مغل فن مصوری: چاول پر چوگان کا میدان

مغل فن مصوری
Image caption مغل فن مصوری کی ابتدا ہندوستان میں ہمایوں کے عہد سے کہی جاتی ہے

مغلوں کی تاریخ کے اوراق الٹنے کے بعد یہ بات پایۂ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کہ مغل فن مصوری ہندوستانی فن مصوری کی تاریخ میں نہ صرف حسین حادثہ ہے بلکہ ایک حسین اضافہ بھی ہے۔

وہ چیزیں جو مغلوں کے ہاتھوں رواج پائيں اور ان کی سرپرستی کی پناہ میں آئيں ان میں تزئین کاری اور شبیہ سازی قابل ذکر ہیں۔ مغل فن مصوری نے کئی تاریخی مراحل طے کیے اور کئی خاندانوں کے ہاتھوں ترقی کے ان مدارج کو پہنچی۔

منگولوں سے اگر فن مصوری کا آغاز ہوا تو تیموروں نے اسے اپنے خون سے سینچا اور ایران کے صفوی بادشاہوں نے اس کی ناز برداری کی۔

14 ویں صدی سے 16 ویں صدی تک ایران کی فن مصوری تزئین کاری تک محدود تھا کیونکہ درباروں میں کتابوں کی تزئین کا رواج عام تھا۔ اس دور میں ہرات اور بخارا اس کا مرکز رہے۔ عباسی خاندان کے حکمرانوں نے اس فن کو آگے بڑھایا۔

منگولوں کے متواتر حملوں سے علوم و فنون کی ترویج میں بڑی رکاوٹ آئی، سیاسی انتشار نے لوگوں کے سکون کو درہم برہم کر دیا لیکن جلد ہی ان کی تلواریں نیام میں چلی گئیں۔ درباروں میں فنون پر دسترس رکھنے والے جمع ہوئے اور پھر ایک بار سمرقند اور بخارا ماہرین فن سے بھر گيا۔

Image caption اس تصویر میں بابر کو دربار میں اپنے وزرا اور دیگر لوگوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

بابر فنون لطیفہ کا بڑا دلدادہ تھا۔ شاعری، مصوری اور فلسفے میں اسے بڑی دلچسپی تھی۔ تزک بابری میں اس نے ایران کے مشہور مصور بہزاد کے قلم کی بڑی تعریف کی ہے۔ بابر کا یہ ذوق موروثی تھا۔ تیمور کی طرح وہ بھی جلال و جمال کا پرستار تھا۔

افسوس کہ زندگی کی رزم آرائيوں نے اسے مہلت نہیں دی اور جب ماہرین فن کی سرپرستی کا وقت آيا تو اس نے صدائے اجل کو لبیک کہا۔

ہمایوں بھی اپنے والد بابر کی طرح جمالیات کا دلدادہ تھا۔ ایک دن کی بات ہے کہ ایک خوبصورت سی فاختہ کہیں سے آ نکلی۔ شہنشاہ نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور مصوروں کو بلواکر اس کی تصویر بنائی اور پھر اسے آزاد کر دیا۔ ایران کے دور اقامت میں ہمایوں کی کئی نامور مصوروں سے ملاقات ہوئی جو بعد میں ان کی دعوت پر ہندوستان آئے اور یہیں سے مصوری کے ایک نئے سکول کی ابتدا ہوئی ہے جو بعد میں مغل فن مصوری کے نام سے مشہور ہوئی۔

ایرانی مصوروں نے مصوری کے ایسے معجزے دکھائے کہ اگر حادثات زمانہ اور انقلابات وقت سے محفوظ رہ جاتے تو لوگوں کو محو حیرت بنائے رہتے۔ میر سید علی اور عبدالصمد نے چاول کے دانے پر چوگان کا پورا میدان دکھایا جس میں تماشائیوں سمیت کھلاڑیوں اور گھوڑوں کی شبیہیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ایران اور ہندوستان کے امتزاج سے انڈیا میں ایک نیا رواج ظہور پزیر ہوا

عبدالصمد نے ہندوستانی مصوروں کی مدد سے داستان امیر حمزہ کی تزئین کا کام سر انجام دیا اور بادشاہ سے نادرالعصر کا خطاب حاصل کیا۔ اس میں کل ملا کر 1375 تصاویر ہیں۔

بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے دور میں فن مصوری کی بھی تجدید ہوئي۔ ایرانی اور ہندوستانی مصوروں کی اتنی بڑی تعداد اس سے قبل کبھی کسی دربار میں اکٹھا نہیں ہوئي تھی۔ دو مختلف مزاج کے مصور جب مل بیٹھے تو ان کے قلم میں یکسانیت آئی اور اکبر کا دربار فن مصوری کا گہوارہ بن گيا۔

اکبر کے عہد کی معروف کتاب آئين اکبری میں اس کا مفصل ذکر ہے۔ اکبر نے درباری مصوروں کو اپنے دادا کی کتاب بابر نامہ کی تزئین کا کام سپرد کیا اور تزئین کاری کو فروغ دیا۔ رزم نامہ، تیمور نامہ، خمسۂ نظامی اور بہارستان کی تزئين کاری اکبری عہد کا انمول خزانہ ہیں۔

Image caption آپ کو مصوری کے ان نادر نمونوں کی کاپی بازاروں میں سستے داموں پر دستیاب ہے

جمال پرست بادشاہ جہانگیر زندگی کو حسن کے آئینے میں دیکھنے کا قائل تھا اور کم و بیش شاہجہاں کی بھی یہی حالت تھی۔ جہانگیر کو شراب و جام سے بہت قرب حاصل رہا چنانچہ اس زمانے کی مصوری میں یہی علامتیں جلوہ گر نظر آتی ہیں۔

شاہجہانی دور میں طلائی کا کام ہویدا ہوا۔ معروف مورخ بنارسی پرشاد سکسینہ کا خیال ہے کہ تصویروں میں طلائی کاری اثر فن تعمیر کے زیر اثر آيا کیونکہ شاہجہاں نے تاج محل کی تعمیر میں طلائی کاری پر بڑا زور دیا تھا۔

شاہ جہاں کی طرح ان کا بڑا لڑکا دارا شکوہ بھی مصوری کا بڑا دلدادہ تھا اور ان کا مرقع انڈو ایرانی فن میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

اورنگزیب کو ذاتی طور پر اس سے کوئی دلچسپی نہیں تھی لیکن دربار کے امرا میں اس فن کا چرچا تھا۔ اورنگزیب کے قیام دکن نے بہت سے لوگوں کو دکن کا ساکن بنا دیا۔ پیسہ حاصل کرنے کے لیے مصوروں نے عوام کی دلچسپی کی چیزیں بنانا شروع کیں تاکہ فروخت میں آسانی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ NATIONAL MUSEUM DELHI
Image caption کہا جاتا ہے کہ مغل بادشاہ اکبر نے رات میں روشن گیند سے چوگان کی ابتدا کی تھی لیکن اس پورے میدان کو چاول کے دانے پر دکھانے کا کارنامہ مغل دربار کے مصور عبدالصمد نے دکھایا تھا

اس طرح دکن میں مصوری کے ایک نئے سکول کی ابتدا ہوئی اور فن مصوری دربار سے نکل کر عوام تک پہنچا۔ دکن کے علاوہ مصوروں کے کئی کنبے مختلف سمتوں پر نکل پڑے جن میں سے کچھ اودھ کے دربار میں آ گئے، کچھ پٹنہ چلے گئے اور کچھ اورنگ آباد اور حیدرآباد چلے گئے۔

مغلوں کے زوال کے ساتھ مغربی فن مصوری کا عروج ہونے لگا۔ در حقیقت مغل فن مصوری کی کہانی ہندوستانی تاریخ سے کم دلچسپ نہیں۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں