کیا کشمیر فلسطین بن جائے گا؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption وزیراعلی بار بار یہ کہتی ہیں کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی نے یقین دلایا ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی۔

جب 1950 میں انڈیا کی پارلیمنٹ نے ملک کا آئین منظور کیا تو اس میں انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت خصوصی درجہ دیا گیا۔

اس دفعہ کے تحت انڈیا کی کسی بھی ریاست کا شہری کشمیر میں زمین یا دوسری جائیداد کا قانونی مالک نہیں بن سکتا۔ کشمیر میں سرکاری ملازمت کے لیے عرضی نہیں دے سکتا اور مقامی حکومت کی سکالرشپ کا مستحق نہیں ہوسکتا۔

لیکن شہری حقوق کی مزید وضاحت چار سال بعد انڈین آئین میں دفعہ 35-A کے تحت کی گئی۔ اس میں واضح کیا گیا کہ کشمیریوں کو پورے انڈیا میں شہری حقوق حاصل ہونگے لیکن دیگر ریاستوں کے انڈین باشندوں کو کشمیر میں یہ حقوق نہیں ہوں گے۔ دفعہ 370 کے تحت کشمیر کے حکمران کو وزیراعظم کہلایا جانا تھا اور ریاست کے سربراہ کو صدر کا عہدہ ملنا تھا۔

لیکن 1975 میں اندرا گاندھی اور شیخ عبداللہ کے درمیان تاریخی معاہدے کے بعد یہ عہدے باقی ریاستوں کی طرح وزیراعلیٰ اور گورنر کہلائے۔ تاہم شہریت کے خصوصی حقوق کو دفعہ 35-A کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔

تین سال قبل جب انڈیا میں نریندر مودی کی حکومت قائم ہوئی اور کشمیر میں بھی بی جے پی اقتدار کا حصہ بنی تو پورے ملک میں یہ بحث چھڑی کہ کشمیر کو انڈین وفاق میں مکمل طور پر ضم کرنے میں ہر بار 35-A ہی رکاوٹ ہے۔ آر ایس ایس کے قریب سمجھی جانے والی ایک رضاکار تنظیم ’وی دی سٹیزنز‘ نے سپریم کورٹ میں اسی دفعہ کے خلاف درخواست دائر کی ہے جس پر سپریم کورٹ نے حمایتی ریمارکس کے بعد پانچ ججوں پر مشتمل خصوصی بینچ قائم کیا ہے۔ انڈین حکومت اور بھاجپا کی قیادت کی طرف سے بھی یہ اشارے مل رہے ہیں کہ پورا سسٹم اس منفرد نظام کا خاتمہ چاہتا ہے۔

اسی وجہ سے کشمیر کے ہندنواز حلقے، سماجی اور تجارتی انجمنیں اور علیحدگی پسند قیادت آج کل مشترکہ مزاحمت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے تو یہاں تک کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو کشمیر میں بھارتی ترنگا تھامنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حزب مخالف کے رہنما فاروق عبداللہ نے بھی خطرناک نتائج سے حکومت کو آگاہ کیا ہے۔

سماجی سطح پر اس اقدام کی مزاحمت کرنے والے معروف وکیل ظفرشاہ کہتے ہیں ’اگر یہ دفعہ سپریم کورٹ نے خارج کر دی تو کشمیر کو فلسطین بننے سے کون روکے گا۔ بڑی بڑی صنعتی کمپنیاں یہاں مہنگے داموں زمینیں خریدیں گے، لوگ یہاں آباد ہوجائیں گے، اور کشمیر کا مسلم اکثریتی کردار اقلیت میں بدل دیا جائے گا۔‘

حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے مشترکہ طور گذشتہ ہفتے دفعہ 35-A کے حق میں ہڑتال کی کال دی تو جموں کے مسلم اکثریتی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی بھر میں عام زندگی معطل ہوگئی ۔ وزیراعلی بار بار یہ کہتی ہیں کہ انہیں وزیراعظم نریندر مودی نے یقین دلایا ہے کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں ہوگی، لیکن وزیراعظم کی طرف سے ابھی تک کوئی وضاحت نہیں ہوئی۔

سینیئر صحافی مزمل جلیل کہتے ہیں: "یہ ایک پیچیدہ آئینی مسئلہ ہے۔ لیکن سپریم کورٹ میں یہ درخواست دائر کرنے کے پیچھے سیاسی مقاصد کارفرما ہیں، ظاہر ہے سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی سیاسی ہی ہوگا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں