’امریکی جارحیت‘ کے مقابلے کے لیے ایرانی پارلیمان میں 52 کروڑ ڈالر کے میزائل پروگرام کا بل منظور

ایران تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایرانی پارلیمان نے امریکی جارحیت کے مقابلے کے لیے بل اکثریت سے منظور کر لیا ہے

ایران کی پارلیمان نے امریکہ کے خطے میں ’بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ‘ اور ملک پر لگائی جانے والی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے 52 کروڑ ڈالر کا میزائل پروگرام شروع کرنے کا بل اکثریت کے ساتھ منظور کر لیا ہے۔

اس پروگرام کے تحت ایران کی فوج پاسداران انقلاب کی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے میزائلوں کی تیاری کی جائے گی۔

ایٹمی معاہدے سے انحراف ٹرمپ کی سیاسی خودکشی ہو گا: روحانی

ایران کے لیے ٹرمپ کا موقف سخت کیوں؟

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی پارلیمان کے سپیکر علی لاریجانی نے کہا: 'امریکہ یہ جان لے کہ اس کی اس خطے میں دہشت گردی اور مہم جوئی کے خلاف یہ ہمارا پہلا قدم ہے۔' یاد رہے کہ جون کے مہینے میں امریکہ نے ایران پر اس کے میزائل پروگرام کی وجہ سے پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

ایرانی پارلیمان میں پیش کیے گئے اس بل کے حق میں 240 قانون سازوں نے ووٹ ڈالے جبکہ صرف چھ ووٹ اس کے خلاف پڑے۔

ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے آئی آر این اے کے مطابق حکومتی نمائندے عباس آراقچی بھی پارلیمان کے سیشن میں موجود تھے اور انھوں نے اس کی حمایت کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ اگر انھوں نے ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ختم کیا تو یہ ٹرمپ کی سیاسی خودکشی ہو گی۔

انھوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا: 'وہ لوگ جو ایٹمی معاہدے کو پھاڑ کر پھینکنا چاہتے ہیں انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سیاسی زندگی کو چیر پھاڑ رہے ہیں۔'

انھوں نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ناقابلِ اعتماد ساتھی ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ایران معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے تاہم صدر ٹرمپ کے مطابق ایران اس معاہدے کی روح کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں