تقسیم ہند: انڈیا سے پاکستان پہنچے اور ایران میں جا بسے

محمد اسلام شیخ اس وقت صرف چار برس کے تھے جب ان کا خاندان سرحد پار کر کے امرتسر سے پاکستان منتقل ہوا اور کراچی میں بس گيا۔

لیکن منتقلی کے کچھ دن بعد ہی ان کی ماں کا انتقال ہو گيا اور اس طرح ایک نئے ماحول میں بغیر ماں کے ان کا رہنا تھوڑا اور مشکل لگنے لگا۔

اسلام شیخ جب 20 برس کے ہوئے تو کمائی کے اچھے مواقع کی تلاش میں اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، جو پہلے ایران میں رہ چکے تھے، پڑوسی ملک کا رخ کیا۔

٭ مہندرا اینڈ محمد کو تقسیم نے کیسے الگ کیا؟

٭ تقسیم کی ایک نامکمل محبت کی کہانی

ان کی صاحبزادی روزینہ نے بی بی سی کو بتایا: 'میرے دادا کی واپسی کے بعد میرے والد نے بھی ایران میں ہی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔'

Image caption اسلام شیخ اپنی بیوی کے ساتھ

ایران کی جنوب مغربی ریاست خویزستان کے شہر ابدان میں تیل کی بڑی ریفائنیریز اور کارخانے ہیں جہاں سنہ 1979 کے انقلاب سے پہلے بہت سے بیرونی ممالک کے لوگ بھی آباد تھے۔ ایران کا یہ وہ ہی شہر تھا جہاں سے اسلام شیخ نے کاروبار میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔

سنہ 1950 کے دوران ابدان بہت ہی خوشحال علاقہ تھا جہاں بیرونی ممالک کے بہت سے لوگ تیل کی ریفائنریوں میں کام کے لیے شوق سے آتے تھے۔

روزینہ کہتی ہیں: 'جب وہ ابدان پہنچے تو وہ 20 برس کی دہلیز پار کر چکے تھے، تھوڑی بہت فارسی زبان آتی تھی لیکن ان میں بلا کی امیدیں اور امنگیں تھیں۔ وہ زندگی میں چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعز‍م تھے اور نیشنل پیٹرو کیمیکل کمپنی میں کام کرنا شروع کر دیا، پھر بعد میں معروف 'ابدان ہوٹل' کے مینیجر مقرر ہوئے، جہاں میرے والدین نے اپنی شادی کی تقریب بھی منائی۔'

Image caption روزینہ شیخ اسلام کی چھوٹی بٹی ہیں

بتدریج اسلام شیخ نے نئی زبان اور ایرانی تہذیب و ثقافت کو اپنا لیا۔

روزینہ بتاتی ہیں: 'میری والدہ اشرف ناصری کا تعلق دارالحکومت تہران سے تھا۔ ان کے والد کا کام ایسا تھا کہ انھیں ابدان شہر کے پاس ہی خرم شہر منتقل ہونا پڑا، جہاں میری ماں نے بطور ایک نرس کام کرنا شروع کیا۔'

قسمت دونوں کو ایک ساتھ لے آئی۔ 28 سالہ پاکستانی شخص نے نوجوان نرس کو اتفاق سے ایک ہی راستے سے گزرتے ہوئے کئی بار دیکھا تھا۔ ان پر ان کا دل بھی آگيا لیکن انھیں کبھی آپس میں بات کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ دوسری جانب 24 سالہ نرس سب کچھ بھول کر اپنے کریئر میں منحمق تھیں۔

'دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک روز ایک دوست کے گھر ظہرانے پر، جو کافی مصالحے والا کھانا تھا، میری ماں نے کہا کہ وہ زیادہ مصالحے والے کھانے پسند نہیں کرتی ہیں۔ تو ان کی سہیلی کے شوہر نے ان سے کہا کہ اس کی عادت ڈال لیجیئے، کیا پتہ آپ کی شادی کسی انڈین یا پاکستانی سے ہو جائے۔ میری ماں نے کہا کہ یہ شاید کبھی نہیں ہو گا۔'

Image caption شیخ اسلام کے والد جو امرتسر سے کراچی منتقل ہوئے تھے

'میرے والد نے میری ماں کو شہر میں کئی بار دیکھا تھا۔ ایک بار ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے انھیں ایک فوٹو البم دکھایا تو اس میں انھوں نے ایک خاص فوٹو کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تصویر میں موجود خاتون کے بارے میں دریافت کیا۔'

ان دونوں کا تعارف مشترکہ دوست کے ذریعے ہوا اور پھر والدین کے تحفظات کے باوجود دونوں کی منگنی ہوئی اور پھر سنہ 1968 میں شادی کر لی۔ بعد میں دونوں تہران منتقل ہوگئے جہاں پر شیخ نے ایکسپورٹ امپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔

سنہ 1979 میں انقلاب کے دوران ایران کے حالات بڑی تیزی سے بدلنے لگے اور جیسے جیسے ملک افرا تفری کا شکار ہوتا گيا وہ دیوالیہ ہو کر رہ گئے۔ اس کے فوراً بعد عراق کے ساتھ جنگ شروع ہوگئی جو آٹھ برسوں تک جاری رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rozina
Image caption روزینہ نے اپنے والد کی خواہش پوری کرنے کے لیے امرتسر کا دورہ کیا

اس وقت شیخ اسلام نے اپنی فیملی کو محفوظ جگہ پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا جس کا مطلب کراچی واپس آنا تھا۔ وہ یہاں پر چھ ماہ تک رہے لیکن پھر جنگ کے دوران ہی ایران اس وقت واپس چلے گئے جب عراقی میزائل دن میں کئی بار شہروں پر گرا کرتے تھے۔

ایران میں کراچی کے اپنے گھر سے دور رہتے ہوئے بھی شیخ اسلام کو اپنی آبائی جگہ سے بہت لگاؤ اور پیار تھا۔

روزینہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں: 'میرے والد نے اس بات کو یقینی بنایا کہ ہم دیسی تہذیب و ثقافت سے مانوس رہیں، جیسے زبان کو جاننا، ناک چھیدوانا اور روایتی لباس پہننا، اور ہاں کھانا اور نغمے۔ انھوں ہمیں پنجابی گانوں پر رقص کرنا تک سکھایا۔'

روزینہ اور ان کی بڑی بہن نے تہران میں پاکستان کے سکولوں میں اردو کی تعلیم حاصل کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Rozina

'وہ بہت اچھا کھانا پکاتے تھے اور ان کی حلیم بہت لذیذ ہوتی تھی۔ انھوں نے میری ماں کو بہترین بریانی اور دیگر لذیذ پکوان سکھائے۔ امراض قلب اور ذیابیطس میں مبتلا ہونے کے باوجود دیسی شخص کے طور پر انھیں گلاب جامن، لڈو اور دیگر مٹھائیاں بہت پسند تھیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وہ صحت والی غذاؤں پر توجہ دیتے تھے۔'

لیکن بیماری نے ان پر رحم نہیں کیا اور 2005 میں 66 برس کی عمر میں وہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

روزینہ کہتی ہیں کہ ان کی آخری خواہش امرتسر جانا تھی لیکن ایسا نہیں ہو پایا۔ 'مجھے لگا کہ یہ سفر مجھ پر قرض ہے۔ میں 2010 میں امرتسر گئی۔ یہ حقیقت میں بہت ہی جذباتی سفر تھا۔'

'ہم، بچے، ہمیشہ سے ہی اپنی جنوبی ایشیائی وراثت سے لگاؤ رکھتے ہیں اور اس پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ جب لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ اپنے والد کی طرف سے انڈین ہو یا پاکستانی تو میں ہمیشہ کہتی ہوں کہ دونوں ہی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں