تقسیم کے 70 سال: ’انڈیا کے لیے بٹوارہ آزادی کی قیمت تھا‘

تقسیمِ ہند تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY THE PARTITION MUSEUM, TOWN HALL, AMRITSAR

مشہور مصنفہ کرشنا سوبتی نے کہا تھا کہ 'انڈیا اور پاکستان کی تقسیم کو بھولنا مشکل ہے اور یاد رکھنا خطرناک۔'

انھی کے دور کی مصنفہ امرتا پریتم نے بٹوارے کو لے کر اپنا درد ایک نظم کے ذریعہ بیان کیا تھا۔

تقسیمِ ہند کے 70 برس: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

میرا بٹوارہ

تقسیم کی ایک نامکمل محبت کی کہانی

اس نظم میں انہوں نے پنجاب کے عظیم شاعر وارث شاہ کو آواز دے کر اپنی تکلیف بیان کی تھی۔

امرتا پریتم نے پنجابی میں جو نظم لکھی تھی، وہ کچھ یوں تھی،

اج آکھاں وارث شاہ نوں کتھوں قبراں وچوں بول

تے اج کتابِ عشق دا کوئی اگلا ورقہ پھول

اک روئی سی دھی پنجاب دی تو لِکھ لِکھ مارے وين

اج لکھاں دھياں روندياں تينوں وارث شاہ نوں کین

اٹھ دردمنداں دیا درديا اٹھ تک اپنا پنجاب

اج بيلے لاشاں وچھياں تے لہو دی بھری چناب۔۔۔۔

امرتسر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انسانیت کو ملے زخم بھرے نہیں

ان دونوں ہی مصنفین نے اپنے اپنے طریقے سے بٹوارے کے مسائل پر اپنی رائے دی تھی۔ اس دور کے انتہائی تکلیف دہ واقعات کو یاد کرنے کی مشکل اور ان کے بارے میں بات کرنے کے چیلنج کو کرشنا سوبتی اور امرتا پریتم نے بخوبی نبھایا تھا۔

انڈیا اور پاکستان کی تقسیم کو 70 برس مکمل ہو چکے ہیں لیکن دونوں ملک آج تک اس تکلیف سے نکل نہیں سکے۔ اس دوران انسانیت کو جو زخم ملے، وہ اب تک پوری طرح نہیں بھرے ہیں۔

تکلیف کا وہ دور بہت سے گھروں میں ٹھکانہ بنائے بیٹھا ہوا ہے۔ تقسیم کا درد برداشت والوں نے ہزار بار یہ قصے اور آپ بیتیاں اپنے گھر والوں، رشتہ داروں، دوستوں اور جاننے والوں کو سنائیں۔

اس درد کو بار بار بتا کر بٹوارے کے شکار لوگوں نے اپنا درد کم کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے اپنے تجربے بانٹ کر بتایا کہ اس وقت کس طرح انہیں اپنا وطن اور اپنا گھر بار بٹوارے کی وجہ سے گنوانا پڑا تھا۔

تقسیمِ ہند تصویر کے کاپی رائٹ COURTESY THE PARTITION MUSEUM, TOWN HALL, AMRITSAR

پناہ گزینوں کے خاندان سے تعلق

مگر چاردیواری کے باہر ان درد بھرے قصوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ زیادہ تر لوگ تو ان باتوں کو سننا بھی نہیں چاہتے تھے۔ جن لوگوں نے یہ قصے سنے بھی، انہیں بھی یہ اتنے اہم نہیں لگے کہ انھیں تقسیم کی تاریخ میں شامل کرتے۔

پھر بھی، انڈیا اور پاکستان کا بٹوارہ اتنا پرتشدد تھا، اس میں اتنا خون بہا تھا کہ آج یہ ضروری ہے کہ ہم اسے یاد رکھیں۔

میں کئی بار اپنے خاندان کے ماضی کے بارے میں سوچتی ہوں۔ میں پناہ گزینوں کے خاندان سے تعلق رکھتی ہوں۔ میرے والدین کو بٹوارے کی وجہ سے اپنا گھر بار، شہر چھوڑنا پڑا تھا۔

اگرچہ قسمت اچھی تھی کہ دونوں ہی تشدد کا شکار ہونے سے بچ گئے تھے۔ پھر بھی بٹوارے کا زخم ان کے دلوں میں بہت گہرا تھا۔

پناہ گزین کیمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

میری دادی،ماموں نے مذہب تبدیل کر لیا

میری ماں کے بھائی اس وقت 20 برس کے تھے۔ انھوں نے پاکستان میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے میری نانی کا بھی مذہب تبدیلی کروا دیا تھا۔ وہ بھی مسلمان ہو گئی تھیں۔

میری ماں اور ان کے دوسرے بھائی بہن پھر کبھی اپنی ماں سے نہیں ملے۔ میں اپنی پوری عمر ماما اور نانی کی کہانی سنتی آئی ہوں۔

اگرچہ میں نے ان باتوں پر یہ سوچ کر زیادہ توجہ نہیں دی کہ یہ تو بزرگوں کے قصے ہیں لیکن 1984 میں جب میں نے دہلی میں سکھوں کے خلاف شدید تشدد دیکھا، تب مجھے بٹوارے کے قصوں کی اہمیت کا احساس ہوا اور میں نے وہ قصے سنجیدگی سے سننا شروع کیے۔

شاہی مسجد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بٹوارہ آزادی کی قیمت؟

آخر ان کہانیوں کو اب تک توجہ کیوں نہیں دی گئی؟ کیا وہ تقسیم اور آزادی کی تاریخ کا حصہ نہیں ہیں؟ کیا ہم انھیں اس وجہ کو نظر انداز کرتے ہیں کہ اس تاریخ کے تمام کردار آج بھی زندہ ہیں؟

ان سوالات کے جوابات تلاش کرنا اتنا آسان نہیں، مگر اتنا مشکل بھی نہیں۔ انڈیا کے لیے بٹوارہ آزادی کی قیمت تھا۔

جب بھی ہم آزادی کا جشن منانے بیٹھیں، بٹوارے کا درد ابھر آتا ہے جو آزاد ہندوستان کی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔

اس واقعے کی سیاسی تاریخ تو یاد رکھی جاتی ہے، مگر بٹوارے کے انسانی تجربے اور انسانی تکلیف کے قصے دفن کرنے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔

تقسیم تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نئی نسل کی عدم دلچسپی

پاکستان کے لیے بٹوارے سے زیادہ اہمیت ایک نئے ملک کا بننا تھا۔ مسلمانوں کا اپنا وطن۔ اسی لیے پاکستانیوں کو اس دور کے خون خرابے کو یاد رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اس دور کے لوگوں کے لیے اور بھی چیلنج تھے۔ بٹوارے کے دوران تشدد کی یادیں اگرچہ ذہن سے نہیں گئیں لیکن اس دوران پہلا چیلنج زندگی کو دوبارہ پٹری پر لانے کا تھا۔

اپنا گھر بار لٹا كر آنے والے لوگوں کے لیے اس تکلیف کو یاد کرنے سے زیادہ اہم آگے کی زندگی کی فکر کرنا تھا۔ ان کے پاس تکلیفوں کو یاد کرنے کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔

لوگوں کو کچھ باتیں اور واقعات یاد رکھنے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے، جن سے وہ درد یا خوشی بانٹ سکیں، قصے شنا سکیں لیکن برسوں سے ہم جیسے لوگ جنھوں نے بٹوارے کا درد نہیں جھیلا تھا وہ یہ قصے سننے کو راضی نہیں تھے۔

ہم اپنے ماں باپ یا دادی دادا سے وہ قصے سننے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے تھے۔

تقسیمِ ہند تصویر کے کاپی رائٹ Keystone/Getty Images

اپنی عورتوں اور بچوں کو خود مارا

ویسے بھی کچھ بری یادوں کو ذہن سے مٹا دینا ہی سکون فراہم کرتا ہے۔

بٹوارے کے دوران جو خواتین جنسی تشدد کی شکار ہوئیں، ان کے لیے وہ برا وقت یاد کرنا مزید تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایسے میں اسے یاد کرنے کا کیا فائدہ؟ اس میں ایسا کیا تھا جسے وہ یاد کرتیں؟

ویسے ہی جنسی تشدد کی شکار خواتین شرمندگی کا بوجھ اپنے دل دماغ پر اٹھائے پھرتی ہیں۔ ایسی تاریخ کو یاد کس طرح رکھا جائے؟

بہت سے ایسے لوگ تھے جنھوں نے اپنے خاندان کی عورتوں اور بچوں کو اپنے ہاتھوں سے مار ڈالا تھا، تاکہ وہ جنون کا شکار نہ ہوں۔ ان لوگوں کو ڈر تھا کہ ان کے خاندان کی عورتوں اور بچوں کو اغوا کرکے ان کا مذہب تبدیل کروا دیا جائے گا۔

آخر ہم ایسی پرتشدد باتوں کو کس طرح یاد رکھیں؟ کون اس بارے میں بات کرنا چاہتا ہے؟

تقسیمِ ہند تصویر کے کاپی رائٹ Keystone Features/Getty Images

قصوں کو یاد رکھنا ضروری

اس کے باوجود، بٹوارے کی تاریخ، صرف پرتشدد واقعات کی تاریخ نہیں ہے۔ اس میں ہمدردی ہے، امید ہے، اقلیتوں کے تمام کرداروں کے قصے ہیں۔

بہت سے لوگوں نے جنون کے اس دور میں بھی انسانیت اور دوستی کو زندہ رکھا تھا۔ 71 سال بعد بھی ہم بمشکل ہی ان انسانی پہلوؤں پر غور کرتے ہیں۔

مگر ہماری تاریخ کے یہ وہ صفحات ہیں جو بےحد اہم ہیں۔ ان کے ذریعے ہی ہم بٹوارے کے اثر کا صحیح اندازہ کر سکیں گے تو ان قصوں کو یاد رکھنا ضروری ہے۔

آج یہ بہت ضروری ہے کہ ہم بٹوارے کے اس درد کو یاد رکھیں کیونکہ ہم اسے یاد رکھیں گے تبھی وہ ہماری زندگی کا اہم حصہ بنے گا۔

اسی طرح سے ہم اپنے سیاہ ماضی کو سمجھ سکیں گے اور مستقبل کے لیے سبق سیکھ سکیں گے۔

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں