تقسیم ہند کے کبھی نہ بھرنے والے زخم

تصویر کے کاپی رائٹ Raza
Image caption صفیہ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا کی ریاست پنجاب کے فیروز پور شہر میں رہتی تھیں

انڈیا اور پاکستان اپنی آزادی کی 70 ویں سالگرہ منانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ لیکن آزادی کی اس خوشی کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کو تقسیم کا غم بھی جھیلنا پڑا تھا۔

تقسیم کی وجہ سے لاکھوں لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر سرحد کی دوسری طرف جانے کے لیے مجبور ہو گئے تھے۔

بٹوارے کو 70 سال گزر چکے ہیں لیکن آج بھی بہت سے لوگ ایسے ہیں جو صرف ایک بار اپنا وہ گھر دیکھنے کی حسرت لیے جی رہے ہیں جہاں یا تو وہ خود یا ان کے خاندان کے بڑے بوڑھے بٹوارے سے پہلے رہا کرتے تھے۔

بی بی سی اردو سروس کے ہمارے ساتھی رضا ہمدانی کی والدہ، صفیہ بھی ایسی ہی ایک تمنا لیے برسوں سے جی رہی ہیں۔

صفیہ تقسیم ہند سے پہلے انڈیا کی ریاست پنجاب کے فیروز پور شہر میں رہتی تھیں۔

رضا ہمدانی اپنی ماں کو ان کا گھر دکھانے کے لیے انڈيا جانا چاہتے تھے لیکن تمام کوششوں کے باوجود رضا اور صفیہ کو انڈیا کا ویزا نہیں مل سکا۔

صفیہ کو انڈیا جانے کا موقع تو نہیں ملا لیکن ٹیکنالوجی کے اس دور میں کچھ بھی ناممکن نہیں ہے۔

اسی امید کے ساتھ صفیہ کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے میں نے فیروز پور جانے کا فیصلہ کیا۔ صفیہ نے مجھے اس گلی کا نقشہ دیا تھا جہاں ان کا گھر تھا۔ ستر برس بعد بھی انھیں گلی سے لے کر دکانوں تک کا نام یاد تھا۔

فیروز پور تو میں آسانی سے پہنچ گئی لیکن ان کا گھر تلاش کرنے کے لیے فیروز پور میں رہنے والے صحافی ملكيت سنگھ کی مدد لی۔ بچپن سے فیروز پور میں رہنے والے ملكيت اس شہر کے چپے چپے سے واقف ہیں۔ اور یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اگر ملكيت سنگھ نہ ہوتے تو شاید میں صفیہ کا آبائی گھر نہیں تلاش کر پاتی۔

جیسے ہی میں نے صفیہ کے بنائے ہوئے نقشے کو ملكيت کو دکھایا وہ سمجھ گئے کہ جانا کہاں ہے۔ وہ مجھے کوچہ قادر بخش گلی میں لے گئے۔ اگرچہ اب گلی بھی کافی بدل گئی تھی اور اس کا نام بھی بدل چکا ہے۔ اب اس گلی کو کوچہ ٹھاکر سنگھ دھميجا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

ہم نے گلی میں رہنے والوں سے پوچھ گچھ کی۔ صفیہ نے مجھے بتایا تھا کہ ان کا گھر گلی میں مڑتے ہی دائیں جانب تھا اور باہر لکڑی کا ایک بڑا سا دروازہ تھا۔

گھر کا دروازہ اور وہ جگہ ویسے ہی تھے جیسا انھوں نے مجھے بتایا تھا۔ مجھے تو پورا یقین تھا کہ ہم جس مکان کو تلاش کر رہے ہیں یہ وہی ہے لیکن صفیہ کو اس کی شناخت کروانی تھی۔

ہم نے ویڈیو کال کے ذریعے صفیہ کو وہ گھر دکھایا۔ اور صفیہ نے ایک لمحہ بھی ضائع کیے بغیر بتا دیا کی یہ وہی گھر ہے جہاں ان کا بچپن گزرا تھا۔

باہر سے تو وہ گھر صفیہ نے پہچان لیا لیکن ہماری خواہش تھی کہ اس مکان کو اندر سے دیکھا جائے اور صفیہ کو بھی دکھایا جائے۔ لیکن اس کے لیے گھر کے موجودہ مالک سے اجازت لینی تھی۔

پڑوسیوں سے بات کرکے معلوم ہوا کہ کپور الیکٹریکلز والا کپور خاندان اس کا مالک ہے اور صفیہ کا بچپن کا وہ گھر اب ایک گودام میں تبدیل ہو چکا ہے۔

ہم فوراً کپور الیکٹریکلز کے پاس پہنچے۔ دکان پر سنجیو کپور اور ان کے بڑے بھائی صاحب تھے۔ ہم نے انھیں اپنے آنے کا سبب بتایا۔

پہلے وہ تھواڑا سا ہچكچائے کیونکہ شاید انہیں ہماری بات پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ ہم ان سے کیا مطالبہ کر رہے ہیں۔ لیکن جب انھوں نے ہمارا شناختی کارڈ دیکھ لیا اور اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ کہ جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ ہم اتنی دور سے صرف ایک نظر یہ گھر دیکھنے آئے ہیں یا یوں کہا جائے کہ کسی اور کو یہ گھر صرف ایک نظر دکھانے کے لیے آئے ہیں تو ان کی آنکھیں بھی چھلک گئیں اور پھر تو انھوں نے مہمان نوازی کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

اس وقت میں صفیہ کو ان کا گھر دکھانے کے لیے بے چین ہو رہی تھی۔ ذہن میں ایک گھبراہٹ بھری خوشی کے ساتھ ہم کپور خاندان کے ساتھ ان کے گودام پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Raza
Image caption ستر برس بعد بھی صفیہ کو اپنے گھر کا کونا کونا یاد تھا

صفیہ کا گھر جو کہ اب کپور الیکٹریکلز کا گودام بن چکا تھا، اس کے اندر داخل ہونے کے بعد ہم نے صفیہ کو دوبارہ ویڈیو کال کیا۔ صفیہ سے سب کا تعارف کروایا۔

صفیہ کی آواز میں خوشی کی لہر تھی۔ ایسی جیسے وہ اپنے کھوئے ہوئے گھر کو دیکھنے کے لیے بے چین ہو رہی ہوں۔

ستر برس بعد بھی صفیہ کو اپنے گھر کا کونا کونا یاد تھا۔ انھوں نے ہمیں گھر کا نقشہ بتانا شروع کیا۔ صفیہ نے کہا کہ 'گھر میں گھستے ہی ایک کنواں تھا۔'

سنجیو نے بتایا کہ کنواں انھوں بند کروا دیا تھا۔ کنویں کے بعد برآمداہ تھا۔ صفیہ جو جو کہتی گئیں میں وہ سنتے ہوئے انھیں گھر کی سیر کراتی گئی۔

'مجھے میرے ماں باپ، میرا بچپن یاد آ گیا'، جذباتی ہوتے ہوئے صفیہ نے کہا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں