انڈین مسلمان بھی لنچنگ ماب لیے پھر رہے ہیں

مسلمان ہجوم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلمانوں کے شدید احتجاج پر تسلیمہ نسرین کو کولکتہ چھوڑنا پڑا

بنگلہ دیش کی متنازع مصنفہ تسلیمہ نسرین کو گذشتہ دنوں مسلمانوں کے ہجومی حملے کے خدشے کے پیش نظر اورنگ آباد کا اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا اور وہ دھمکیوں کے بعد ہوائی اڈے سے باہر نکلے بغیر ممبئی چلی گئیں۔ تسلیمہ نسرین سیاحتی مقام اجنتا اور ایلورہ کے غاروں اور دوسری تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کے لیے مہاراشٹر کے شہر اورنگاباد گئی تھیں۔

ان کی آمد کی خبر پھیلتے ہی مجلس اتحاد المسلیمن کے مقامی رکن اسمبلی کی قیادت میں ان کے حامی اورنگ باد کے اس ہوٹل کے باہر جمع ہو کر نعرے لگانے لگے جہاں تسلیمہ نسرین قیام کرنے والی تھیں۔ مسلمانوں کے ہجوم نے ہوائی اڈے کے باہر بھی ’تسلیمہ گو بیک ‘ کے نعرے لگائے ۔ پولیس نے تشدد کے اندیشے کے پیش نظر تسلیمہ کو ہوائی اڈے سے ہی ممبئی بھیج دیا۔

اتحاد المسلیمن کے حامیوں نے کچھ عرصے قبل حیدرآباد میں ایک کتاب کے اجرا کے دوران انڈیا میں پناہ گزیں مصنفہ پر حملہ کیا تھا۔ تسلیمـہ پیشے سے ڈاکٹر ہیں۔ 1992 میں بابری مسجد کے انہدام کے ردعمل میں شدت پسند مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں ہندوؤں کے درجنوں مندروں کو تباہ کر دیا تھا۔

تسلیمہ نے اپنے ملک میں ہندوؤں اور بدھ اقلیت پر ہونے والے مظالم اور تفریق کے خلاف آواز اٹھائی ۔ انہوں نے اسلام کی قدامت پسند تشریح پر شدید نکتہ چینی کی اور اسلام کے بعض پہلوؤں پر تنقید کی تھی ۔ ان کی کتاب ''لجا'' پر پابندی لگنے کے بعد انہیں 1994 میں بنگلہ دیش سے ہجرت کے لیے مجبور ہونا پڑا۔

وہ کئی برس تک یورپ اور امریکہ میں مقیم رہیں۔ 2005 میں وہ انڈیا منتقل ہوگئیں جہاں انہوں نے بنگال کو اپنا مسکن بنایا ۔ لیکن ایک اخبار نے 2007 میں جیسے ہی ان کی سوانح حیات ''دوئی کھنڈتو ‘ کے اقتباسات شا‏ئع کرنے شروع کیے تو کولکتہ میں سخت گیر مسلمانوں کے ہجوم نے تسلیمہ نسرین کے خلاف احتجاج میں فساد برپا کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 2007 میں کولکتہ میں تسلیمہ نسرین کے خلاف احتجاج کو روکنے کے لیے فوج کو بلانا پڑا تھا

فسادیوں نے شہر کے کئی حصے کو محصور کر لیا۔ یہ سخت گیر مذہبی فسادی تسلیمہ کو بنگال سے نکالنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اپنی اعتدال پسندی ، رواداری اور اظہار کی آزادی کے لیے مشہور کولکتہ شہرکئی روز تک سخت گیر مسلمانوں کے ہجوم کا یر غمال بنا رہا۔ شہر کو فسادیوں سے بچانے کے لیے فوج اتارنی پڑی تھی۔ انتہا پسند اور سخت گیر مسلم تنظیموں کے دباؤ اور ووٹ بینک کی سیاست کے پیش نظر تسلیمہ نسرین کو 2008 میں بنگال چھوڑنا پڑا ، اس کے بعد سے وہ اپنے پسندیدہ شہر نہیں جا سکی ہیں۔ پچھلے دس برس سے مسلمانوں کا ہجوم ان کا تعاقب کر رہا ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تسلیمہ نسرین کی سوانح عمری کی اشاعت کے بعد مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا تھا

اس میں کوئی دور رائے نہیں کہ اسلام کے بارے میں کئی دوسرے دانشوروں اور مصنفوں کی طرح تسلیمہ نسرین کے تصورات انتہائی سخت اور اکثر ہتک آمیز ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص کسی مذہب کے بارے میں کوئی ہتک آمیز تصور یا رائے رکھتا ہے تو کیا ااسے اس کے اظہار کا حق حاصل نہیں ہے۔ یہ ایک بحث طلب سوال ہے ۔ یورپ اور امریکہ کی پرانی جمہوریتوں میں تو ان سوالوں کو عشروں پہلے حل کر لیا گیا تھا ۔ لیکن بھارت جیسی ابھرتی ہوئی جمہوریت میں مذہب کے فیصلے اب بھی ہجومی نفسیا ت کی گرفت میں ہیں اور مملکت اور اس کے ادارے کوئی فیصلہ کن پوزیش لینے سے دامن بچاتے آئے ہیں ۔

پچھلے کچھ عرصے سے انڈیا میں ہجومی تشدد کا بول بالا ہے۔ ہجوم کا استعمال بیشتر مذہب کے نام پر سیاسی مفاد کے حصول کے لیے ہوتا ہے ۔ لیکن کسی ملک میں جب ہجوم سڑکوں پر اجتماعی تشدد کے ذریعے عوام اور فرد کو دہشت زدہ کرنے لگے اور ملک کے ادارے خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہوں تو پھر یہ جمہورت پسندوں کے لیے تشویش کا لمحہ ہے۔

کیا یہ بات سوچنے کی نہیں ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں اکیسویں صدی میں کسی شخص کو اپنے خیالات کے سبب جنونی ہجوم کے خوف سے اپنی زندگی روپوشی اور گمنامی میں گزانی پڑے ۔ تسلیمہ نسرین کو ہجومی نشانہ بنا کر مسلمانون کی یہ سخت گیر تنطیمیں اور فسادی ہجوم صرف اسلام کی رواداری اور فہم کو ہی شرمسار نہیں کر رہے وہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کی بھی بے حرمتی کر رہے ہیں۔