تقسیم کی ایک نامکمل محبت کی کہانی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

یہ ہندوستان کے بٹوارے کے درمیان محبت کی سچی کہانی ہے۔ اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے مذہب تبدیل کرنے اور ملک چھوڑنے کی جدوجہد کے بعد بھی حکومتوں سے برسرپیکار محبت کرنے والوں کی کہانی۔

سنہ 1947 میں راولپنڈی کے ایک پٹھان خاندان سے تعلق رکھنے والی عصمت صرف 15 سال کی تھیں اور امرتسر کے ایک لالہ جی کے خاندان کا جیتو 17 سال کا۔

٭ ہندوستان کی تقسیم اور پاکستان کے قیام نے نئی نسل کی زندگي ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دی

٭ تقسیم کے 70 برس

دونوں خاندان کئی مرتبہ سرینگر میں چھٹیاں مناتے ہوئے مل چکے تھے اور اسی دوران عصمت اور جیتو کی دوستی محبت میں بدل چکی تھی لیکن پھر بٹوارے کے طوفان نے ان کی اس محبت کو سرحدوں میں تقسیم کر دیا۔

تقسیم کے بعد عصمت سمجھ چکی تھی کہ جیتو کا ساتھ اب اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گا اور محبت سے سرشار عصمت گھر سے بھاگ کر ہندوؤں کے مہاجر کیمپ پہنچ گئی۔

وہاں اس نے کہا: 'میں ایک ہندو لڑکی ہوں۔ اپنے ماں باپ سے بچھڑ گئی ہوں۔ کیا آپ مجھے انڈیا بھیج دیں گے؟

بٹوارے کے بعد کے مہینوں میں دونوں ممالک کی ہزاروں عورتوں کو اغوا کر لیا گیا تھا اور بہت سوں کی مرضی کے خلاف ان کا مذہب تبدیل کیا گیا، شادیاں ہوئیں۔

اسی لیے انڈیا اور پاکستان کی حکومتوں نے اغوا کی جانے والی عورتوں کو تلاش كر کے واپس ان کے خاندانوں تک بھیجنے کے لیے 'آپریشن ریکوری' شروع کیا۔

سماجی کارکن کملا پٹیل انڈیا اور پاکستان کے مہاجر کیمپوں میں ایسی عورتوں کا تبادلہ کروانے کی انچارج بنائی گئیں۔

اپنی کتاب 'ٹارن فرام دا روٹس: اے پارٹشن میموائر' میں کملا پٹیل نے اس آپریشن کو 'سیب اور سنگترے کی طرح عورتوں کا تبادلہ' کہا ہے۔

کتاب چھاپنے والی ریتو مینن نے مجھے بتایا: 'کئی بار کملا پٹیل نے اغوا کی گئی عورتوں کو پناہ گزین کیمپ واپس لانے کے بعد فرار ہونے میں مدد کی تاکہ وہ پھر اغوا کرنے والے خاندان کے پاس چلی جائیں۔

عصمت انھی کے پاس آئی۔ تقسیم کے فورا بعد کا وہ وقت ایسا تھا کہ پنجاب کے ہندوؤں اور مسلمانوں کا لباس اور بولی ایک جیسی تھی۔

انھوں نے اس کی بات پر یقین کرتے ہوئے اسے ہندو مان لیا اور باقی پناہ گزینوں کے ساتھ انھیں راولپنڈی سے امرتسر پہنچا دیا۔

امرتسر میں عصمت نے جیتو کے گھر کا پتہ لگا کر پیغام بھجوایا اور جیتو فورا کیمپ پہنچ گیا۔

نابالغ ہونے کے باوجود جیتو کے ماں باپ کی رضامندی سے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں ان کی شادی ہو گئی۔

لیکن سرحدوں کی پروا نہ کرنے والی محبت کی اس کہانی میں جلد ہی ایک مشکل موڑ آ گیا۔

عصمت کے خاندان نے کہا کہ ان کی بیٹی کو اغوا کیا گیا ہے اور حکومتِ پاکستان اسے ڈھونڈ كر واپس لائے۔

اغوا ہونے والی عورتوں کو واپس ان کے خاندانوں تک لانے کا دونوں ممالک کا معاہدہ عصمت اور جیتو کی محبت کے آڑے آ گیا۔

عصمت کا جھوٹ پکڑا گیا، اسے اب پاکستان واپس جانا ہی تھا۔

گھبرایا ہوا جیتو کملا پٹیل کے پاس آیا اور کہنے لگا: 'یہ اغوا کا معاملہ نہیں ہے، عصمت مجھ سے محبت کرتی ہے اور اپنی مرضی سے میرے پاس آئی ہے۔ آپ کو میری مدد کرنی ہی ہو گی۔

مگر ایک نابالغ لڑکی کے ماں باپ کیسے مان لیتے کہ اسےاغوا نہیں کیا گیا؟

اس ایک معاملے میں رعایت مکمل آپریشن بگاڑ سکتی تھی۔ کملا پٹیل عصمت یا اس جیسی دوسری عورتوں کو زبردستی واپس بھیجنے کے خلاف تھیں۔

اس مسئلے پر بحث 'آئین ساز اسمبلی' تک پہنچی۔ بہت سی عورتوں نے اس کی مخالفت کی لیکن معاہدہ جاری رہا۔

پولیس سے بچنے کے لیے عصمت اور جیتو امرتسر سے بھاگ کر کلکتہ چلے گئے۔

کملا پٹیل کی ٹیم پر دباؤ بڑھتا رہا۔ وہ وقت ہی ایسا تھا۔ عورتوں کی مرضی سمجھنا ضروری تھا۔

رشتے عجیب حالات میں بن رہے تھے اور کئی بار ان کا قائم رہنا ان کو توڑنے سے بہتر تھا۔

عصمت اور جیتو کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ لیکن سرکاری قاعدے یہ باریکیاں سمجھنا نہیں چاہتے تھے۔

آخرکار عصمت اور جیتو کو واپس لانے کے لیے افواہ پھیلائی گئی کہ پاکستان حکومت نے یہ کیس بند کر دیا ہے۔

افواہ کو حقیقت جان کر عصمت اور جیتو واپس امرتسر آ گئے۔

پھر کملا پٹیل نے عصمت کو منایا کہ وہ ایک ہفتے کے لیے لاہور جائے۔ وہاں کے پولیس کمشنر کے پاس رہ کر اپنے ماں باپ سے مل لے اور پھر اپنا آخری فیصلہ سنائے۔

کملا پٹیل کے لیے اپنے مرضی کے خلاف یہ سب کرنا آسان نہیں تھا۔

ان كی کزن نينا پٹیل نے مجھے بتایا: 'ان پر بہت دباؤ تھا، لوگوں کی زندگی کے فیصلے کرنے کا دباؤ، پانچ سال تک اس آپریشن میں مہاجر کیمپوں میں رہتے رہتے ان کا کھانا پینا تک چھوٹ گیا تھا۔

'آپریشن ریکوری' کے تحت 30،000 عورتوں کو ڈھونڈ كر واپس ان کے خاندانوں تک پہنچایا گیا۔

ان میں عصمت اور جیتو جیسے سینکڑوں کیس تھے جن کا کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔

کملا پٹیل جیسی سماجی کارکنوں کی کتابیں ہی واحد دستاویز ہیں۔

ان کی کتاب کے مطابق جیتو عصمت کو لاہور چھوڑ کر واپس امرتسر آ گیا اور اس کی آمد کے دن گننے لگا۔

لیکن چوتھے ہی دن کملا پٹیل یہ جان کر حیران رہ گئیں کہ عصمت کے ماں باپ اسے اپنے گھر لے گئے ہیں۔

وہ جلد سے جلد اس سے ملنے وہاں پہنچیں لیکن وہاں کہانی بالکل بدل دی گئی تھی، عصمت کا لباس اور رویہ بھی بدلا ہوا تھا۔

عصمت بولی: 'انھی عورتوں نے مجھے پاکستان نہیں آنے دیا، میرے بار بار کہنے پر بھی نہیں۔'

جیتو کا نام سنتے ہی وہ چراغ پا ہو گئی: 'میں اس کافر کا منہ نہیں دیکھنا چاہتی، میرا بس چلے تو میں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کتوں کو کھلا دوں۔'

جیتو تک خبر پہنچی تو وہ بھاگا بھاگا لاہور گیا لیکن تب تک عصمت کا خاندان وہاں سے لاپتہ ہو چکا تھا۔

اس کا کہنا تھا کہ 'عصمت پر ماں باپ کا چاہے جتنا دباؤ ہو، میں ہوتا تو وہ ایسا بالکل نہیں کہتی۔'

لاہور میں جان کے خطرے کے باوجود جیتو عصمت کو تلاش کرنے کی کوششیں کرتا رہا۔

کملا پٹیل نے اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی۔ تقسیم کے تشدد تھمے نہیں تھے لیکن جیتو نے کہا: 'میں برباد تو ہو ہی گیا ہوں، اب مر بھی جاؤں تو کیا؟'

جیتو کو ٹی بی ہو گئی۔ پانچ سال بعد جب کملا پٹیل نے اسے آخری بار دیکھا تو وہ بہت کمزور ہو گیا تھا۔ چہرہ زرد پڑ چکا تھا مگر وہ اکیلا ہی تھا۔

اسی بارے میں