہا جاسکتا ہے کہ بی جے پی نے پہل کی ہے اور ابتدائی برتری حاصل کرلی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں