'اب یہ نہ کہیں کہ راکھی باندھنا اسلام میں حرام ہے'

عرفان پٹھان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انڈین کرکٹر عرفان پٹھان نے راکھی پہنے ایک تصویر ٹویٹ کی جس کے بعد ’ہندوؤں کا تہوار‘ منانے پر انہیں ٹوئٹر پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

سات اگست کو ہندوستان میں راکھی یا رکشا بندھن کا تہوار منایا گیا۔ اس موقعے پر عرفان پٹھان نے اپنی کلائی پر بندھی راکھی کے ساتھ ایک سیلفی پوسٹ کرتے ہوئے لوگوں کو اس تہورا کی مبارکباد دی تھی۔

٭ 'عرفان صاحب نیل پالش اسلام میں حرام ہے'

٭ محمد شامی کی اہلیہ کی تصویر موضوعِ بحث

جل پارہ نام کے ٹوئٹر صارف نے لکھا: 'ایک مسلمان کی طرح برتاؤ کریں۔ آپ کے والد نے آپ کو اس بدت کے بارے میں نہیں بتایا۔ آپ کو علم ہونا چاہیے۔'

محمد گل فراز احمد نے عرفان کی تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: 'یہ آپ نے اچھا نہیں کیا۔'

وسیم رضا کہتے ہیں: 'آپ نے جو کیا ہے، اسلام میں یہ درست نہیں ہے، پٹھان بھائی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رکشا بندھن کے تہوار میں ان دنوں طرح طرح کی راکھیاں نظر آتی ہیں

اگرچہ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جنھوں نے عرفان کی تصویر کا خیر مقدم کیا۔ خیال رہے کہ انڈیا کی تاریخ میں مغل بادشاہ ہمایوں کے پاس ایک ہندو رانی کا راکھی بھیج کر مدد طلب کرنا اور ہمایوں کا مدد کرنا درج ہے۔

اس تہوار میں بہن بھائی کی کلائی پر ایک دھاگہ باندھتی ہے جو کہ اس بات کا عہد ہوتا ہے کہ بھائی اپنی بہن کی حفاظت کرے گا۔

فیروز لکھتے ہیں: 'ہندوستان میں مختلف ثقافتوں کا انوکھا امتزاج ہے۔ اس کو مذہب کے علاوہ انسانیت سے جوڑنا بہتر رہے گا۔‘

سہیل کہتے ہیں: 'ماشاللہ عرفان بھائی۔ میری مسلمان بھائیوں سے درخواست ہے کہ اب یہ تبصرہ نہ کریں کہ راکھی باندھنا اسلام میں حرام ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption عرفان نے یہ تصویر جولائی میں پوسٹ کی تھی

خیال رہے کہ اس سے قبل گذشتہ ماہ بھی عرفان پٹھان اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک تصویر کی وجہ سے سرخیوں میں تھے۔

اس تصویر میں عرفان پٹھان کی اہلیہ نے ہاتھوں سے چہرہ چھپا رکھا تھا اور ان کی انگلیوں پر لگی نیل پالش نمایاں طور پر نظر آ رہی تھی۔

ٹوئٹر پر ٹرول کرنے والوں نے ان سے کہا تھا کہ یہ اسلام میں حرام ہے۔

اس سے قبل انڈین فاسٹ بولر محمد شامی کی اہلیہ کی تصویر پر بھی کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تھا اور دوسرے کرکٹر ان کے دفاع میں سامنے آئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں