روبوٹکس مقابلے میں شرکت کرنے والی افغان طالبہ کے والد ہلاک

فاطمہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فاطمہ اپنے والد محمد آصف قادریان کے ہمراہ

افغانستان کے شہر ہرات میں ایک مسجد میں ہونے والے حملے میں امریکہ میں روبوٹکس مقابلے میں شرکت کرنے والی طالبہ کے والد بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

طالبہ کے والد کی ہلاکت کی تصدیق ان کے خاندان نے کی ہے۔

14 سالہ فاطمہ قادریان کے والد محمد آصف قادریان منگل کو ہونے والے اس حملے میں زخمی ہو گئے تھے اور بعد میں چل بسے تھے۔

فاطمہ افغان لڑکیوں کی اس ٹیم کی سربراہ تھیں جنھوں نے گذشتہ ماہ روبوٹکس کے بین الاقوامی مقابلے میں شرکت کی تھی۔

چھ رکنی ٹیم کو ابتدائی طور پر امریکہ کا ویزا جاری نہیں کیا گیا تھا تاہم بعدازاں صدر ٹرمپ کی مداخلت کے بعد انھیں ویزا دے دیا گیا۔

فاطمہ کے بڑے بھائی محمد رضا نے خبررساں دارے اے ایف پی کو بتایا: 'ہم سب تباہ حال ہیں۔'

انھوں نے بتایا: 'جب سے یہ واقعہ ہوا ہے فاطمہ نے کچھ کھایا ہے نہ بات کی ہے اور وہ سکتے کی حالت میں ہیں۔ آج وہ کئی مرتبہ بےہوش ہو گئیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ہرات میں شیعہ مسلمانوں کی جوادیہ مسجد پر ہونے والے حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے

خیال رہے کہ واشنگٹن میں روبوٹکس مقابلے میں شرکت کے لیے ان کی ویزے کے درخواست مسترد ہونے کے بعد فاطمہ نے ایک جذباتی اپیل کی تھی۔

اس وقت انھوں نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ 'ہم امریکہ میں امن کا پیغام لے کر جانا چاہتے ہیں اور یہ بتانا چاہتے ہیں افغانستان صرف جنگ کا ملک نہیں ہے، یہاں وہ لڑکیاں بھی ہیں جو تعلیم اور روبوٹس کے خواب دیکھتی ہیں۔'

امریکی حکام کی جانب سے ویزا مسترد کیے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی تھی، تاہم خیال رہے کہ افغانستان ان مسلم اکثریتی ممالک میں شامل نہیں جن کے شہریوں کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق صدر ٹرمپ نے انتظامیہ کے اس فیصلے پر نظرثانی کا حکم دیا تھا۔

ان لڑکیوں نے واشنگٹن میں اس مقابلے میں شرکت کی اور چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔

واضح رہے کہ ہرات میں شیعہ مسلمانوں کی جوادیہ مسجد پر ہونے والے حملے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں