مسلم ہندو یاری بٹوارے پر بھاری

تقسیم ہند
Image caption آغا احمد رضا، امر کپور اور رشاد حیدر

بی بی سی کے سوتك بسواس نے چار دوستوں کی کہانی کے ٹکڑے جوڑے ہیں جو تقسیم کے المناک ہنگاموں میں بچھڑ گئے اور پھر 30 سال بعد ملے۔

'ہمارا ملک ٹوٹ گیا ہے، ہندوستان کا عظیم اور دھڑکتا ہوا دل توڑ دیا گیا ہے۔' یہ سطریں پاکستان کے لاہور میں رہنے والے ایک نوجوان نے سنہ 1949 کے موسم گرما میں ہندوستان کے دارالحکومت دہلی میں رہنے والے اپنے دوست کو لکھی تھیں۔

فیروزی اور نیلی سیاہی میں آصف خواجہ نے امر کپور کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کر ڈالا تھا۔ برصغیر کو انڈیا اور پاکستان کے نام کے دو نئے آزاد ممالک میں بانٹنے والی خونی تقسیم کو ابھی بمشکل دو ہی سال ہوئے تھے۔

٭ کرکٹر جو انڈیا پاکستان دونوں ٹیموں میں کھیلے

٭ جناح کی کوٹھی ’دشمن کی جائیداد‘ کیوں؟

٭ مسلمان نہیں سکھ ہیں اس درگاہ کے خادم

حال ہی میں پاکستان ٹائمز اخبار میں بطور صحافی منسلک ہونے والے آصف لکھتے ہیں: 'جن کے ساتھ آپ سکول اور کالج میں تھے، جن کی زندگی کے ابتدائی 25 سال تم سے جڑے ہوئے ہیں، لاہور میں تمہارے دوست، جن کے ساتھ تم کھیلتے رہے ہو، ایمانداری سے بتانا چاہتے ہیں کہ اس فاصلے نے تمہارے لیے ہماری محبت اور پیار میں ذرا بھی کمی نہیں کی ہے۔ 70 سال قبل سنہ 1947 کے اگست مہینے میں انڈیا میں برطانوی حکومت کا اختتام ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ہی دو نئے آزاد ملک بنے۔ ہندو اکثریت والا 'انڈیا' اور مسلم اکثریت والا 'پاکستان۔'

تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY OMAR KHWAJA

ہم تمھیں یاد کرتے ہیں اور اکثر یاد کرتے ہیں۔ اسی انداز سے، جس نے ہمارے تعلقات کو اب تک قائم رکھا ہے۔ ہم نے ساتھ میں اچھا وقت گزارا۔ امر، شاندار وقت ساتھ گزارا۔'

بچپن میں ان چاروں میں گہری دوستی تھی۔ امر کپور، آصف خواجہ، آغا رضا اور رشاد حیدر کے درمیان بھائیوں جیسی قربت تھی۔

وہ تین میل کے دائرے میں رہتے تھے۔ ایک دوسرے کے گھر جایا کرتے اور سکول سے لوٹتے وقت ساتھ میں سڑک کے کنارے فروخت ہونے والی چیزیں کھایا کرتے۔ انھوں نے ایک ہی کالج میں تعلیم حاصل کی اور ٹہنیوں کی وکٹیں بنا کر سافٹ بال سے کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔

بچپن کی معصومیت سے لے کر جوانی کے الہڑ پن تک انھوں نے خوب مستی کے ساتھ وقت گزارا اور پھر 1947 کی ہنگامہ خیز موسم گرما میں وہ پرآشوب دور آ گیا۔

تقسیم ہند ان دوستوں کو جدا کر دیا

امر کی جدائی نے ان دوستوں کو سب سے زیادہ افسردہ کیا۔ وہ دوستوں کے گروپ میں اکلوتے ہندو تھے۔ دوست انھیں پنڈت جی کہہ کر بلاتے۔

اگست سنہ 1947 میں تقسیم کے تین ہفتوں بعد امر اور ان کے مشترکہ خاندان نے اپنا 45 کمروں والا گھر اور لاہور میں 57 سال پرانا پرنٹنگ بزنس چھوڑ دیا اور مہاجرین میں شامل ہو کر سرحد پار چلے گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption چاروں دوست خطوط کے ذریعے ایک عرصے تک ایک دوسرے کے رابطے میں رہے

دو سال بعد بھی وہ جان بچائے رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرتوں میں سے ایک تھی۔

پیچھے رہ جانے والے آصف، آغا اور رشاد بڑے ہو گئے تھے اور انھوں نے کچھ کام دھندہ کر کے کمانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

اپنے دیگر دو دوستوں کے بارے میں امر کو بتاتے وقت آصف کی زبان چٹخارے والی ہوتی تھی۔ آصف نے لکھا؛ 'آغا اور رشاد نے بزنس شروع کر دیا ہے، وہ ٹھگ بن گئے ہیں۔ وہ برما شیل کمپنی کے لیے ایجنسی چلا رہے ہیں اور اچھے پیسے کما رہے ہیں۔ کاش تم احمد کو دیکھ پاتے۔ وہ موٹا ہو گیا ہے اور گنجا بھی۔ خوشحالی کی ان نشانیوں کی وجہ سے تم اسے آسانی سے پہچان نہیں پاؤ گے۔

آصف بہت ملنسار تھے۔ انھیں کرکٹ، شاعری اور پہاڑ بہت پسند تھے۔ بعد میں انھیں تاش (contract bridge) میں بھی دلچسپی ہو گئی۔ وہ زیادہ تر وقت اپنے دادا کے ساتھ کشمیر کی ڈل جھیل میں ہاؤس بوٹ میں گزارتے یا پھر سوات وادی کے دور دراز علاقے میں جاتے۔ انھیں دونوں ملکوں کے سنہرے مستقبل کی بہت امیدیں تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption تقسیم ہند کے بعد امر کپور اپنا سب کچھ چھوڑ کر دہلی آ گئے تھے

سنہ 1947 میں انڈیا کا بٹوارہ

  • انسانی تاریخ میں شاید سب سے بڑی ہجرت
  • دو نئے آزاد ممالک کی تشکیل ہوئی- انڈیا اور پاکستان
  • تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ افراد بے گھر ہوئے
  • پانچ سے دس لاکھ لوگ مذہبی تشدد میں مارے گئے
  • کئی ہزار خواتین کا اغوا ہوا

انھوں نے امر کو لکھا، 'بہت پریشانیاں سامنے آئی ہیں اور بہت تلخی پیدا ہوئی ہے۔ مگر جو ہوا اسے پہلے جیسا نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اتنا ہی کر سکتے ہیں کہ اپنی پچھلی غلطیوں کے ازالے کے لیے تقسیم ہو چکے لوگوں کے درمیان امن اور بھائی چارہ واپس لانے کے لیے دل و جان سے کام کریں۔'

مگر امر اتنے پرجوش نہیں تھے۔

لاہور میں فسادات شروع ہو چکے تھے۔ تقسیم سے چند ماہ پہلے اس مسلم اکثریتی شہر میں کاروبار پر غیر مسلمانوں کا دبدبہ تھا۔ دھوئیں سے بھرے آسمان کے نیچے ہندو اور مسلم ایک دوسرے کے دشمن بن چکے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption امر کپور کے پاس اپنے پاکستان دوستوں کی بہت سی تصاویر ہیں

املاک کو آگ لگا دی گئی، دکانوں اور گھروں کو لوٹا گیا۔ امر کے والد نے بچوں اور عورتوں کے گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دی تھی۔

ان کے خاندان نے ستمبر میں لاہور چھوڑ کر امرتسر جانے کے لیے نصف درجن گاڑیوں کے قافلے میں سفر شروع کیا تھا۔ اس قافلے کی قیادت امر کے والد کی سلیٹی رنگ کی اوپل کار کر رہی تھی۔ انھوں نے دروازے کے ساتھ ریوالور چھپا رکھی تھی۔

94 سالہ کپور نے حال ہی میں بتایا: 'یہ پاگل پن تھا، مکمل جنون۔'

امر نے ڈائری میں اپنی جدوجہد لکھی

1947 کے خون آشام موسم گرما میں ان کے خاندان نے دہلی آنے سے پہلے تین ماہ مقفل گھر کے برآمدے میں گزارے۔ اس دوران وہ ڈائری لکھتے رہے۔ دہلی میں کپور خاندان نے ایک متنازع گھر کے تین کمروں میں تین سال بغیر بجلی کے گزارے۔

امر نے ڈائری میں لکھا: 'تین جون 1947 کو یہ طے ہوا تھا کہ انڈیا کی تقسیم ہو گی اور پاکستان بنے گا۔ اس دن انڈیا مردود و ملعون ہو گیا تھا۔' وہ یاد کرتے ہیں کہ اس اعلان کے بعد تشدد کا سلسلہ نہیں تھما۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYA
Image caption تقسیم ہند کے بعد آغا رضا اپنی اہلیہ کے ساتھ امر کپور سے ملنے دہلی آئے تھے

انھوں نے لکھا: 'مذہب مکمل طور پر ذاتی معاملہ ہونا چاہیے۔ اور ذاتی معاملے کو قتل جیسی حیوانیت اور دیگر غیر انسانی کارروائیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

مگر آصف کو یقین تھا کہ اس سب کا ان کی دوستی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

آصف نے اپنے ایک خط میں لکھا: 'مشترک یادیں اور تجربہ ہمیں اتنا قریب رکھے ہوئے ہے کہ کس طرح بھی بیرونی حالات ہمیں جدا نہیں کر سكتے۔' لیکن فاصلے، تجربے اور وقت نے چاروں دوستوں کو دور کر دیا۔

تین دہائیوں تک وہ ایک دوسرے سے جدا رہے۔ دو مخالف اور دشمن ممالک میں رہتے ہوئے دوستی برقرار رکھنا بہت مشکل تھا۔ اس لیے نہیں کہ انھیں ایک دوسرے ملک کا ویزا ملنا مشکل تھا۔ انھیں ایک دوسرے کا پتہ ہی معلوم نہیں تھا۔

مگر قسمت کے ایک موڑ نے ان چاروں کو دوبارہ ملا دیا۔

تین دہائی بعد ایک دوسرے سے رابطہ

1980 کے موسم گرما میں آغا رضا کے ایک چچا دہلی میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے آئے۔ جانے سے پہلے آغا نے انھیں امر کی تلاش اور اس کا پتہ معلوم کرنے کے لیے کہا تھا۔ آغا نے بتایا کہ ان کے دوست کے خاندان کا نام کپور ہے اور ان کے خاندان کا دہلی میں پرنٹنگ پریس کا بزنس ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption آغا رضا اکثڑ اپنے دوست امر کپور کو خط لکھتے رہتے تھے

چاروں دوست کی اس ٹولی میں آغا بہت مست مولا قسم کے آدمی تھے، اپنے ہی ضوابط سے چلتے تھے۔ انھوں نے ایک تیل کمپنی میں کام کیا، پاکستانی نیوی میں آفیسر رہے اور پھر انھوں نے لیبر ڈپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔

جب وہ 30 سے 40 سال کے تھے، لاہور سے 120 کلو میٹر دور خاندان کے فارم کی دیکھ بھال کرنے کے لیے ریٹائر ہو گئے۔ ان کے دوست انھیں کسان کہہ کر بلاتے تھے۔

وہ ایک عرصے سے اپنے بچھڑے دوست کو ڈھونڈنے میں لگے ہوئے تھے۔

دہلی میں ان کے چچا جو کہ سابق سفارتکار تھے، نے ٹیلیفون ڈائریکٹری اٹھائی اور تمام امر کپور کو کال کرنا شروع کیا۔ وہ خوش قسمت تھے کہ چوتھی کال میں ان کی تلاش پوری ہو گئی۔ اب وہ امر کا فون نمبر اور پتہ لے کر پاکستان واپس آئے۔ جلد ہی دوستوں کے درمیان پھر سے تار جڑ گئے۔

وہ فون پر بات چیت کرتے اور ایک دوسرے کو لکھتے۔ انھوں نے اپنے اور خاندان کے بارے میں معلومات مشترک کیں۔ وہ سب کے سب اب شادی شدہ تھے اور ان کے بچے تھے۔ کام بھی کر رہے تھے۔ ایک دوسرے کے اب تک کے سفر کے بارے میں بھی انھیں علم ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption تقسیم کے بعد امر کپور ہر دن اپنی ڈائری لکھتے تھے

رشاد حیدر کی گنتی اب پاکستان کے سب سے کامیاب بینک پروفیشنلز میں ہونے لگی تھی۔ آغا آپنی فارم کی نگرانی کر رہے تھے۔ آصف پاکستان ٹائمز کے ساتھ کام کر رہے تھے اور پاکستان نیشنل پریس ٹرسٹ کے صدر بھی رہ چکے تھے۔ فوجی رہنما جنرل ضیاء الحق سے اختلافات کی وجہ سے انھوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

امر نے دہلی اور آگرہ میں اپنا نیا پرنٹنگ بزنس قائم کر لیا تھا۔

انھوں نے سکھ دکھ بانٹے، بچوں کی شادی کی بات کی، اہل خانہ کے انتقال کے خبریں دیں۔ جب امر کو دہلی کے پاش علاقے میں اپنا خاندانی گھر بھائی سے تنازعے کی وجہ سے کھونا پڑا، تب آغا نے انھیں لکھا: 'تمہارے گھر کے فروخت ہو جانے کی خبر سن کر میں چونک گیا اور بہت افسردہ خاطر ہوا۔ ایسا لگا جیسے میرا گھر فروخت ہو گیا۔ ایسا ہونا کیسی بدقسمتی ہے۔ مگر کیا پتہ تہمارے اور باقی خاندان کے لیے یہ اچھی بات ثابت ہو۔

جب مل بیٹھے چار یار

جنوری سنہ 1982 میں امر پاکستان واپس آئے، آغا کے بیٹے قاسم کی شادی میں شرکت کرنے کے لیے۔ چونکہ ویزا لینے کے لیے ثبوت کے طور پر شادی کا کارڈ جمع کرنا ضروری تھا، آغا نے چند ماہ پہلے ہی سپیشل کارڈ بنوا كر اپنے دوست کے پاس دہلی بھیج دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PARTITION MUSEUM
Image caption امر کپور کی ڈائری کا ایک صفحہ جو انھوں نے 14 جنوری 1948 کو لکھا تھا

امر کے پاس صرف لاہور جانے کا ہی ویزا تھا، ایسے میں باقی تین دوست ان سے ملنے کراچی اور اسلام آباد سے لاہور آئے۔ اس کے بعد کی دہائی میں کپور خاندان تین بار پاکستان گیا۔ ہندوستانیوں کو حریف ٹیم (پاکستان) سے ٹیسٹ میچ دیکھنے کے لیے آسانی سے ویزا ملتا جاتا تھا۔

لاہور میں خاندان کے لوگ امر کے وہاں آنے پر پوری رات چلنے والی لمبی بات چیت اور دن بھر چلنے والی تاش کی بازیوں کو یاد کرتے ہیں۔

رشاد حیدر کی بیٹی صائمہ حیدر نے کہا: 'وہ بھائیوں جیسے تھے، خاندان کی طرح۔ مجھے یہ بات عجیب لگی کہ چاروں کافی فعال اور کامیاب تھے۔ مگر جب وہ ملے تو ملتے ہی ایک دوسرے میں ضم ہو گئے اور بچوں کی طرح ہو گئے۔ ان کی دوستی میں حیرت انگیز گہرائی تھی۔'

امر اکثر فون کرتے اور آغا کو دہلی آنے کی دعوت دیتے۔ ایک دن آغا نے امر کو لکھا کہ میں جلد آ سکتا ہوں۔ انھوں نے لکھا: 'تمارا مجھے بار بار پیار سے بلانا برا لگتا ہے کہ میں اب تک نہیں آ پایا۔ مگر آج نہیں تو کل، انشاء اللہ ہم جلد ملیں گے۔'

1988 کی سردیاں قریب تھیں۔ آغا نے امر سے وعدہ کیا کہ وہ نئے سال پر ان سے ملنے دہلی آئیں گے۔ مگر دسمبر میں 67 سال کی عمر میں ہارٹ اٹیک سے گھر پر ہی ان کا انتقال ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption امر کپور کو یہاں اپنی اہلیہ کی تصویر کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

اس کے بعد سنہ 1993 میں 67 سال کی عمر میں رشاد نے اس دنیا کو الوداع کہا۔ طبیعت خراب ہونے پر وہ اپنی موت سے کچھ دن پہلے ہسپتال میں داخل ہو گئے تھے۔ انھوں نے اہل خانہ سے کہا تھا لگتا ہے کہ میرا وقت آ گیا ہے۔

جون 1996 میں غیر فطری طور پر غمگين آصف نے امر کو لكھا: 'عمر بھر کے یاروں کو کھونا کتنا افسوس ناک ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ آپ نے اپنا کوئی جز کھو دیا ہے۔ آغا، احمد اور رشاد میری زندگی میں خالی پن چھوڑ گئے ہیں۔ ایسا خلا جسے کبھی نہیں بھرا جا سکتا۔ میری اپنی صحت بھی بہت اچھی نہیں ہے۔ جلد ہی شاید میں بھی اپنے مرحوم دوستوں سے ملوں۔

انہوں نے مزید لکھا: 'میری اکلوتی چاہت یہی ہے کہ میں بھی ویسے ہی مرو، جیسے وہ مرے، اچانک اور بغیر زیادہ تکلیف کے۔

آصف نے 'دونوں بچوں کے امریکہ میں ہونے کی وجہ سے اپنی تنہائی پر بھی لکھا: 'وہ ہر دو تین سال میں ایک دوسرے کے ملک جا کر ملے مگر ان 'چھوٹی ملاقاتوں نے تنہائی کی ٹیس کو مزید گہرا کیا ہے۔ کئی بار مجھے لگتا ہے کہ میرا جینا بے معنی ہو گیا ہے۔

آصف کو ایسے مستقبل کی امید تھی جہاں ان کے بچے اپنے والدین کی دوستی کو آگے بڑھائیں گے، آصف لکھتے ہیں: 'اگر تم اور میں نہیں ملتے ہیں تو ہمارے بچے تو مل سکتے ہیں اور اس دوستی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ جسے ان کے والدین تاریخ کے ایک المناک واقعے کی وجہ سے بمشکل جاری رکھ پائے۔'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
سر سرل ریڈکلف وہ وکیل تھے جنھوں نے ہندوستان کا بٹوارہ کیا

ایک ماہ بعد، 29 جولائی کو آصف خواجہ صبح اٹھے، نہائے، ناشتہ کیا اور اخبار پڑھنے لگے۔ تبھی انھیں دل کا دورہ پڑا اور انھوں نے آخری سانس لی۔ ان کی عمر 71 سال تھی۔

94 سال کے امر کپور اس ٹولی کے واحد رکن زندہ ہیں۔ 20 سال پہلے انھوں نے اپنا بزنس فروخت کیا تھا۔ اپنی بیوی مینا کے ساتھ وہ دہلی کے قریب فرید آباد میں 1986 میں بنائے گئے دو منزلہ گھر میں مصروف زندگی گزار رہے ہیں۔ اس عمر میں بھی وہ بہت چست درست ہیں۔ وہ پینسل ڈرائنگ، پینٹنگز، فوٹو گراف اور یادوں کے سہارے جی رہے ہیں۔ وہ اپنے گزرے ہوئے کل پر بہت افسردہ نہیں ہیں۔ کسی اور کام کے بجائے روٹری کلب کے اپنی بیوی کے کام میں ہاتھ بٹانے میں زیادہ فخر محسوس کرتے ہیں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو اپنے دوستوں کی یاد آتی ہے؟

وہ کہتے ہیں: 'ہاں، ان کی یاد آتی ہے۔ میں ان سے محبت کرتا تھا اور اب پہلے سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں۔ وہ ہی میرے حقیقی دوست ہیں۔'

(امر کپور کی ڈائری اور خط امرتسر کے پارٹیشن میوزیم سے لیے گئے ہیں۔ تصاویر مانسی تھپليال کی ہیں۔ آرکائیو پکچرز ان کے اہل خانہ نے دی ہیں۔ انٹرویو دہلی میں ہوا اور فون کے ذریعے کراچی، لاہور، اسلام آباد اور کیلی فورنیا میں بات کی گئی)

اسی بارے میں