ایرانی ارکانِ پارلیمان کی ’عجیب و غریب‘ حرکت

ایرانی پارلیمان میں موگرینی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک صارف نے لکھا ہے کہ اراکین پارلیمان نے 'ملک و قوم کو سرمشار' کیا ہے

ایران کے صدر حسن روحانی کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کی تقریب میں یورپی یونین کی اعلی عہدیدار فریڈریکا موگرینی بھی شامل تھیں جہاں انھیں اراکین پارلیمان کی جانب سے 'عجیب' سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔

میڈیا میں سامنے آنے والی تصاویر سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے مرد اراکان پارلیمان نے فریڈریکا موگرینی کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے انھیں گھیر رکھا ہے۔

٭ ایران میں حجاب پہننے کا فیصلہ درست تھا: سویڈن

٭ ایران:’جسم فروشی پھیلانے‘ کے الزام میں 12 افراد کو سزا

سوشل میڈیا میں اراکین پارلیمان کے اس برتاؤ پر سخت تنقید ہو رہی ہے۔ کئی سوشل میڈیا صارفین نے ان کے برتاؤ کو 'اشتعال انگیز' قرار دیتے ہوئے ان کی تنقید کی۔

خبر رساں ایجنسی فارس نے ایک تصویر پوسٹ کی ہے اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے اسے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ موگرینی اس سے قطعی متاثر نظر نہیں آ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پارلیمان میں رونما ہونے والے واقعے کا فلم ملینا کے ایک منظر سے مقابلہ کیا گیا

سوشل میڈیا میں اراکین پارلیمان کی حرکت کو 'عجیب و غریب' بتایا گیا ہے۔

رکن پارلیمان علی رضا سلیمی نے اراکین پارلیمان کی حرکت کو 'مغرب کے سامنے خود سپردگی' قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر دوسرے رہنما سیلفی لینے کے اس واقعے کو پارلیمانی 'توہین' کے طور پر اس کی شکایت کرتے ہیں تو ایک کمیٹی اس واقعہ کی تحقیقات کر سکتی ہے۔

سلیمی کے مطابق ’ارکان پارلیمنٹ کا رویہ مغربی ملک کی ایک اعلیٰ افسر کی چاپلوسی جیسا ہے۔‘

ٹو‏ئٹر پر اراکین پارلیمان کی تصویر کی فلم 'ملینا' کے ایک منظر سے موازنہ کیا گیا ہے جہاں اداکارہ مونیکا بیلوچی کی سگریٹ جلانے کے لیے مردوں کی بھیڑ آگے بڑھتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Instagram
Image caption اس تصویر میں ایران اور عرب کا موازنہ نظر آتا ہے

متنازع تصویر میں نظر آنے والے اراکین پارلیمان میں سے ایک احمد مزانی نے موگرینی تک پہنچنے کے مقابلے کے متعلق ٹوئٹر پر یہ معلومات دی ہے کہ تقریب میں شرکت کرنے والے مہمانان خصوصی سے بات چیت کرنے کی ممانعت تھی۔

بہر حال اس ٹویٹ کے بعد بھی ٹوئٹر پر تنقید کا دور جاری ہے۔ ایک ٹو‏ئٹر صارف نے لکھا کہ اراکین پارلیمان نے 'ملک کو شرمندہ کیا ہے۔'

صدر کے ثقافتی مشیر حسام آشنا کا کہنا ہے کہ 'یہ سیاسی کے بجائے ثقافتی مسئلہ ہے۔ سیلفی میں نظر آنے والے ہر ایک رکن پارلیمنٹ سے سنجیدگی سے سوال کیے جانے چاہیے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption موگرینی نے ایران اور یورپی یونین کے تعلقات کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے

سابق صدر محمد خاتمی کے ایک مشیر صادق خرازی نے یہ تجویز دی ہے کہ تمام ایم پی کو آفاقی اخلاقی قدروں اور لوگوں سے ملنے جلنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔

خیال رہے کہ موگرینی نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد یورپی یونین اور ایران کے درمیان قریبی تعلقات بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایرانی دورے کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے لیکن اس میں اس تنازع کا ذکر نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں