گورکھپور: ’آکسیجن کی سپلائی بند ہونے سے‘ ہسپتال میں 30 بچوں کی ہلاکت

ہسپتال تصویر کے کاپی رائٹ SAMEERATMAJ MISHRA

انڈیا کی ریاست اترپردیش کے ضلع گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں مبینہ طور پر آکسیجن کی سپلائی بند ہو جانے سے تقریباً 30 بچوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راجیو روتیلا کے حوالے سے کہا ہے کہ گذشتہ 48 گھنٹوں میں مختلف وجوہات کی وجہ سے 30 بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

اتر پردیش کی حکومت کے ٹوئٹر ہینڈل سے کیے گئے ٹویٹس میں ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کی وجہ سے مریضوں کی موت کی خبر کو گمراہ کن کہا گیا ہے۔

یوپی کی حکومت کے ٹوئٹر ہینڈل کی ٹویٹس میں کہا گیا ہے کہ 'گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج میں آکسیجن کی کمی سے کسی مریض کی موت نہیں ہوئی ہے۔'

ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ ' کچھ چینلز پر چلائی گئی آکسیجن کی کمی سے گذشتہ چند گھنٹوں میں ہسپتال میں داخل بہت سے مریضوں کی موت کی خبر گمراہ کن ہے۔'

یہ بھی کہا گیا ہے کہ 'ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ہسپتال میں موجود ہیں اور صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔'

اس سے پہلے گورکھپور کے ہی چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر رویندر کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ مرنے والے بچوں کی تعداد تقریباً 20 ضرور ہے لیکن ان کی موت کی وجہ آکسیجن کی سپلائی کا بند ہونا نہیں ہے۔

گورکھپور میڈیکل کالج کے اس وارڈ میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں دماغ کی سوزش کے مریض آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے مریضوں کی موت ہو جاتی ہے۔ ان میں سے زیادہ تر بچے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BRD HOSPITAL WEBSITE

ہسپتال کے ہی ایک اور ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نوزائیدہ بچوں اور دماغ کی سوزش کے ان وارڈز میں عام طور پر 8-10 بچوں کی موت ہر روز ہوتی ہے۔

سی ایم او ڈاکٹر رویندر کمار کا کہنا تھا کہ نوزائیدہ بچے وارڈ میں 14 اور دماغ کی سوزش کے وارڈ میں چار بچوں کی موت ہوئی ہے۔

ان کے مطابق 'نوزائیدہ بچے وارڈ میں ایک سے چار دن تک کے بچے سنگین حالت میں داخل ہوتے ہیں اور ان کی شرح اموات بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ آکسیجن سپلائی بند ہونا نہیں ہے اور نہ ہی ایسا ہوا ہے۔'

لیکن ڈی ایم روتیلا نے میڈیا سے بات چیت میں واضح طور پر بتایا کہ ہسپتال میں آکسیجن سپلائی کرنے والی ایجنسی نے قریب 70 لاکھ روپے بقایاجات کی وجہ سے سپلائی روکنے کی دھمکی دی تھی، باوجود اس کے ہسپتال انتظامیہ نے اس کی اطلاع کسی کو نہیں فراہم کی۔

وہیں مریضوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں