'ہر شخص یہی کہتا ہے کہ وزیراعظم مودی اس خط کو نہیں پڑھیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN
Image caption نویّا کی پسندیدہ جگہ ان کا پارک ہے

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کی ایک سات سالہ سکول کی بچی نے اپنے پڑوس کے ایک پارک کو بچانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کی ہے اور وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط بھی لکھا ہے۔

نویّا سنگھ نے اپنے ایک کھلے خط میں لکھا ہے: 'میرا خیال ہے آپ مجھے سنیں گے۔ یہ پارک ہماری لائف لائن ہے۔'

نویّا کے پڑوس کے پارک میں مقامی انتظامیہ ایک کمیونٹی ہال بنوا رہی ہے۔

گذشتہ ہفتے ان کی عرضی پر سماعت کے بعد دہلی کی ہائی کورٹ نے پارک میں ہونے والے تعمیراتی کام کو روک دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Navya
Image caption وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے دو صفحے کے خط میں انھوں نے اپنے پارک کو بچانے کے بارے میں لکھا ہے

نویّا مغربی دلی کے روہنی علاقے میں رہتی ہیں اور یہ پارک ان گھر کے پاس ہی واقع ہے۔ وہ کہتی ہیں: پارک ان کی پسندیدہ جگہ ہے جہاں وہ اس وقت سے جاتی رہی ہیں جب وہ بالکل چھوٹی بچی تھیں۔ وہ اب بھی صبح شام ہر روز اس پارک میں جاتی ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'میں وہاں اپنے دوستوں سے ملتی ہوں اور کھیلتی ہوں۔ جھولا جھولتی اور اور چھپن چھپائی کھیلتی ہوں۔ میں پارک کو بہت پسند کرتی ہوں کیونکہ اس میں بہت سارے پیڑ لگے ہوئے ہیں۔'

وزیر اعظم کو لکھے گئے اپنے دو صفحے کے خط میں انھوں نے لکھا ہے: 'ہر شخص یہی کہتا ہے کہ آپ اس خط کو نہیں پڑھیں گے کیونکہ آپ کے پاس ہر روز ہزار خط آتے ہیں۔ لیکن میں سوچتی ہوں کہ آپ میری سنیں گے۔ یہ پارک ہماری لائف لائن ہے۔ '

تصویر کے کاپی رائٹ UNKNOWN

اپنے خط میں وہ التجا کرتے ہوئے لکھتی ہیں: 'مودی انکل ہمارے پارک کو بچا لیجیے کیونکہ ہر شخص کہتا ہے کہ آ پ بہت دانشمند ہیں۔'

نویّا نے گذشتہ ہفے اپنے وکیل چچا دھیرج کمار کی مدد سے دہلی ہائی کورٹ میں دہلی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے اس پروجیکٹ کےخلاف یہ کہہ کر ایک کیس بھی دائر کیا تھا کہ اس کی تعمیر سے علاقے کے رہائشی کھیلنے کی جگہ اور تازہ ہوا سے محروم ہوجائیں گے۔

جون کے مہینے میں جب انتظامیہ نے پارک کو گھیر کر اچانک تعمیراتی کام شروع کیا تو لوگ حیرت میں پڑ گئے۔

دھیرج سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ جب کام شروع ہوا تب لوگوں کو اس بارے میں پتہ چلا جبکہ حکام نے علاقے کے لوگوں سے اس بارے میں نہ تو صلاح و مشورہ کیا اور نہ انھیں مطلع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ NAVYA

دہلی میں تقریبا 14000 اس طرح کے پارک ہیں جن کا نظم و نسق مقامی انتظامیہ سنبھالتی ہے لیکن ان میں سے بیشتر بری حالت میں ہیں۔ دہلی جیسے گنجان آبادی والے شہر میں اس طرح کے پارک ہی کھلی جگہ ہوتے ہیں جہاں لوگ خالی اوقات میں تفریح یا کھیلنے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔

شاید یہی وجہ ہے کہ علاقے کے بیشتر افراد اس پارک میں کمیونٹی ہال کی تعمیر کے خلاف ہیں اور حکام کے فیصلے کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے۔ اس کے بعد ڈی ڈی اے نے پولیس کو طلب کیا اور پارک کو اپنے قبضے میں لے لیا۔

جون کے آخری ہفتے سے نویّا اور دوسرے لوگوں کا اس پارک میں داخل ہونا بند ہوگيا۔ اس کا محاصرہ کر کے اس کو گھیرے میں لے گيا ہے۔

دھیرج کمار کا کہنا تھا: 'وہ بہت پریشان تھی۔ اس نے مجھ سے پوچھا، اب ہم کہاں کھیلیں گے؟ ہماری کون مدد کرےگا؟ چونکہ میں ایک وکیل ہوں تو میرے خیال میں آیا کہ اب تو بس عدالت ہی کا سہارا ہوسکتا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ NAVYA

نویّا کی عرضی میں کہا گيا ہے یہ پروجیکٹ دراصل عوام کے پیسے کا بے جا استعمال ہے کیونکہ کمیونٹی ہال پہلے سے ہی پاس میں موجود ہے۔

پہلی ہی سماعت کے دوران عدالت نے پارک میں تعمیراتی کاموں کو فوری طور پر بند کرنے حکم دیا۔

جج نے اپنے ریمارکس میں کہا: 'ڈی ڈی اے پارک کو بلڈنگ میں نہیں تبدیل کرسکتی ہے۔ آپ عوامی ٹیکس کے پیسوں سے کھیل رہے ہیں۔ پارک پارک ہوتے ہیں۔ انھیں کمیونٹی مراکز میں مت تبدیل کریں۔'

اس کیس کی اگلی سماعت 18 ستمبر کو ہوگی۔

ڈی ڈی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ عدالت میں اپنا موقف پیش کریں گے اور عدالت کے احکامات پر عمل کیا جائے گا۔

نویّا کو قانونی داؤ پیچ کے بارے میں تو کچھ نہیں معلوم لیکن جب سے عدالت نے یہ حکم سنایا ہے وہ پارک میں دوبارہ آنے لگی ہیں۔

انھیں امید ہے کہ عدالت اور وزیر اعظم کی مدد سے ان کا پارک بچ جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں