محمد علی جناح کی کوٹھی ’دشمن کی جائیداد‘ کیوں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images

محمد علی جناح وہ شخصیت ہیں جنھیں پاکستان میں عوام احتراماً 'قائد اعظم' اور 'بابائے قوم' جیسے بڑے خطابات سے یاد کرتی ہے لیکن ہندوستان والوں کے لیے یہ نام پسندیدہ نہیں ہیں کیونکہ یہاں انھیں ملک کی تقسیم کے لیے ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔

برصغیر کا بٹوارہ ہندوستان اور پاکستان کے لیے قیامت جیسا تھا۔ اس دوران پرتشدد واقعات میں لاکھوں لوگ مارے گئے جبکہ ایک کروڑ سے زیادہ لوگ بےگھر ہوئے۔

٭ تقسیم کے 70 برس

٭ ممبئی میں ’جناح ہاؤس کو مسمار‘ کرنے کی تجویز

٭ جب جناح کا بنگلہ گنگا جل سے دھلوایا گیا

1947 میں تقسیمِ ہند کے بعد محمد علی جناح پاکستان چلے گئے اور اس نوزائیدہ مملکت کے پہلے گورنر جنرل بنے مگر جناح کی ایک خاص چیز ہندوستان میں ہی رہ گئی اور وہ تھی ممبئی میں جناح کی کوٹھی۔

انڈیا اور پاکستان کے درمیان ایک جھگڑا اس کوٹھی پر بھی ہے، جو گذشتہ 70 سالوں سے چلا آ رہا ہے۔

پاکستان، جناح کی اس کوٹھی پر اپنا حق جتاتا ہے اور پاکستان کے عام شہری کی نظر میں جناح کی یہ کوٹھی ان کی ایک یادگار ہے۔

اسی رہائش گاہ میں قیام کے دوران جناح نے پاکستان کی بنیاد رکھی تھی، اس کے لیے لڑائی لڑی تھی اور اسی لیے پاکستان اس پر دعوٰی پیش کرتا ہے۔

لیکن ممبئی میں محمد علی جناح کی یہ کوٹھی، ہندوستان کی آنکھوں کو کھٹکتی ہے۔ اسے ملک کے بٹوارے کی سازش کا اڈہ تصور کیا جاتا ہے۔

انڈیا نے ممبئی میں جناح کے بنگلے کو 'اینمی پراپرٹی' یعنی دشمن کی جائیداد قرار کر رکھا ہے۔ فی الحال یہ عمارت ویران پڑی ہے اور حکومت کا اس پر قبضہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sanjoy Majumder/BBC

ممبئی سے جناح کی محبت

ایک مقامی سیاستدان جو ریئل اسٹیٹ کا دھندہ بھی کرتے ہیں، وہ جناح کی کوٹھی کو گرانے کی مہم چھیڑے ہوئے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ 'یہ دشمن کی ملکیت ہے۔ یہ تقسیم کے ذمہ دار محمد علی جناح نے بنوایا تھا۔ بٹوارے کی وجہ سے کافی خون خرابہ ہوا۔ یہ عمارت اس تکلیف کی یاد دلاتی ہے۔ اسی لیے اسے گرا دینا چاہیے۔ اس کی جگہ ایک ثقافتی مرکز بنایا جانا چاہیے۔'

جناح کو ممبئی شہر سے بہت محبت تھی۔ انگلینڈ سے لوٹ کر وہ یہیں بس گئے تھے۔ اپنی رہائش کے لیے انھوں نے یہ شاندار عمارت بنوائی تھی۔ جناح نے یہ کوٹھی، اس دور کے یورپی بنگلوں کی طرز پر بنوائی تھی۔ اس بنگلے کا نام ساؤتھ کورٹ ہے۔

یہ بنگلہ جنوبی ممبئی کے مالابار ہلز علاقے میں ہے۔ سمندر کے رخ پر بنی اس عمارت کو بنانے میں جناح نے 1930 کی دہائی میں تقریبا دو لاکھ روپے خرچ کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Topical Press Agency/Hulton Archive/Getty Images

خوابوں کی عمارت

اس کا ڈیزائن مشہور آرکیٹیکٹ كلاڈ بیٹلے نے تیار کیا تھا۔ اس میں اطالوی سنگ مرمر لگے ہیں۔ ساتھ ہی لکڑی کا کام بھی بہت عمدہ قسم کا ہے۔

اس کوٹھی کو جناح نے اپنے خواب کی عمارت کے طور پر بنوایا تھا۔ اس کی تعمیر کے لیے خاص طور سے اٹلی سے کاریگر بلائے گئے تھے۔

اس وقت وہ شہر کے مشہور بیرسٹر تھے۔ جناح نے جتنے جتن اور تندہی سے یہ بنگلہ بنوایا تھا، اس سے واضح تھا کہ ان کا ارادہ ممبئی میں ہی رہنے کا تھا۔

مگر بعد میں وہ وکالت سے زیادہ سیاست میں الجھ گئے اور آخر میں مسلمانوں کے لیے علیحدہ ملک، پاکستان حاصل کیا۔ پھر وہ اپنے بنائے وطن میں رہنے چلے گئے۔

جناح کو لگتا تھا کہ تقسیم کے بعد انڈیا اور پاکستان کے تعلقات اتنے اچھے ہوں گے کہ جب دل چاہے وہ ممبئی آکر کچھ دن اپنے گھر میں رہ سکیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Topical Press Agency/Getty Images

نہرو کی رضامندی

لیکن، دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی لکیر کھنچتے ہی، دلوں کی خلیج آسمان سے بھی بلند اور سمندر سے بھی گہری ہو گئی۔

جناح کا واپس اپنے سپنوں کے بنگلے میں آنے کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔

تقسیم کے بعد جب جناح پاکستان گئے، تو وہ چاہتے تھے کہ ان کے بنگلے کو کسی یورپی کو کرائے پر دے دیا جائے۔ نہرو اس کے لیے راضی بھی ہو گئے۔

لیکن جب تک اس عہد پر دستخط ہوتے، جناح کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد سے ہی اس شاندار کوٹھی پر انڈیا اور پاکستان کے درمیان رسہ کشی جاری ہے۔

جناح کی بیٹی دینہ واڈیا نے بھی اس پر اپنا مالکانہ حق جتایا تھا۔ فی الحال اس پر حکومت ہند کا قبضہ ہے۔

ممبئی میں وزیر اعلی کے بنگلے کے ٹھیک سامنے کھڑی یہ عمارت انڈیا اور پاکستان کے مشترکہ ادھورے ورثے میں سے ایک ہے۔

اسی بارے میں