70 برس بعد بھی مسلمانوں کو وفادار نہیں سمجھا جا رہا: اویسی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 'اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے مدارس پر اس طرح کے حکم سے یہ صاف پیغام ملتا ہے کہ 70 سال بعد بھی مسلمان ملک کے لے وفادار نہیں ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ المناک۔'

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم ائی ایم ) کے رہنما اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ یہ بے حد افسوسناک بات ہے کہ آزادی کے 70 برس بعد بھی حکومتوں کو مسلمانوں پر اعتماد نہیں ہے۔

ریاست اتر پردیش کی حکومت کے 15 اگست کو ریاست کے تمام مدارس میں قومی پرچم کے لہرانے کی ویڈیوگرافی کے حکم پر اویسی نے ٹوئٹر پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔

ریاست کے سرکاری مدرسہ بورڈ کی جانب سے تین اگست کو مختلف اضلاع کے حکام کو ایک خط بھیجا گیا تھا جس میں حکم دیا گيا ہے کہ یوم آزادی کے موقع پر ہونے والے پروگراموں کی ویڈیو بنائی جائے۔ اس خط میں پروگرام کے ٹائم ٹیبل بھی طے کیے گئے ہیں۔

ریاستی مدرسہ بورڈ کے رجسٹرار راہل گپتا کی جانب سے بھیجے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ صبح آٹھ بجے پرچم کشائی کی جائے اور قومی گیت گایا جآئے، صبح آٹھ بج کر 10 منٹ پر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا، اس کے بعد ثقافتی پروگرام ہوں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

اویسی نے اس حکم نامے پر اپنی ٹویٹ میں لکھا: 'اتر پردیش کی حکومت کی جانب سے مدارس پر اس طرح کے حکم سے یہ صاف پیغام ملتا ہے کہ 70 سال بعد بھی مسلمان ملک کے لے وفادار نہیں ہیں۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ المناک۔'

انھوں نے اس معاملے پر ایک کے بعد ایک کئی ٹویٹ کیے۔ انھوں نے اتر پردیش کے وزیر اعلی کے دفتر سے اپنی خطابی ٹویٹ میں لکھا: 'برائے مہربانی یاد کریں، شاید آپ بھول گئے ہیں۔۔۔۔ 1857 کی آزادی کے انقلاب کا آغاز مدرسے کے علماء کے جاری کردہ فتوؤں سے ہوا تھا۔ اب ہم مشتبہ ہیں۔'

اویسی نے اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے لکھا: 'بھارت میں قومی ترانہ گانا لازمی نہیں ہے۔ اگر کوئی ایسا قانون ہے تو ملک کو آگاہ کریں۔'

ٹویٹر پر بہت سے لوگوں نے بھی اس فیصلے پر ردعمل ظآہر کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER/@ZHSAMMEERKHAN1

@ ZHSammeerKhan1 نے ٹوئٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی ہے جس میں مدرسے کے سامنے مسلم طلبا کے ہاتھوں میں قومی پرچم ہے۔ انہوں نے لکھا: 'مدارس میں پہلے سے ہی قوم پرچم لہرایا جاتا ہے، حکومت کو معلوم ہے کیا؟'

ٹوئٹر ہینڈلbaboosahab نے لکھا ہے: ؛آخر کب تک یہ لوگ مدرسہ، مغل سرائے وغیرہ کی فالتو باتوں میں ہمیں الجھا کے رکھیں گے؟ کیا ملک ایسے آگے بڑھے گا؟ اب تو انسانیت کو ترجیح دو۔'

ٹوئٹر ہینڈل @ ganpatijha7 لکھتے ہیں 'غلامی کی زنجیروں کو کاٹنے اور انگریزی حکمرانوں کو بھگانے میں مسلمان مجاہدین کی صف میں آگے آگے تھے۔'

سببير احمد اساني نے لکھا ہے کہ یہ تگلكي فرمان اتر پردیش کی حکومت کی ذہنی دیوالیہ پن کا ثبوت دے رہی ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں