انڈیا اور چین کی سرحد پر کون کیا تعمیر کر رہا ہے؟

انڈیا اور چین کی سرحد تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔ دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

انڈیا کی حکومت کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر 'ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور موجودہ صورت میں اہم تبدیلی کا باعث' ہے۔

دونوں ملک سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے منصوبوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ چین میں ڈوگلام اور انڈیا میں ڈوكلام کہا جانے والا علاقہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کا اہم سب ہے۔

اپنے فوجی ہارڈویئر کی تجدید کے ساتھ ہی ساڑھے تین ہزار کلومیٹر طویل سرحد پر سڑکوں، پلوں، ریل لنک اورفضائیہ کی بہتری کے لیے تعمیرات کے منصوبوں میں دونوں ہی نے کافی پیسہ لگایا ہے اور بڑی تعداد میں اپنے لوگوں کو بھی جھونک رکھا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

بھارت کے ساتھ ملحق سرحد پر چین نے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کی اپنی معروف صلاحیتوں کا بہترین استعمال کیا ہے۔ خبروں کے مطابق اس نے سرحد پر 15 بڑے ہوائی اڈوں اور 27 چھوٹی ہوائی پٹیوں کی تعمیر کی ہے۔ ان میں سے سب سے خاص ہر موسم میں استعمال کیا جانے والا تبت کا ہوائی اڈہ ہے، جہاں اعلیٰ درجے کے جنگی طیاروں کی تعینات کیا گيا ہے۔

فضائی شعبے کے علاوہ، کچھ لوگوں کے مطابق چین کے تبت اور یونان صوبے میں وسیع سڑک اور ریل نیٹ ورک بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چینی فوج کے پاس اب صرف 48 گھنٹوں میں بھارت سے متصل چينی سرحد پر پہنچنے کی صلاحیت ہے۔

بعض خبروں کے مطابق، چین نے حقیقی کنٹرول لائن کے پاس 31 راستوں پر سڑکیں بنائی ہیں۔

اگرچہ چین نے اس شعبے میں ابتدائی برتری ضرور حاصل کر لی ہے تاہم انڈیا کی ایک ویب سائٹ 'فرسٹ پوسٹ' کے مطابق انڈیا بھی 'گذشتہ چند سالوں میں نیند سے جاگ گیا ہے۔'

برسوں کی غفلت کے بعد، انڈیا بہت تیزی سے اپنی سرحدوں پر بنیادی ڈھانچے کو اپ گریڈ کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ چین کی برتری کے اثر کو کم کیا جا سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جولائی میں ایک بھارتی وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ انڈیا نے چین سے متصل سرحد پر 73 سڑکوں کو بنانے کی منظوری دی ہے لیکن ان میں سے اب تک صرف 30 ہی مکمل کی جا سکی ہیں۔

چین کا دعویٰ ہے کہ چین اور پاکستان کی سرحد پر وہ '14 سٹریٹجک طور پر اہم ریلوے لائنیں' تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس کے مد نظر انڈیا اروناچل پردیش کے توانگ میں ریل لنک تعمیر کرنے کے امکانات بھی تلاش کر رہا ہے۔

مئی میں بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے شمال مشرقی ریاست آسام میں ملک کے سب سے طویل پل کا افتتاح کیا تھا تاکہ فوجیوں اور ساز و سامان کی فوری طور پر آمد و رفت میں آسانی ہو سکے۔

فضائی نقطۂ نظر سے انڈیا اروناچل کے توانگ اور دراگ میں دو ایڈوانس لینڈنگ گراؤنڈ (اے ایل جی) بنانے کے ساتھ ہی شمال مشرقی علاقے میں پہلے سے تعمیر شدہ چھ اے ایل جی کو اپ گریڈ بھی کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مقامی رپورٹوں کے مطابق انڈیا کے پاس چین کی سرحد کے مغربی اور مشرقی حصے سے ملحق 31 فضائی علاقے ہیں جن میں آسام کے چابا اور تتیج پور کا ائرپورٹ سب سے خاص ہے۔

ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ فضائی معاملے میں انڈیا کو چین پر برتری حاصل ہے، کیونکہ چین کے فضائی اڈے اونچائی پر ہیں جہاں فوجی رسد اور ایندھن کو پہنچانا آسان نہیں ہوتا۔

لڑائی کی صورت میں تیزی سے جواب دینے کے لیے اعلیٰ درجے کے بنیادی ڈھانچے کافی مدد گار ہو تے ہیں۔ اسی لیے انڈیا اور چین متنازع سرحدی علاقوں میں سٹریٹجک ایڈوانٹیج حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے کے تعمیراتی کام پر نظر رکھتے ہیں اور جب بھی ایسے بڑے منصوبوں کا اعلان ہوتا ہے تو اکثر کشیدگی بڑھ جاتی ہے۔

پی ایل اے اکیڈمی آف ملٹری سائنس میں رسرچر چاو شيازو چین کی سڑک کی تعمیر پر انڈيا کے خدشات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ وہ انڈيا کی جانب سے منظور کردہ حالیہ منصوبوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب سرحدی بنیادی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی بات آتی ہے تب انڈيا دہرے معیار اپناتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈین فوج کے ایک سابق افسر کہتے ہیں: 'شاید 20 سال لگیں گے، لیکن ایک بار جب ہم چینی سرحد کے نزدیک اپنے بنیادی ڈھانچے کو بہتر کر لیں گے تب ہم بہتر مواصلاتی رابطوں سے لیس ہوں گے اور تنازعات پر بے فكر رہیں گے۔ لیکن ابھی نہیں۔'

انڈیا کا اپنے دفاعی بنیادی ڈھانچے میں توسیع کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا سٹریٹجک تبدیلی پر کتنا زور ہے۔

اس نئی منطق کا حوالہ دیتے ہوئے دفاعی امور کے ماہر کے وی کبیر کہتے ہیں کہ نیا بنیادی ڈھانچہ انڈيا کو چین کی جانب سے ہونے والی کسی بھی جرات آزمائی کا جواب دینے میں مدد ملے گی۔ لیکن دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ چین کے برابر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں انڈیا کو ابھی ایک دہائی کا وقت لگے گا۔

چین اس علاقے میں اپنے موثر نقل و حمل کے نیٹ ورک کو زور شور سے دکھاتا رہا ہے۔ چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے ایک مضمون کے مطابق چین کی تیز رفتار اور لاجسٹکس صلاحیت کا انڈیا سے کوئی میل نہیں ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ تبت میں لائیو فائرنگ ڈرل انڈیا کو دکھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاکہ چین کے بہتر بنیادی ڈھانچے کا پیغام دیا جا سکے۔

شنگھائی انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز میں ایک ماہر وانگ ڈیہو کا کہنا ہے کہ فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت اس بات کی مظہر ہے کہ چین کی مغربی حدود کی حفاظت کرنا کتنا آسان ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں چینی فوج کے ماہر سری کانت كوڈاپلّی کا کہنا ہے کہ فوج کی تربیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت کی صورت میں انڈيا کو برتری حاصل ہے جبکہ بنیادی ڈھانچے، لاجسٹکس اور رسد کی فراہمی کے معاملے میں چین بہت مضبوط ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں