انڈیا میں اچاری کونڈوم کی فروخت پر سوشل میڈیا پر تنقید

کنڈوم تصویر کے کاپی رائٹ MANFORCE CONDOMS
Image caption اس کے اشتہار میں لکھا ہے کہ یہ پراٹھا اور اچار پسند کرنے والوں کے لیے ہے

ایک انڈین کمپنی نے اچار کے ذائقے اور بو والا کونڈوم بازار میں لانچ کیا ہے۔

فلیورڈ کونڈوم کی سیریز میں، مین فورس کی جانب سے لائی جانے والی اس نئی مصنوعات کو صارفین کو متوجہ کرنے کا ایک طریقہ کہا جا رہا ہے۔

اس سے پہلے ایک دوسری کمپنی ڈيوریكس 'بیگن فلیور' والے کونڈوم لانچ کر چکی ہے۔ یہ کمپنی، سٹرابیری اور کیلے جیسے روایتی والے کونڈوم بھی پیش کر چکی ہے۔

٭ ’ہم محبت کو سرمایہ نہیں بننے دیں گے‘

٭ منشیات، بندوق، تنخواہ اور امریکی ووٹرز

چونکہ اچار انڈین کیٹرنگ کا ایک اہم جز ہوتا ہے اور مختلف علاقوں میں مختلف طرح کے اچار بنائے جاتے ہیں، اس لیے اسے عام طور پر رومانس کی علامت نہیں سمجھا جاتا ہے۔

لہٰذا سوشل میڈیا پر بہت سے لوگوں نے اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیاہے۔

اچاري فلیور والے کونڈوم کا مذاق اڑاتے ہوئے ٹوئٹر صارف جويا نے لکھا: 'مین فورس کونڈوم کے ایک نئے فلور کے ساتھ بازار میں لانچ ہوا ہے، اچاری۔ مین فورس، تم کیا ہو، ہماری دادی نانی؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption کونڈوم پر بعض لوگوں نے اپنے انداز میں تنقید کی ہے

ایک دوسرے ٹوئٹر صارف کاجول شری نواسن نے مشہور انڈین باورچی سنجیو کپور کی کھانا بناتے ہوئے تصویر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا: 'اور اس دوران، مین فورس کونڈوم کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ لیبارٹری کو دیکھیں۔۔۔'

تو کیا بھارت واقعی اچار فلیور والے کونڈوم کے لیے تیار ہے؟

'گرے ایڈ ایجنسی' کے سربراہ سنیل لولا نے بی بی سی کو بتایا: 'مارکیٹنگ کی ایسی کوششوں سے کمپنیاں صارفین کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے اور یہ تو صرف کمپنیاں ہی بتا سکتی ہیں کہ ایسی کوششوں سے مصنوعات کی فروخت پر کتنا اثر ہوتا ہے۔'

وہ مزید کہتے ہیں: 'اگر یہ کوشش انڈیا میں جنسی تجربات کو پھیلاتی ہے اور محفوظ جنسی تعلقات کے متعلق بات چیت کو فروغ دیتی ہے تو ایسے کوششوں کی تعریف کی جانی چاہیے۔'

جبکہ صحافی راجيشوري سین نے بی بی سی کو بتایا: 'مجھے لگتا ہے کہ مین فورس نے اس مہم کو بے حد سمجھداری کے ساتھ لانچ کیا ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ کمپنی اپنے گاہکوں کو سمجھتی ہے۔'

ان کے مطابق، ایسا نہیں لگتا ہے کہ اس مہم کو اعلی طبقے کو ذہن میں رکھ کر لانچ کیا گیا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کمپنی کس اچار کی بات کر رہی ہے؟ نیبو یا مرچي اچار؟ اور، یہ کمپنی اس فلیور کو کیسے جانتی ہے جسے ہر ہندوستانی پسند کرے گا؟ کیا اس کمپنی نے یہاں تک سوچا ہے؟'

سین کہتی ہیں کہ ذاتی طور پر وہ کبھی بھی اس فلیور والے کونڈوم کو استعمال کرنے پر غور نہیں کریں گی، لیکن، انھیں لگتا ہے کہ کچھ حصوں میں، جیسے کہ دہلی کے سٹوڈنٹس کے درمیان یہ اپنی جگہ بنا سکتا ہے۔

وہ کہتی ہیں: 'میں یہ امید کرتی ہوں کہ اس میں سرکہ کا استعمال نہ ہو، کیونکہ اس کی وجہ سے مزید مشکلات کھڑی ہو جائیں گی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں