کشمیر میں تین فوجیوں اور دو شدت پسندوں سمیت پانچ ہلاک

انڈیا، کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں مسلح شدت پسندوں نے انڈین فوج پر گھات لگا کر میجر کملیش پانڈے، سپاہی تینزن چونتین اور سپاہی کرپال سنگھ کو ہلاک کر دیا ہے۔

فوجی ترجمان کے مطابق حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تاہم انھیں تلاش کرنے کے لیے وسیع علاقے کا محاصرہ کیا گیا ہے۔

مسلح گروپ حزب المجاہدین نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی جبکہ فوجی ترجمان راجیش کالیا نے فوجی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی۔

کشمیر: محصور شدت پسندوں کو 'بچاتے ہوئے' تین نوجوان ہلاک

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری احتجاجی تحریک میں اب تک 101 ہلاک، ہزاروں زخمی

کشمیر: تشدد میں اضافہ، تازہ جھڑپ میں ہلاکتیں

اس دوران فوج کا کہنا ہے کہ شوپیان کے پڑوسی ضلع کولگام میں دو شدت پسندوں کو ہلاک کیا گیا۔

منگل کو بھی پلوامہ کے ہاکری پورہ علاقے میں لشکر طیبہ کے معروف کمانڈر ابودوجانہ کو ساتھی عارف لیلہار سمیت ایک طویل تصادم میں ہلاک کیا گیا۔ اس ہلاکت کے بعد وادی بھر میں طلبہ و طالبات نے مظاہرے کیے جس کے بعد بدھ کو تعلیمی اداروں کو بند اور انٹرنیٹ کو معطل کر دیا گیا۔ تاہم بدھ کی رات سے ہی کم از کم نصف درجن علاقوں میں آپریشن شروع کیا گیا جس کے دوران کولگام کا تصادم ہوا۔

واضح رہے گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کے معروف مسلح کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں احتجاجی لہر پھیل گئی تھی جسے دبانے کے لیے پولیس اور فورسز کی کاروائیوں میں اب تک 100سے زیادہ افراد مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہو گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے اب تک 115 لڑکے روپوش ہو کر مسلح تنظیموں لشکر طیبہ اور حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے ہیں۔ چونکہ پاکستان کی طرف سے ہتھیاروں کی فراہمی کئی برس سے معطل ہے، یہ لڑکے پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کے ہتھیار چھین کر جنگلوں میں پناہ لیتے ہیں۔

گذشتہ مارچ میں جب عسکریت پسندی کی نئی لہر کے خلاف فوجی آپریشن شروع کیا گیا تو محاصرے میں پھنسے مقامی شدت پسندوں کو بچانے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد تصادم کے عین قریب مظاہرے کرتی تھی۔

حکومتی اپیلوں کے باوجود یہ سلسلہ نہیں رکا تو انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اعلان کیا کہ محصور شدت پسندوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والے بھی فوج کے نزدیک شدت پسند ہیں۔ اس کے بعد محصور شدت پسندوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف فوج کا رویہ سخت ہو گیا اور گذشتہ سات ماہ کے دوران تصادموں کی جگہ مارے گئے مظاہرین کی تعداد بھی 30 سے تجاوز کر چکی ہے۔

فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کشمیر سے 'عسکریت پسندی کا صفایا' کرنے کا جو آپریشن اس سال پانچ جنوری سے شروع کیا گیا اس میں اب تک سبزار، جنید، بشیر لشکر اور ابودوجانہ نامی اعلیٰ کمانڈروں سمیت 141 شدت پسند مارے گئے۔ تاہم اسی مدت کے دوران لائن آف کنٹرول پر شیلنگ اور مختلف مسلح حملوں میں مارے گئے فوجیوں، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کی تعداد 43 بتائی جاتی ہے۔

دوماہ قبل سرگرم شدت پسندوں کی جو 'ہٹ لسٹ' فوج نے جاری کی تھی ان میں سے اب ذاکر موسیٰ، زینت الاسلام، زبیرالاسلام اور ریاض نائیکو سمیت نصف درجن سے زیادہ شدت پسند اب بھی سرگرم ہیں۔

واضح رہے منگل کو مارے گئے لشکر طیبہ کمانڈر ابودوجانہ کی جگہ پہلے ہی ابواسماعیل نامی پاکستانی شدت پسند کو کمانڈر مقرر کیا گیا تھا۔

اس دوران فوج کی 15 ویں کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جے ایس ساندھو اور پولیس کے سربراہ منیر خان نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اعلان کیا کہ عوامی مظاہروں کے باوجود 'آخری شدت پسند کی موجودگی تک آپریشن جاری رہے گا۔'

فوج اور پولیس افسران کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف گذشتہ 25 برس میں یہ اپنی نوعیت کا سب سے وسیع اور بڑا آپریشن ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں