'اگر باپ خان زادے تھے تو وہ مغل بچی'

ڈاکٹر اسلم پرویز تصویر کے کاپی رائٹ Mirza AB Baig
Image caption ڈاکٹر اسلم پرویز جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں تقریبا 25 برسوں تک استاد رہے

نوے کی دہائی میں جب دہلی میں قائم جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو مجھے ایک استاد پسند آئے اور وہ بھی اس لیے کہ ان میں معروف اداکار دلیپ کمار کی ہلکی سی جھلک آتی تھی اور شاید وہ خود کو اسی انداز میں رکھنے کی بھی کوشش کرتے تھے۔

وہ ہندوستانی زبانوں کے مرکز میں استاد ڈاکٹر اسلم پرویز تھے۔ ہزاروں میل دور سے آ کر ہم ہاسٹل میں رہنے والوں کو سب سے زیادہ تہواروں میں دشواری ہوتی تھی اور ایسے میں جب کوئی دعوت مل جائے تو کیا کہنے۔

عید بقرعید پر پرانی دہلی میں ترکمان گیٹ اور جامع مسجد کے درمیان اسلم صاحب کے گھر پر ہماری دعوتیں ہوتیں اور ضیافت کے ساتھ وہ ہمیں مزے مزے کے قصے سناتے۔ دہلی کے کوچے اوراق مصور تھے تو دہلی کی باتیں دلنشیں۔

ایک دن باتوں باتوں میں انھوں نے تقسیم کا ذکر کر دیا اور پھر میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب یہ پتہ چلا کہ انھیں چھوڑ کر ان کے سارے اہل خانہ پاکستان میں آباد ہیں۔ فلمی کہانیوں کی طرح میرے ذہن میں یہ خیال گذرا کہ ہو نہ ہو اپنی محبت کی خاطر وہ اپنے گھر سے جدا ہو گئے ہوں اور گھر والوں سے علیحدہ ہو کر باقی زندگی دہلی میں ہی گزارنے کا فیصلہ کرلیا ہو۔ ویسے بھی با ذوق آدمی ہیں کون جائے ذوق دلی کی گلیاں چھوڑ کر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تقسیم ہند کے دوران بیشتر مسلم خاندانوں نے دہلی سے نقل مکانی کر لی تھی

بہر حال انھوں نے سرسری بتایا کہ وہ اور ان کے والد تو دہلی رہ گئے اور ان کی والدہ تین بھائیوں اور ہمشیرہ کے ہمراہ پاکستان چلی گئیں۔ والدہ کا خیال تھا کہ یہ دونوں بھی چلے آئیں گے لیکن یہ اپنی دھن کے پکے نکلے۔

انھوں نے دو سال قبل شائع ہونے والی اپنی کتاب 'ہماری دلی' میں اس کا ذکر کیا ہے۔

وہ لکھتے ہیں: 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے بعد جدوجہد آزادی کی سیاسی گرما گرمی کا دور شروع ہوا۔ 1947 میں آزادی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑک اٹھی۔ دلی کے قرول باغ، پہاڑ گنج اور سبزی منڈی کے علاقے مسلمانوں سے یکسر خالی ہو گئے۔ مسلمانوں نے نہ صرف فساد زدہ علاقوں سے ہجرت شروع کر دی بلکہ جو علاقے فساد کی آگ سے محفوظ رہے وہاں سے بھی کثیر آبادی پاکستان کی جانب منتقل ہونی شروع ہو گئی۔

ادھر پاکستان سے ہندو شرنارتھیوں کے قافلے دہلی پہنجنے شروع ہوگئے۔ ہمارے محلے میں ہمارے ہی خاندان کے دس بارہ گھر آباد تھے سب نے پاکستان کا رخ اختیار کیا صرف ہمارے باپ اس بات پر اٹل تھے کہ انھیں ہر حال میں یہیں جینا اور مرنا ہے۔ بزرگوں نے سمجھایا کہ اس کارخانے کو بیچو اور اپنا بوریا بستر یہاں سے اٹھاؤ، انھوں نے کہا: میں کارخانے کی ایک کیل تک نہیں بیچوں گا۔ ہاں کوئی بہت برا وقت آن پڑا تو بے شک اسے جمنا میں لے جا کر غرق کر دوں گا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Mirza AB Baig
Image caption یہاں ڈاکٹر اسلم پرویز کو ہندی کے معروف شاعر پروفیسر کیدار ناتھ سنگھ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

انھوں نے بتایا: '1947 کے ایک سال بعد جب حالات کچھ معمول پر آنے شروع ہوئے تو اینگلو عربک سکول دوبارہ کھلا۔ فساد کے ہنگاموں کا شکار اینگلو عربک سکول کی عمارت بھی ہوئی تھی جس کی ایک خالی پڑی عمارت میں سرکار نے مدراس رجمنٹ کی ایک یونٹ بیٹھا دی تھی تاکہ فساد پر قابو پایا جائے کیونکہ یہ دہلی پولیس کے بس کی بات نہیں رہ گئی تھی۔ 1948 میں مسلمانوں کے اجڑنے کے بعد اینگلو عربک کی صرف ایک ہی شاخ اجمیری دروازے والی عمارت میں کھلی اور ہائر سیکنڈری کے 1948 اور 1949 کے امتحانوں کے نتائج میں اینگلو عربک کا حصہ صفررہا۔ یعنی ان سالوں میں کوئی بھی وہاں پاس نہ ہوا۔ اس کا سبب زیادہ تر تو دلی کے مسلمانوں کی ابتر حالت تھی لیکن کچھ لوگوں کو ان شبہات نے گھیر لیا کہ شاید مسلم دشمنی کے سبب اینگلو عربک کے طلبہ کو دانستہ طور پر فیل کیا گیا۔ لوگوں کو یہ خدشہ ہونے لگا کہ دلی میں اب مسلمانوں کی تعلیم کا کوئی مستقبل نہیں اور بیشتر طلبہ نے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا رخ کیا اس قافلے میں اور خلیق انجم بھی تھے۔ '

خیال رہے کہ خلیق انجم بعد میں اردو کے معروف محقق کہلائے اور اسلم پرویز کی شادی ان کی ہمشیرہ سے ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی کے اجمیری گیٹ کے پاس والی اینگلو عربک سکول کی شاخ ہی جاری رہ سکی باقی دو شاخیں تقسیم ہند کے سبب بند ہو گئيں

انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے: '1947 کے پرآشوب دور کے بعد ہمارے خاندان اور رشتے داروں کے تمام کنبے سمٹ کر پاکستان رخصت ہو گئے۔ ایک ہمارے باپ تھے جو کسی قیمت پر منتقل ہونا نہیں چاہتے تھے۔۔۔ والدہ نے میرے تین چھوٹے بھائیوں کو تو فوراً میری بہن کے پاس کراچی روانہ کریا اور خود اس لیے رکی رہیں کہ میں اس وقت علی گڑھ میں زیر تعلیم تھا۔۔۔ میرا مزاج باپ سے ملتا تھا۔۔۔جب میں علی گڑھ سے لوٹ کر سیدھا باجی (ماں) کے پاس آیا تو انھوں نے میرا پاسپورٹ بنوایا اور مجھے پاکستانی سفارت خانے سے ویزا دلواکر کراچی کے لیے روانہ کر دیا۔

'واہگہ بارڈر سے سرحد پار کرنے کے بعد پہلے ہم لاہور پہنچے۔ یہاں میری سگی خالہ زاد بہن اور سگی پھوپھی پہلے سے ہی آباد ہو چکے تھے۔ ایک ہفتے لاہور میں قیام رہا۔ لاہور کے گلی کوچے اور مشترکہ ہندو مسلم نام، لاہور میں راوی کا نظارہ، اور لاہور میں آ بسنے والے دہلی والوں نے مجھے دہلی کا سا لطف بہم پہنچایا۔۔۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1947 میں دہلی سے مسلمان بڑی تعداد میں ہجرت کر گئے

'باجی کی تمام اولادیں ان کے بندوبست کے مطابق کراچی پہنچ چکی تھیں، ان میں آخری پہنچنے والا میں تھا اور باجی کسی بھی لمحے کراچی پرواز کے لیے پر تول رہی تھیں۔ اس دوران میرے باپ نے میری باجی کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا کہ میری بیوی گوہر سلطان (اسلم پرویز کی امی) نے میرے چاروں بیٹوں کو اغوا کرکے پاکستان روانہ کردیا ہے۔ باجی مقدمے بازی میں باپ کا مقابلہ تو نہیں کر سکتی تھیں وہ تو بس عدالت کی سمن سے پہلے ہندوستان سے نکل جانا چاہتی تھیں جس میں وہ کامیاب ہو گئیں۔ آخر اگر باپ خان زادے تھے تو وہ مغل بچی۔ بہر حال اب دہلی میں محمد اکبر خاں کی نسل کا آخری چشم و چراغ میں یعنی اسلم خاں، عرف محمد اسلم، عرف اسلم پرویز رہ گیا ہوں۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں