ایران میں بی بی سی کے اہلکاروں کے اثاثے منجمد

ایران کا عدالتی حکم تصویر کے کاپی رائٹ BBC Persian
Image caption بی بی سی نے بی بی سی فارسی سے منسلک صحافیوں کے اثاثوں کو منحمد کرنے کے عدالتی فیصلے کی کاپی حاصل کرلی ہے

بی بی سی کی انتظامیہ نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بی بی سی فارسی سروس کے سٹاف کے ایران میں قابل منتقل اثاثوں کو منجمد کرنے کے عدالتی فیصلے کو فوراً ختم کرے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی ڈائریکٹر فرانسیسکا انزورتھ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بی بی سی فارسی کے موجودہ، سابق اور معاون عملے کے ایران میں تمام اثاثوں کو منجمد کرنے کا فیصلہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

ایران کی عدلیہ کے ایک حکم کے مطابق بی بی سی سے منسلک تمام افراد کو ایران میں اپنے قابلِ انتقال اثاثوں، یعنی گھر، کار اور دوسری کارآمد اشیا کو بیچنے پر پابندی ہے۔

ایران میں بی بی سی کی تمام نشریات پر پابندی ہے اور اسے دیکھنے اور سننے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔ پابندی کے باوجود بی بی سی فارسی سروس کو ایران میں بڑے پیمانے پر دیکھا اور سنا جاتا ہے اور سالانہ تیرہ ملین فارسی بولنے والے لوگ بی بی سی فارسی تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ بی بی سی فارسی سروس بی بی سی ورلڈ سروس کی ساتویں بڑی سروس مانی جاتی ہے۔

حالیہ برسوں میں ایرانی حکام کی جانب سے بی بی سی فارسی کے سٹاف اور ان کے رشتہ داروں کو ڈرانے دھمکانے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

بی بی بی فارسی نے تہران کی جیل ایون کے شاہد موغاداس کورٹ ہاؤس سے منظور ہونے والے عدالتی حکم کی کاپی حاصل کی ہے جس کے مطابق بی بی سی سے منسلک 152 افراد کے جن میں اس کے موجودہ، سابق اور معاون عملہ بھی شامل ہے، ایران میں تمام قابلِ انتقال اثاثوں کو منجمد کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC persian

بی بی سی کو اس عدالتی حکم کا علم اس وقت ہوا جب بی بی سی فارسی سروس سے منسلک ایک صحافی کی ایما پر اس کے رشتے دار نے ایران میں اس کی جائیداد کو فروخت کرنے کی کوشش کی۔

ایران کی عدلیہ نے اس فیصلے کی کوئی توجیح پیش نہیں کی ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی ڈائریکٹر فرانسیسکا انزورتھ نے کہا ہے کہ ایرانی عدلیہ کی جانب سے ایرانی شہریوں کو بی بی سی سے منسلک ہونے کی بیناد پر ان کو مالی اور قانونی حقوق سے محروم کرنے کا فیصلہ انتہائی 'ہولناک' ہے ۔

بی بی سی نے ایرانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو فوراً واپس لیں اور بی بی سی سے منسلک تمام افراد کے وہی مالی اور قانونی حقوق بحال کیے جائیں جو ان کے دوسرے ہم وطنوں کو حاصل ہیں۔

بی بی سی فارسی نے ایرانی عدلیہ کے اس حکم کو غیر جانبدار اور صحافیوں کی آواز کو دبانے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

بی بی سی فارسی کے قائم مقام ایڈیٹر عامر عظیمی نے کہا ہے کہ بی بی سی کے صحافی آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور قابل اعتبار خبروں کو فارسی بولنے والوں تک پہچنانے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

متعلقہ عنوانات