اتر پردیش میں مدارس کو پرچم کشائی کی تقریبات کی ویڈیوز بنانے کا حکم

انڈیا

انڈیا کی شمالی ریاست اتر پردیش میں حکومت نے مدارس کو ہدایت دی ہے کہ 15 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی تقریبات منعقد کی جائیں اور ان کی ویڈیوز بنا کر سرکاری افسران کو دی جائیں۔

اتر پردیش میں یہ ہدایت مدرسہ بورڈ کی جانب سے جاری کی گئی ہے جو ایک سرکاری ادارہ ہے۔

یوم آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی ہدایت تو نئی نہیں ہے لیکن اس مرتبہ مدارس سےکہا گیا ہے کہ وہ اپنی تقریبات کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی کرائیں اور انھیں متعلقہ سرکاری دفاتر میں جمع کرائیں۔

وندے ماترم کس زبان میں لکھا گیا تھا؟

مدرسہ بورڈ کا کہنا ہے کہ ویڈیوز دیکھ کر اچھے پروگراموں کے لیے انعامات دیے جائیں گے۔

مدرسہ بورڈ کے سرکلر میں یہ ہدایت بھی شامل ہے کہ تقریبات میں قومی ترانے کے علاوہ 'قومی گیت' بھی گائے جائیں لیکن اس میں براہِ راست وندے ماترم کا ذکر نہیں ہے جسے گانے پر کچھ مسلمان تنظیمیں اعتراض کرتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sameeratmaj Mishra

یو پی میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ ریاستی وزیر بلدیو سنگھ کا کہنا ہے 'مدارس کو چاہیے کہ وہ بھی یومِ آزادی کو دوسرے لوگوں کی طرح پوری دھوم دھام سے منائیں، ہدایت دینے کی ضرورت اس لیے پڑی کیونکہ اطلاعات تھیں کہ کچھ مدارس یومِ آزادی منانے سے ہچکچاتے ہیں۔'

کانگریس کے رہنما راج ببر نے کہا کہ اس ہدایت سے یہ پیغام جائے گا کہ ایک خاص مذہب کو نشانہ بنایا جا رہا ہے 'اور سرکلر تمام تعلیمی اداروں کے لیے جاری کیا جانا چاہیے تھا، صرف مدارس کے لیے نہیں۔'

ادھر ممبئی میونسپل کارپوریشن نے یہ قرارداد منظور کی ہے کہ اس کے تحت چلنے والے سکولوں میں وندے ماترم گانا لازمی کر دیا جائے۔ اس تجویز پر بھی لفظوں کی جنگ چھڑی ہوئی ہے۔

بی جے پی کے رکن اسمبلی راج پروہت کا کہنا ہے 'وندے ماترم کے ساتھ ہی ملک کو آزادی ملی تھی، اسے گانے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔'

اس تجویز کو بی جے پی اور ریاست میں اس کی اتحادی جماعت شو سینا دونوں کی حمایت حاصل ہے۔

نائب وزیر قانون پی پی چودہری نے بھی کہا کہ یہ گانا پابندی سے پارلیمان میں بھی گایا جاتا ہے تو سکولوں میں گانے پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔؟

لیکن مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا کہ یہ تجویز بے جے پی کے اصل اجنڈے کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سے پہلے ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کے سکولوں میں وندے ماترم گانا لازمی کردیا تھا لیکن فروری میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ دستور ہند میں قومی گیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں