انڈیا: ’میری بیٹی کا کیس کیوں اچھال رہے ہیں؟‘

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ iStock

ریپ کی وجہ سے حاملہ ہونے والی 10 برس کی بچی اس بارے میں بہت کم جانتی ہے کہ کچھ ہفتوں سے اس کی کہانی خبروں کی شہ سرخیوں میں ہے۔

اسے تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ اسے کس مشکل کا سامنا ہے۔ میں اس کی کہانی جاننے کے لیے چندی گڑھ گئیں۔

وہ ایک خوش باش بچی ہے جو اچانک ہی مسکرانے لگتی ہے لیکن کم گو اور کچھ شرمیلی ہے۔

وہ چھٹی جماعت کی طالبہ ہے اور اس کے پسندیدہ مضمون حساب اور انگلش ہیں۔

ریپ کا شکار بچی کی اسقاطِ حمل کے لیے درخواست

انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

اسے مصوری پسند ہے اور وہ بہت اچھی ڈرائنگ بناتی ہے۔

اسے کھانے میں چکن، مچھلی اور آئس کریم پسند ہیں۔

اس بچی کے جس رشتے دار پر اس کے ریپ کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ جیل میں ہے اور مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔

28 جولائی کو سپریم کورٹ نے بچی کے اسقاط حمل کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور کہا تھا کہ حمل کو 32 ہفتے گزر چکے ہیں۔

اس مقدمے میں عدالت کی طرف سے بچی کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اس موقع پر بچی کا حمل ختم کرنے سے بچے اور اس کی اپنی جان کو بہت خطرہ ہو سکتا ہے۔

بچی کے خاندان کے لیے عدالتی فیصلہ مایوسی کا سبب بنا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ عدالت ابارشن کی اجازت دے دے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

10 سالہ بچی کے اس کیس سے چندی گڑھ سمیت پورا انڈیا لرز اٹھا ہے۔

ریاست چندی گڑھ کی لیگل سروس اتھارٹی میں سیکریٹری مہاور سنگھ کا کہنا ہے کہ 'ہم نے 14 سے 15 سال تک کی عمر کی حاملہ لڑکیوں کے بہت سے کیسز دیکھے ہیں مگر ایک 10 سالہ بچی کا کیس پہلی بار دیکھا ہے۔'

انڈین قانون کے تحت 20 ہفتے گزر جانے کے بعد اسقاط حمل صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ اگر ڈاکٹر اس بات کی تصدیق کر دیں کہ اس سے ماں کی زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

لیکن حالیہ عرصے میں عدالت میں متعدد ایسی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں 20 ہفتوں کے بعد اسقاط حمل کے لیے درخواستیں دی گئیں۔

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

طالبہ نے ریپ کرنے والے کا عضو کاٹ دیا

بچی کو خاص خوراک دی جا رہی ہے جس میں دودھ، انڈے، پھل اور مرغی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے والدین خوش ہیں کہ اسے پہلے سے زیادہ توجہ مل رہی ہے۔

لیکن گذشتہ کچھ دنوں سے پولیس اور سماجی کارکنان اور وکلا ان کے گھر کر چکر لگا رہے ہیں جس سے گھر کے باہر میڈیا اکھٹا ہو جاتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس تمام صورتحال سے شاید بچی کو علم ہو جائے کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔

ایک اعلیٰ عہدیدار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اسے معلوم نہیں کہ اصل مسئلہ کیا ہے، یہ کتنا حساس معاملہ ہے وہ نہیں جان سکتی لیکن میرا خیال ہے کہ اسے کچھ حد تک اندازہ ہو چکا ہے۔‘

12 سالہ لڑکی کے انتقامی ریپ پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

’زیادتی‘ کی شکایت کرنے والی برطانوی خاتون کا مقدمہ خارج

اس کے والدین بھی حالات سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ ایک کمرے کے گھر میں رہنے والا یہ ایک غریب کنبہ ہے۔ والد سرکاری ملازم ہیں اور والدہ لوگوں کے گھروں میں کام کرتی ہیں۔

خاتون پولیس افسر پراتیپھا کماری جو کہ اس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہیں کا کہنا ہے کہ یہ ایک شریف خاندان ہے۔ وہ یہ نہیں جان سکے کہ ان کی بچی کہ ساتھ وہ شخص کیا برتاؤ کر رہا ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ بظاہر لڑکی کے والدین بہت پریشان ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ بچی کی والدہ نے اپنی بیٹی کے معاملے پر بات کی ہو اور وہ اشکبار نہ ہوئی ہوں۔

جبکہ والد کا کہنا ہے کہ یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے ان کی بیٹی کا قتل کر دیا ہو۔

جب سے بچی کے ساتھ ریپ کی خبر سامنے آئی ہے تب سے میڈیا اور صحافی ان کے خاندان کو گھیرے ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے پہلے سے خراب صورتحال ابتر ہو چکی ہے۔

اسقاط حمل کی اجازت نہ ملی، دس سالہ بچی ماں بننے پر مجبور

جنسی غلام بنائی جانے والی خواتین کی ’پہلی‘ ویڈیو

چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چیئرمین نیل رابرٹ کا کہنا ہے کہ جب بچی کے والد ان سے ملنے آئے تو انھوں نے بتایا کہ سب سے بڑا مسئلہ پریس ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے گھر کے باہر ڈیرا ڈالنے والے صحافی ان کی پرائیویسی میں خلل کا باعث ہیں۔

یہ اچھا ہے کہ بچی کی صحت کا خیال رکھا جائے اور اسے حکومت کی جانب سے بھی امداد ملے لیکن غیر ضروری تشہیر سے اس خاندان کو اذیت پہنچ رہی ہے۔

جب ان کے والد گھر سے باہر کام پر ہوتے تھے تو تب بہت سے صحافی ان کے گھر میں داخل ہو جاتے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایسا کیسے ہوا کہ سات ماہ تک والدین کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ ان کی بچی حاملہ ہے؟

اس سوال نے اس خاندان کے لیے بہت مشکل پیدا کی۔

نیل رابرٹ کہتے ہیں کہ فون پر مختصر بات کرتے ہوئے بچی کے والد نے کہا کہ ’میں چاہتا ہوں کہ اس شخص کو کڑی سزا ملے۔‘

’اسے موت کی سزا دی جائے یا عمر قید کی۔ اس نے جرم کااعتراف کیا ہے مگر ہم سے ایک بار بھی معافی نہیں مانگی۔‘

فون رکھنے سے قبل ان کا کہنا تھا کہ ’آپ میری بیٹی کا کیس کیوں اچھال رہے ہیں؟ پریس نے اس کو کاروبار بنا لیا ہے۔‘

ان کا غصہ اور ناراضگی سمجھ میں آتا ہے۔ اگرچہ قانونی طور پر صحافیوں کو ریپ کا شکار ہونے والی خواتین اور بچیوں کی شناخت ظاہر کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تاہم اس معاملے میں جب مجرم کی نشاندہی ہوئی اور پریس میں سب کچھ چھپا تو لوگوں کو متاثرہ خاندان کے بارے میں بھی معلوم ہو گیا۔

اس خاندان کے محلے کے لوگ اس تمام معاملے سے باخبر ہیں اور ایسے میں مکمن ہے کہ بچی کے سکول کے ساتھیوں اور دوستوں کو بھی اس کی خبر پہنچ چکی ہو۔

ابتدا میں ایک مقامی صحافی نے یہ خبر دی کہ بچی کے مستقبل اور اس کی صحت کے حوالے سے اس کے والدین بہت فکر مند ہیں۔

کیا کوئی عورت دوسری عورت کا ریپ کر سکتی ہے؟

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

اب تک کی رپورٹس کے مطابق متاثرہ لڑکی کی صحت ٹھیک ہے اور وہ خون کی تھوڑی سی کمی کا شکار ہے۔

لیکن اور بھی مشکلات ہیں۔ یہ 10 سالہ بچی جب پیدا ہوئی تو اس کے دل میں سوراخ تھا اور ابھی چار سال قبل ہی سنہ 2013 میں اس کے دل کا علاج ہوا تھا۔ اگر ڈاکٹر یہ کہہ بھی دیں کہ اس سے اس کے حمل پر کوئی اثر نہیں پڑتا تب بھی وہ بچہ پیدا کرنے کے لیے بہت کم عمر ہے۔

ہر سال انڈیا میں 45 ہزار مائیں زندگی اور موت کی کشمکش کا سامنا کر کے بچے پیدا کرتی ہیں۔ ملک میں 15 سال کی عمر میں ماں بننے والی لڑکیوں کی شرح اموات 20 سال کی عمر کی لڑکیوں کی نسبت دو گنا زیادہ ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ 10 سال کی عمر میں ماں بننے والی بچی کی موت ہونے کا کا خدشہ بہت زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

یہ معاملہ سپریم کورٹ کے سامنے بھی گیا تاہم ججز نے اسقاط حمل کی اجازت نہیں دی۔

اس واقعے کے بارے میں جاننے والے لوگوں کا خیال ہے کہ متاثرہ لڑکی کے ہاں بچے کی پیدائش ستمبر کے وسط میں متوقع ہے جبکہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پیدائش آپریشن کے ذریعے ہوگی اور اگر کوئی پیچیدگی ہوئی تو قبل ازوقت آپریشن کر دیا جائے گا۔

متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ انھیں پیدا ہونے والے بچے سے کوئی غرض نہیں ہے اور جب تک اسے کوئی گود نہیں لیتا تب تک وہ ویلفیئر کمیٹی کے زیر کفالت رہے گا۔

'چھ ماہ تک ہر روز وہ میرا ریپ کرتا رہا‘

ریپ کے قانون میں تبدیلی کے لیے انوکھی مہم

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ 10 سالہ بچی کے لیے ماں بننے کا عمل ذہنی کرب کا باعث ہوگا اور اسے اگلے چند سالوں تک نفسایتی ماہر کے زیر علاج رہنا پڑے گا۔

بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن کا کہنا ہے کہ 'ہم سب اس کے لیے دعاگو ہیں۔ کیا ایک دس سالہ بچی بچہ پیدا کر سکتی ہے؟ یہ اس کے لیے بہت اذیت ناک ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ کچھ برا نہ ہو۔'

اسی بارے میں