’ماؤنٹ بیٹن کی وجہ سے ہزاروں کی جانیں گئیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
فیروزپور کی کہانی: آخری وقت پر کیوں بدلی پنجاب کی لکیر؟

یہ کہانی 70 برس پرانی ہے۔ جب یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ ہندوستان تقسیم ہو گا اور پاکستان وجود میں آئے گا۔

ہندوستان کی تقسیم ہو گی، کون سا حصہ ہندوستان میں رہے گا اور کون سا پاکستان کے حصے میں جائے گا، یہ طے کرنے کی ذمہ داری برطانوی وکیل سرل ریڈکلف کو دی گئی تھی۔

سرل ریڈکلف متحد ہندوستان کے نقشے پر پنجاب کے بٹوارے کی لکیر کھینچ چکے تھے۔ کچھ ہی دن بعد اس وقت ہندوستان میں تعینات وائسرائے ماؤنٹ بیٹن نے سرل ریڈکلف کو اپنے گھر ظہرانے پر بلایا۔

’تقسیم کے زخم کی چبھن 70 برس بعد بھی کم نہ ہو سکی‘

کھانے کی میز پر دونوں کے درمیان پنجاب کے بارے میں تفصیلی بات چیت ہوئی جس نے پنجاب کے کئی اضلاع کی تقدیر ہی بدل دی۔ اس گفتگو میں جن اضلاع کے بارے میں بات کی گئی ان میں ایک فیروزپور بھی تھا۔

Image caption مینا بی بی اور رام پال شوری

لندن میں برٹش لائبریری میں مجھے سرل ریڈکلف کے پرائیویٹ سیکرٹری کرسٹوفر بومنٹ کا 1992 میں دی ٹیلی گراف کے لیے لکھا گیا ایک مضمون ملا جس میں انھوں نے ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن کی اس ملاقات کا ذکر کیا ہے۔

کرسٹوفر بومنٹ کے مطابق ریڈکلف نے پنجاب کی سرحد کا جو نقشہ بنایا تھا اس میں فیروزپور پاکستان کو دیا گیا تھا لیکن آخری لمحے میں ماؤنٹ بیٹن کے کہنے پر فیروزپور ہندوستان کےحوالے کر دیا گیا۔

کرسٹوفر بومنٹ کے بیٹے رابرٹ بومنٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے والد ماؤنٹ بیٹن سے نفرت کرتے تھے۔

رابرٹ بومنٹ کے مطابق ان کے والد کا خیال تھا کہ پنجاب کے سانحے کی ذمہ داری ماؤنٹ بیٹن کو لینی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ 'میرے والد بٹوارے کی لکیر بدلنے کے فیصلے سے کافی پریشان تھے کیونکہ لکیر کا فیصلہ تو پہلے ہو ہی چکا تھا۔ دستاویزات پنجاب کے اس وقت کے گورنر ایون جنکنز کو دے دی گئی تھیں اور سب کو پتہ تھا کہ لکیر کہاں بننے والی ہے۔

’انھیں اس بات پر حیرانی تھی کہ ماؤنٹ بیٹن نہرو کے دباؤ میں آ گئے، جس کی وجہ سے ہزاروں معصوموں کی جانیں گئیں۔ میرے والد کو پتہ تھا کہ بٹوارے کا نتیجہ برا ہو گا۔ لیکن آخری پل میں ہونے والے فیصلے نے حالات بدتر کر دیے۔‘

اس سانحے کو قریب سے دیکھنے والے دو لوگوں مینا بی بی اور رام پال شوری سے بی بی سی نے بات کی۔ یہ دونوں ان ہزاروں افراد میں شامل تھے جن کی زندگی سرل ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن کے ایک چھوٹے سے فیصلے نے بدل ڈالی۔

100 برس کی مینا بی بی بٹوارے سے پہلے فیروزپور میں رہتی تھیں۔ تقسیم سے ایک روز پہلے انھیں معلوم ہوا کہ انھیں فیروز پور چھوڑ کر پاکستان جانا پڑے گا۔ مینا بی بی اب پاکستان کے علاقے بورے والا میں رہتی ہیں۔

تقسیم کے دوران ان کے خاندان کے 19 لوگ مارے گئے تھے مگر مینا بی بی اپنے شوہر اور دو بچوں کے ساتھ پاکستان پہنچنے میں کامیاب رہیں۔

وہ کہتی ہیں: 'ہم سب کچھ چھوڑ کر آ گئے۔ بس اپنی جان بچائی اور آ گئے۔ میرے ماں باپ مجھے قصور میں ملے اور میرے والد نے صرف ایک صافہ پہنا ہوا تھا۔ ان کے پاس کرتا بھی نہیں تھا۔

’میرے پاس کپڑوں کا ایک ٹرنک تھا، توبہ میری توبہ اس میں سے میں نے کسی کو شلوار دی، کسی کو کرتی دی۔‘

فیروز پور میں رہنے والے رام پال شوری بٹوارے کے وقت 13 یا 14 برس کے تھے۔ انھیں اپنا ملک تو نہیں چھوڑنا پڑا لیکن اپنے دوستوں اور عزیزوں کو کھونے کا غم انھیں آج بھی ہے۔

شوری کہتے ہیں کہ وہ نہیں جانتے کہ ان کے دوستوں کا کیا ہوا۔ انھیں اپنے ایک استاد یاد ہیں جن کا نام عبدالمجید تھا۔

شوری بتاتے ہیں کہ وہ بھیس بدل کر پاکستان پہنچے تھے۔ 'وہ ہندوؤں کا حلیہ اپنا کر نکلے۔ کسی نے ہمیں بتایا کہ انھوں نے اپنی مونچھیں بھی صاف کر لی تھیں۔'

شوری اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور سے آنے والی ٹرینیں بھی لاشوں اور زخمیوں سے بھری ہوئی ہوتی تھیں۔

'کسی کے ہاتھ کٹے ہوئے تھے تو کسی کا سر زخمی تھا۔ ایسا حال تھا جیسے لوگ انسانیت سے نیچے گر گئے ہوں۔'

سیئرل ریڈکلف اور ماؤنٹ بیٹن کے ایک چھوٹے سے فیصلے سے صرف مینا بی بی اور رام پال شوری کی ہی نہیں بلکہ ایسی ہزاروں زندگیاں تبدیل کر ڈالیں، اور اس کے زخم 70 سال بعد بھی تازہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں