سرحدی تنازع: انڈیا کو مذاکرات کی امید، چین کا انکار

چینی اور انڈین فوجی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا اور چین کے درمیان تعلقات ان دنوں شدید تلخیوں کا شکار ہیں

انڈیا کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے امید ظاہر کی ہے کہ سرحدی تعطل ختم کرنے کے لیے چین جلد ہی بھارت سے بات چیت شروع کرے گا۔

جبکہ چین نے ایک بار پھر کہا ہے کہ کسی طرح کے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے انڈیا اپنی فوج ڈوکلام سے واپس بلائے۔

دنوں ملکوں کی افواج کے درمیان بھوٹان کے متنازع علاقے ڈوکلام میں گذشتہ دو مہینے سے کشیدگی برقرار ہے۔

ادھر گذشتہ ہفتے چین نے ڈوکلام کے نزدیک فوجی مشق کی ہے جبکہ انڈیا نے بھی سکم اور اور اروناچل پردیش میں اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔

انڈین فوج چینی علاقے سے فوراً نکل جائے: چین

’چینی سڑک کی تعمیر سے انڈیا کی سلامتی کو خطرہ‘

انڈیا کا دفاعی بجٹ بڑھتا کیوں جارہا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دونوں ملکوں کی سرحد پر گذشتہ پچاس برس میں کبھی کوئی گمبھیر ٹکراؤ نہیں ہوا لیکن اب یہ صورتحال بدلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے

وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا ہے کہ 'ڈوکلام میں تعظل برقرار ہے۔ میں امید کرتا ہوں یہ تعطل جلد ختم ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ چین جلد ہی مذاکرات کا آغاز کرے گا۔'

لیکن چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے بیجنگ میں اس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سکّم کے نزدیک دونوں ملکوں کی سرحدیں بالکل واضح ہیں اور کوئی بھی بات چیت شروع کرنے سے پہلے انڈیا کو اپنے فوجیوں کو عسکری ساز و ساما ن سمیت واپس بلانا ہوگا۔

دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اس وقت پیدا ہوئی جب گذشتہ جون میں انڈین فوجیوں نے بھوٹان کے ڈوکلام علاقے میں چینی فوجیوں کو سڑک تعمیر کرنے سے روک دیا۔

انڈیا کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ بھوٹان کا ہے جبکہ چین کا دعوی ہے کہ یہ زمین اس کی ہے۔ اس وقت سے دونوں فوجیں ایک دوسرے کے مد مقابل کھڑی ہیں۔

چین کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں کوئی بھی بات چیت تبھی ہوسکتی ہے جب انڈیا کی فوج ڈوکلام علاقے سے اپنی سرحد میں واپس جائے۔

کشیدگی کے بعد انڈیا نے اروناچل پردیش اور سکّم میں چین کی سرحد کے نزدیک اپنے فوجیوں کی تعداد بڑھا دی ہے۔

ادھر چین سے بھی خبریں موصول ہورہی ہیں کہ چینی فوج نے ڈوکلام میں ٹکراؤ کے مقام سے کچھ ہی دوری پر سینکڑوں خیمے نصب کر دیے ہیں۔

چینی ذرائع ابلاغ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چینی افواج کی مغربی کمان نے گذشتہ ہفتے کے اواخر میں فوجی مشق کی ہے۔ اس مشق میں چینی فوج کی فضائیہ اور مسلح دستوں سمیت دس یونٹوں نے حصہ لیا۔

چائنا سینٹرل ٹیلی ویژن چینل پر دکھائے گئے پانچ منٹ کے ایک ویڈیو میں ٹینکوں سے پہاڑوں پر گولہ باری کرتے ہوئے اور ہیلی کاپٹروں سے زمینی ہدف پر میزائل داغتے دیکھایا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Unknown
Image caption سکم میں سرحد پر تعینات انڈین فوجی

چینی اخبارات نے ایک دفاعی ماہر کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس طرح کی مشقوں کا مقصد 'انڈیا پر چینی رعب طاری کرنا ہے۔'

اس فوجی مشق کے مقام کے بارے میں نہیں بتایا گیا ہے لیکن شنگھائی، تبت پلیٹو میں کسی مقام پر کی گئی ہے جو انڈیا کی سرحد کے نزدیک ہے۔

اس سے پہلے چینی فوج نے جولائی میں اصل گولہ بارود کے ساتھ تبت میں فوجی مشق کی تھی۔ پچھلے ہفتے لداح سیکٹر میں دونوں ملکوں کی فوجیوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا تھا جس میں فوجیوں نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا اور مار پیٹ کی تھی۔

انڈیا اور چین کے درمیان سرحد پر گذشتہ دو مہینے سے کشیدگی برقرار ہے۔ گذشتہ دنوں امریکہ نے بھی صورت حال پر تشویش ظاہر کی تھی اور اور کشیدگی کم کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے کا مشورہ دیا تھا لیکن تعطل ٹوٹنے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسی بارے میں