کشمیری لڑکا افغان القاعدہ میں کیسے پہنچا؟

کم سن عبداللہ عُمیس گذشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے ننگرہار میں امریکی فوجیوں کی جانب سے کیے گیے ڈرون حملے میں مارا گیا۔

عبداللہ کے والد اعجاز آہنگر سرینگر کے نواکدل علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ ان کی ماں رُقیہ بڈگام کے رہنے والے عسکریت پسند عبدالغنی ڈار عرف عبداللہ غزالی کی بیٹی ہیں۔

17 سالہ عبداللہ کا خاندان جہادی سرگرمیوں میں ملوث رہا ہے اور وہ اس خاندان میں تیسری نسل کے عسکریت پسند تھے۔

عبداللہ کے والد اعجاز یہاں مسلح شُورش کے آغاز میں مسلح گروپ حرکت الانصار کے ساتھ وابستہ تھے۔ جیل میں ان کی ملاقات اُس وقت کے سرکردہ عسکری کمانڈر عبداللہ غزالی کے ساتھ ہوئی۔

غزالی کہتے ہیں کہ دونوں میں دوستی ہوگئی اور جیل سے رہائی کے فوراً بعد 1995 میں انھوں نے اپنی بیٹی رُقیہ کا نکاح اعجاز سے کرایا۔ شادی کے ایک سال بعد ہی اعجاز اور رقیہ نیپال کے راستے پاکستان چلے گئے، جہاں وہ اسلام آباد میں کئی سال تک مقیم رہے۔

سنہ 2004 میں رقیہ اپنے بڑے بیٹے عبداللہ عمیس کے ہمراہ کشمیر آئیں، لیکن انہیں کئی برس تک واپس جانے کی اجازت نہیں ملی۔

اس دوران امریکی دباؤ کے تحت پاکستان نے ملک کے اندر القاعدہ کے حامی عناصر کے خلاف آپریشن تیز کردیا تھا اور اعجاز اسلام آباد چھوڑ کر وزیرستان چلے گئے، جہاں انھوں نے ایک اور نکاح کرلیا۔

بعد میں رقیہ بھی بیٹے عبداللہ عمیس سمیت نیپال کے راستے پاکستان پہنچیں۔ وزیرستان میں بھی آپریشن شروع ہوا تو اعجاز اپنی دو بیویوں اور بچوں سمیت افغانستان چلا گیا۔ جہاں یہ خاندان القاعدہ کے ساتھ پوری طرح وابستہ ہو گئے۔

عبداللہ غزالی نے بی بی سی کو بتایا کہ’اعجاز اپنے تمام اہل خانہ سمیت جہاد میں شامل ہے۔ مجھے جب عبداللہ کی شہادت کی خبر ملی تو میں نے لوگوں سے کہا تعزیت کے لیے نہ آئیں، کیونکہ یہ خوشی کی بات ہے۔‘

یہ پوچھنے پر کہ کیا اعجاز اور ان کے اہل خانہ صحیح راستے پر ہیں غزالی کہتے ہیں: ’یہ نیت کا معاملہ ہے۔ بظاہر یہ غلط راستہ ہے، لیکن اعجاز کو میں جانتا ہوں، وہ خدا دوست آدمی ہے۔ انھوں نے جس راستے کو ٹھیک سمجھا چن لیا اور پھر وہ اپنے پورے خاندان سمیت اس میں سرگرم رہے۔‘

غزالی کہتے ہیں کہ عبداللہ عمیس بچپن سے ہی شدت پسند مزاج رکھتے تھے۔ ’2004 میں عبداللہ اپنی ماں رقیہ کے ساتھ یہاں آئے۔ ان کی عمر پانچ سال تھی۔ وہ فوجی گاڑیوں کو دیکھ کر چیختے تھے اور کہتے تھے کہ فوجی ہمارے راستوں پر کیوں چلتے ہیں۔‘

فی الوقت اعجاز دو بیویوں اور باقی پانچ بچوں کے ساتھ افغانستان میں القاعدہ کے ساتھ وابستہ ہیں۔

کسی کشمیری عسکریت پسند کا افغانستان میں القاعدہ کے تحت امریکہ مخالف مزاحمت میں سرگرم ہونے کا یہ انکشاف ایسے وقت ہوا ہے جب کشمیر میں ’انصارالغزواۃ الہند‘ نامی ایک مسلح تنظیم نے اپنی موجودگی اور سرگرمیوں کا اعلان کیا ہے۔

تنظیم نے حزب المجاہدین کے ناراض کمانڈر ذاکر موسیٰ کو انصار کا چیف مقرر کیا ہے تاہم ذاکر کی طرف سے ابھی تک اس کی توثیق نہیں ہوئی ہے۔

پاکستان میں مقیم مسلح کشمیری لیڈروں اور یہاں کی علیحدگی پسند قیادت نے القاعدہ یا داعش کی موجودگی کو مفروضہ قرار دے کر کہا ہے کہ ’کشمیریوں کا کوئی عالمی ایجنڈا نہیں ہے، یہاں کی تحریک حق خود ارادیت کی تحریک ہے اور یہاں کی مسلح مزاحمت فوجی قبضے کے خلاف ہے۔‘

اسی بارے میں