ایک سرحدی گاؤں: 'نہ انڈیا میں اور نہ پاکستان میں'

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
راوی اور پاکستان کے درمیان بسا گاؤں

گنيے کے بیٹ کا سفر طویل ہے۔ پہلے دریائے راوی کا تیز رواں پانی، پھر دریا کے کنارے پھیلی ریت۔ اور ہاں، بارڈر سکیورٹی فورس کی پوسٹ بھی تو ہے، جہاں موجود جوان آپ کی شناخت رجسٹر میں درج کرتے ہیں۔

ان سب کا سامنا کرتے اور بچتے بچاتے جب ہم جسونت سنگھ 'فوجی' کے گھر پہنچے تو مسکراتے ہوئے وہ کہنے لگے: 'کہتے ہیں ناں کہ دور کون جو دریا کے پار۔ کب بیڑی پڑے، کب پانی آ جائے۔ کچھ پتہ نہیں؟ ایک موت قدرت دیتی ہے، یہاں ہر روز موت ہوتی ہے۔'

'فوجی' تک پہنچنے کے لیے ہمیں تقریباً ایک کلومیٹر تک پھیلی سرخ ریت کے میدان کو پہلے پیدل اور پھر موٹر سائیکل پر سوار ہو کر عبور کرنا پڑا۔ کشتی کی سواری سے چھٹکارا بھلا کیسے ممکن تھا!

Image caption اپنے ٹریکٹر پر سوار جسونت سنگھ 'فوجی'

پاکستان کا نارووال شہر

’دقتیں بہت ہیں، بتانے سے باہر ہیں۔ جو سچ پوچھو تو دقتیں اتنی ہیں کہ انسانی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔'

فوجی یہ بات بھی دوسری چیزوں کی طرح لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہہ جاتے ہیں لیکن ان کی بات پوری ہونے تک یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ان حالات میں مسكرانا آسان نہیں۔

پاکستان کی سرحد پر آباد گنيے کے بیٹ سے سب سے نزدیک ہندوستانی شہر ڈیرہ بابا نانک ہے، جو اس کی تحصیل بھی ہے اور وہ وہاں سے 14 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ پرانی تحصیل بٹالہ تو 30 کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر تھی۔

پاکستان کا نارووال شہر یہاں سے محض آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

سیلاب کے دنوں میں جب دریائے راوی طغیانی پر ہوتا ہے تو گنيے کا بیٹ انڈیا سے كٹ كر 'نو مینس لینڈ' میں تبدیل ہو جاتا۔ جہاں پاکستان سے لگی سرحد پر خاردار باڑ لگے ہیں۔

بہت مصیبت ہے ۔۔۔

سرپنچ سکھدیو سنگھ کہتے ہیں: 'جب سیلاب آتا ہے تو ہمارا پیٹ ہندوستان سے کٹ جاتا ہے۔ کوئی ادھر پھنس جاتا ہے کوئی ادھر پھنس جاتا ہے۔ بہت مصیبت ہے جی ان دنوں میں۔'

اور اگر کوئی بیمار پڑ جائے تو؟ سکھدیو سنگھ کہتے ہیں: 'بیمار، پھر تو رب کے آسرا ہے جی۔'

گاؤں کے ہسپتال کے سامنے ہمیں میجر سنگھ ملتے ہیں جنھیں ایک ایکڑ زمین میں دھان لگانے کے لیے 2500-2600 روپے مل رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ 'بارڈر ایریا کا ریٹ' ہے۔ دوسری جگہوں پر انھیں اسی کام کے 2200 روپے ملیں گے۔ اگر تار کے پار جائیں گے تو ریٹ اور بڑھ جاتے ہیں، 2800 تک۔'

Image caption سنگھ کہتے ہیں کہ 'یہاں ایک ایکڑ زمین میں دھان لگانے کے لیے 2500-2600 روپے مل جاتے ہیں،

مزدوروں کی مانگ

گرو اقبال سنگھ کہتے ہیں کہ سرحدی علاقہ ہونے کی وجہ سے یہاں مزدوروں کا شناختی کارڈ بنوانے اور سکیورٹی کے دوسرے مسئلوں میں کوئی نہیں پھنسنا چاہتا۔

وہ کہتے ہیں: 'پہلے تو یہاں کوئی آنے کو تیار نہیں ہوتا ہے اور آنے پر زیادہ مزدوری کا مطالبہ کرتا ہے۔'

منڈی گاؤں سے تقریباً 20 کلو میٹر دور ہے۔ مال کو پہلے کشتی پر ڈال کر دریا میں اتارنا ہوتا ہے پھر کہیں مال منڈی پہنچتے ہیں۔ اس سے کاشت کا خرچ بڑھ جاتا ہے۔

سکھدیو سنگھ کہتے ہیں: 'دیکھیے، اس بار کشتی چھوٹی ہے۔ ٹریکٹر لوڈ نہیں ہوتا ہے اور موٹر سائیکل چڑھانے میں بھی دقت ہوتی ہے۔'

وہ سوال کرتے ہیں: 'اب اگر ٹریکٹر خراب ہو جائے تو اسے ٹھیک کروانے کے لیے دوسری طرف کس طرح لے جائیں؟'

Image caption ہسپتال کی حالت کچھ اس طرح ہے

سکول کی حالت

مزدوروں نے اپنے سامان ہسپتال کے برآمدے میں رکھا ہوا ہے۔ بالکل سامنے ایک چھوٹا سا خیمہ بھی لگایا گیا ہے۔

ہسپتال کے کمروں کے دروازوں پر ہلکے زنگ آلود تالے پڑے ہیں، جیسے کافی دنوں سے کھلے ہی نہ ہوں۔

مقامی امريک سنگھ کہتے ہیں: 'ڈاکٹر دو چار مہینوں میں دو ایک گھنٹے کے لیے آ جاتے ہیں۔ جب دل ہوا آئے، جب دل نہیں ہوا نہیں آئے۔'

مویشی ہسپتال اور گاؤں کے سکول کی حالت بھی ہسپتال سے مختلف نہیں ہے۔

كلجيت سنگھ کہتے ہیں کہ ان کی بچی تو دھرم كوٹ پڑھنے جاتی ہے، لیکن گاؤں کے تمام بچے باہر نہیں جا سکتے ہیں۔ سب کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔

Image caption دریائے راوی میں طغیانی آنے پر یہ گاؤں ہندوستان سے کٹ جاتا ہے

شرح خواندگی

سرحدی علاقے میں خواندگی کی شرح پنجاب کے دوسرے علاقوں کی بہ نسبت کم ہے۔

سماجی علوم کے ماہر پروفیسر جگ روپ سنگھ شیخوں کے ذریعہ کیے جانے والے ایک مطالعے میں کہا گیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں خواندگی کی شرح پنجاب کے دوسرے علاقوں سے کم ہے۔

سرحد کے علاقے میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں خواندگی کی شرح ان اضلاع کے اندرونی علاقوں سے بھی کم ہے۔

جیسے سنہ 2001 کی مردم شماری کے مطابق امرتسر اور فیروزپور میں شرح خواندگی 67۔85 فیصد اور 61۔4 فیصد تھی۔

انہی اضلاع کے سرحدی علاقے میں ان کا فیصد 56 اور 57۔6 فیصد پایا گیا۔

Image caption لوگوں کو طویل عرصے سے پل نہ تعمیر ہونے کا ملال ہے

ڈیرہ بابا نانک میں ۔۔۔

اوتار سنگھ اسی گاؤں کے ہیں اور آج کل وہ چھٹیوں میں دبئی سے، جہاں وہ ٹرالی چلاتے ہیں، گاؤں آئے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، پہلے یہاں سات گاؤں ہوتے تھے لیکن اب صرف گنيے کا پیٹ ہی بچ گیا ہے۔

کہتے ہیں یہاں صرف معمر افراد ہی رہ گئے ہیں جو گھروں کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ باقی لوگ منتقل ہو گئے ہیں، جو صبح آتے ہیں شام کو چلے جاتے ہیں۔

اوتار سنگھ خود خاندان کے ساتھ ڈیرہ بابا نانک میں رہتے ہیں۔

ہندوستانی فوج کی سیونتھ کیولری کا حصہ رہنے والے جسونت سنگھ فوجی کے بیٹے بھی بٹالہ شفٹ ہو چکے ہیں۔ وہاں وہ سکول چلاتے ہیں۔

مگر جسونت کہتے ہیں انھیں یہاں کی عادت ہو گئی ہے۔

کبھی ٹینک چلانے والے جسونت سنگھ پورے علاقے میں اپنا ٹریکٹر دوڑاتے پھرتے ہیں۔

ہمیں بھی اس پر بٹھا کر وہ پل دکھانے لے جاتے ہیں جو سالوں سے بنایا جا رہا ہے اور جس کے بننے کے بعد یہاں کے لوگوں کی زندگیاں آسان ہو جائیں گی۔ لیکن پل ہے کہ مکمل ہی نہیں ہو پا رہا ہے۔

ہنستے ہوئے پنجابی میں وہ ایک کہاوت سناتے ہیں: 'جتنا آدمی ترقی کر رہا ہے، دقتیں بڑھتی جا رہی ہیں۔' یہ کہتے وقت ان کی نگاہ پل کی طرف ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں