تقسیم کے 70 برس: سرحد ذائقے کا بٹوراہ نہیں کر سکی

یہ سڑک سیدھی پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد جاتی ہے۔ یہاں سے لاہور محض 22 کلومیٹر دور ہے جبکہ امرتسر کا فاصلہ 35 کلومیٹر ہے۔

کبھی اس سڑک پر کوئی سرحد نہیں تھی اور یہ راستہ براہ راست لاہور جایا کرتا تھا۔

تقسیم کے 70 سال: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

امرتسر اور لاہور کے درمیان رات دن آنا جانا لگا رہتا تھا کیونکہ انہیں جڑواں شہر کہا جاتا تھا۔

مگر 1947 کے بعد ان جڑواں شہروں کے درمیان ایک لکیر کھنچ گئی. تقسیم کی لکیر۔

ضلع امرتسر کے ہی علاقے واہگہ میں انڈیا اور پاکستان کی سرحد سے چند میٹر کے فاصلے پر 'سرحد ریستوران' قائم ہے۔

یہاں پاکستان کے مشہور 'ٹرک آرٹ' سے سجے ہوئے دو ٹرک مرکزی دروازے پر ہی کھڑے دکھائی دے جاتے ہیں۔

ان ٹرکوں کو پاکستان کے مشہور 'ٹرک آرٹ' آرٹسٹ حیدر علی نے تیار کیا ہے اور اس کام کے لیے انھیں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔

کہا جاتا ہے کہ پنجاب اگرچہ تقسیم ہو گیا ہو لیکن لوگوں کے کھانے اور ان کی ترکیبیں تقسیم نہیں ہو سکیں۔

جہاں لاہور کے لوگوں کے لیے امرتسری ذائقے آج بھی بہت پرکشش ہیں وہیں سرحد کے اس پار لاہوری ترکیبوں کے بارے میں بھی لوگ جذباتی ہیں۔

امرتسر کے پرانے لوگ بتاتے ہیں کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب لوگ امرتسر سے لاہور صرف کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔

اسی طرح لاہور سے بھی لوگ امرتسر صرف مخصوص کھانا کھانے آتے تھے.

یہ بات تقسیم سے پہلے کی ہے۔ ان جڑواں شہروں کے درمیان بٹوارے کی لکیریں تو کھنچ گئیں مگر ذائقے کا بٹوارہ نہیں ہو سکا۔

پنجاب کی اسی خاصیت کو دیکھتے ہوئے ایک پہل کی گئی اور سرحد کے پاس ہی ایک 'ریستوران' شروع کیا گیا جس کا نام بھی 'سرحد' رکھا گیا.

ریستوران کے باورچی رگھو ویر کہتے ہیں کہ مہمانوں کو لاہوری ڈش بہت پسند آتی ہیں خاص طور پر لاہور کی بریانی.

اس ریستوران کی خاصیت یہ ہے کہ انڈیا اور پاکستان کی سرحد یہاں سے صرف دو کلومیٹر دور ہے.

'سرحد ریستوران' کے منتظم امن جسپال کہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کے پیغام کو پھیلانے کے مقصد سے ہی انھوں نے اس طرح کا 'ریستوران' قائم کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوچا کہ کھانے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسا بھی کیا جائے جس سے ان لوگوں کو، جو لاہور نہیں جا سکتے، لاہور میں ہی بیٹھ کر کھانا کھانے کا احساس ہو۔

اس لیے اس ریستوران کی عمارت کی اینٹوں سے لے کر مسالے تک سب کچھ لاہور سے لایا گیا ہے۔

مرکزی دروازے پر بھی جو ٹرک کھڑے کیے گئے ہیں، انہیں پاکستان کے مشہور ٹرک آرٹ آرٹسٹ حیدر علی نے پینٹ کیا ہے.

'سرحد' کے مالک ڈی ایس جسپال ریٹائرڈ بیوروکریٹ ہیں.

انھوں نے اپنے ریستوران کا 'مرکزی خیال' تقسیم کے ارد گرد ہی بُنا ہے.

ریستوران کی دیواروں پر جہاں تقسیم کے ’دکھ‘ کے عکس موجود ہیں وہیں بہت ساری ایسی پرانی تصاویر بھی ٹنگی ہیں جو تقسیم کے وقت اس علاقے کی ہیں۔

ڈی ایس جسپال کا کہنا ہے کہ وہ اس ریستوران کو 'امن کا میوزیم' بنانا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے حکومت کو کئی خطوط بھی لکھے ہیں۔

وہ کہتے ہیں، ’ہم نے تقسیم کا میوزیم تو بنا لیا ہے. مگر ضروری ہے کہ امن کا میوزیم بنے. دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا ماحول رہتا ہے، مگر ہم امن کا پیغام پھیلانا چاہتے ہیں.‘

ان کے مطابق ’کھانا لوگوں کو جوڑتا ہے. لہذا ہم کھانے کے ذریعے ہی لوگوں کے درمیان محبت کے بندھن کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔‘

اسی بارے میں