انڈیا چین تنازع، اقوام عالم کی دلچسپی

چین اور انڈیا کی سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بھوٹان میں انڈیا اور چین کی سرحد ڈوکلام پر کشیدگی جاری ہے

انڈیا اور چین کے درمیان ڈوكلام سرحد پر جاری تعطل میں ایشیا کے بہت سے ممالک کی میڈیا کی دلچسپی نظر آتی ہے جس میں جاپان پیش پیش ہے۔

جاپانی میڈیا بھی اس تعطل پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ جاپان کے نیکیئی ایشین ریویو نے انڈیا-چین کشیدگی پر ایک رپورٹ شائع کی ہے۔

٭ انڈیا،چین تنازع: کب کیا ہوا؟

٭ 'چین انڈیا کو شکست نہیں دے سکتا'

نیکیئی نے لکھا ہے کہ دونوں ممالک میں فوجی کشیدگی کے درمیان اندھی قوم پرستی کا سا ماحول ہے۔ نیکیئی کے مطابق اس کشیدگی کا اثر چینی صدر شی جن پنگ کی اس کوشش پر بھی پڑے گا جو پھر سے اقتدار پر قابض ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔

گزشتہ اتوار کو چین نے اندرونی منگولیا کے خود مختار علاقے میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے 90 سالہ جشن کے موقعے وسیع فوجی پریڈ کا انعقاد کیا تھا۔

پی ایل اے کی اصل 90 ویں سالگرہ منگل کو تھی۔ نیکیئی کے مطابق چینی آرمی ڈے کے موقعے پر وہاں کے انٹرنیٹ صارفین کے درمیان انڈیا کے خلاف پی ایل اے کے دفاعی انداز کی وجہ سے مایوسی تھی۔

نیکیئی کے مطابق ایک چینی پوسٹر پر لکھا تھا: 'بیجنگ پر ویسے بھی قبضہ ہونے جا رہا ہے۔ ہم لوگوں کے پاس انڈین بننے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین عسکری لحاظ سے اہم سڑک کی تعمیر کر رہا ہے

انڈیا-چین کشیدگی پر جاپان ٹائمز نے بھی رپورٹ شائع کی ہے۔ جاپان ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھوٹان دنیا کے سب سے چھوٹے ممالک میں سے ایک ہے اور چین اس کی سرحد سے چھیڑچھاڑ کر رہا ہے۔ جاپان ٹائمز نے لکھا ہے کہ چین اس علاقے میں فوجی اہمیت کی حامل سڑک بنا رہا ہے۔

جاپان ٹائمز نے لکھا: 'انڈیا اور بھوٹان کے درمیان سیکورٹی معاہدے ہیں اور اسی معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے فوجی آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ اس صورت میں چینی سرکاری میڈیا انڈیا کو جنگ کی دھمکی دے رہا ہے۔ چین جس طریقے سے اپنی توسیع کر رہا ہے ایسے میں بھوٹان جیسے چھوٹے ملک کے لیے اپنی بات رکھنا آسان نہیں ہے۔'

برسوں کی قوم پرستی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption چین بظاہر انڈیا کے خلاف محتاط نظر آ رہا ہے

نیکیئی نے لکھا: 'اس بار انڈیا کے ساتھ کشیدہ ماحول میں چین کا رخ جارحانہ نہیں ہے۔ چین کے انٹرنیٹ صارف کے پوسٹ سے یہ واضح ہے کہ ان کا ملک اس وقت جارحانہ نہیں ہے۔ گذشتہ ایک ماہ سے قوم پرست چینی انٹرنیٹ صارفین کو یہ محسوس ہو رہا ہے کہ ان کا ملک انڈیا سے ڈر گیا ہے۔ گذشتہ 20 سالوں کی چین کی پالیسی کو دیکھا جائے تو یہ قوم پرستی کے اردگرد رہی ہے۔'

نیکیئی نے لکھا: 'چینی صدر اکثر قوم پرستی کی بات دہراتے ہیں۔ چین کے ساتھ مشرقی اور جنوبی بحیرۂ چین میں بھی تنازعات اور اختلافات ہیں۔ چین نے واضح اشارہ دیا ہے کہ وہ اہم علاقائی مفادات کے تحت اپنا قدم پیچھے نہیں كھينچےگا۔ ایسے ماحول میں انڈین فوج کے خلاف پی ایل اے کا قدم پیچھے کھینچنا شدید سیاسی غلط فہمی ہو سکتی ہے۔'

اخبار نے مزید لکھا: 'ابھی انڈیا کے خلاف چین جنگ کا متحمل نہیں ہوسکتا ہے۔ اگر چین ایک محدود مہم میں جیت بھی حاصل کر لیتا ہے تو بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس میں مداخلت کی جائے گی۔ اس کے بعد یہ مضبوط پیغام جائے گا کہ چین پرامن طریقے سے عالمی طاقت نہیں بن رہا ہے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں