ایران کی چند گھنٹوں میں جوہری پروگرام دوبارہ شروع کرنے کی دھمکی

President Hassan Rouhani addresses the Iranian parliament on 15 August 2017 تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حسن روحانی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکہ ’قابلِ بھروسہ‘ مذاکرات کار نہیں ہے

ایران کے صدر حسن روحانی نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں تو وہ ’چند ہی گھنٹوں‘ میں اپنا جوہری پروگرام دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔

صدر حسن روحانی نے کہا کہ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے تحت ایران نے اپنا جوہری پروگرام روک دیا تھا لیکن اگر یہ پروگرام دوبارہ شروع کیا گیا تو یہ 2015 کے مقابلے میں زیادہ جدید ہو گا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اُس کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنانے کے لیے امریکہ کی جانب سے یکطرفہ پابندیاں معاہدے کی خلاف ورزی ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران کا میزائل پروگرام اقوام متحدہ کی قرارداد کی خلاف ورزی ہے۔

٭ بیلسٹک میزائل تجربہ: امریکہ کی ایران پر مزید پابندیاں

٭ ایران کے 'میزائل تجربے' پر اسرائیل ناراض

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی قرارداد کے متن کے مطابق ’ایران ایسی کوئی بھر سرگرمی جاری نہیں رکھ سکتا، جیسے جوہری ہتھیار لے جانے کی صیلاحیت والے بیلسٹک میزائل وغیرہ۔‘

ایران کا کہنا ہے کہ اُس نے جوہری ہتھیار لے جانے والے میزائل کے تجربات نہیں کیے ہیں اور ایران کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

منگل کو ایران کے صدر حسن روحانی نے پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کے دوران اس بات پر زور دیا کہ اُن کا ملک جوہری معاہدے کے تحت کیے گئے وعدے پورا کرنا چاہتا ہے لیکن انھوں نے خبردار کیا کہ یہ ’واحد آپشن‘ نہیں ہے۔

حسن روحانی نے جوہری معاہدے کو ’امن اور سفارت کاری کی فتح کا ماڈل‘ قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایران کا کہنا ہے کہ وہ ایک 'ناتجربہ کار شخص' کی جانب سے امریکہ کی 'بیکار' دھمکیوں کے سامنے نہیں جھکے گا

یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے گئے جوہری معاہدے کو ختم کر دیں گے جبکہ رواں سال جنوری میں کیے گئے میزائل تجربے کے بعد امریکی انتظامیہ نے کہا تھا کہ ایران کی ’جارحانہ اور متنازع سرگرمیوں پر امریکہ زیادہ دیر تک آنکھ بند نہیں کر سکتا۔‘

٭ 'امریکہ دھمکیاں دینا بند کرے، ایران ڈرنے والا نہیں'

’جوہری ہتھیاروں پر عالمی پابندی حقیقت پسندانہ نہیں‘

گو کہ امریکہ نے یہ تسلیم کیا تھا کہ ایران کا میزائل تجربہ جوہری معاہدے کی ’براہ راست خلاف ورزی‘ نہیں ہے لیکن پھر بھی امریکہ نے ایران کے میزائل پروگرام اور طاقتور افواج پاسدرانِ انقلاب سے وابستہ 25 افراد پر پابندیوں عائد کی ہیں۔

رواں سال جولائی میں ایران کی جانب سے خلا میں راکٹ بھیجنے کے کامیاب تجربے کے بعد بھی امریکہ نے چھ کمپنیوں پر پابندی لگائی تھی۔

اگست میں صدر ٹرمپ نے امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کیے گئے قانون پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت صدر کسی بھی ایسے شخص کے خلاف پابندیاں لگا سکتے ہیں جو ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسدرانِ انقلاب کی معاونت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں جیسی کارروائیوں میں ملوث ہو۔

ایران کے اراکینِ پارلیمان نے امریکہ کی جانب سے ان اقدامات کے ردعمل کے طور پر ایسے قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت بیلسٹک میزائل پروگرام اور پاسدرانِ انقلاب کے شعبے قدس فورس کے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں