کشمیر کے علیحدگی پسندوں کو پیسے کہاں سے ملتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیم حریت کانفرنس کے رہنما میرواعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر میں انڈیا کے خلاف احتجاج کے لیے ان کے پاس بس ہڑتال ہی ایک واحد ذریعہ بچا ہے۔

بی بی سی کے ساتھ خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ انڈیا کی موجودہ مرکزی حکومت مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل نہیں بلکہ فوجی حل تلاش کر رہی ہے۔

حریت کانفرنس پر قومی تحقیقاتی ایجنسی این آئی اے نے پاکستان سے پیسہ حاصل کرنے سمیت کئی طرح کے کئی الزامات عائد کیے ہیں لیکن میر واعظ اس سے انکار کرتے ہیں۔

تو پھر حریت کانفرنس جیسی تنظیم کو چلانے کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے اس سوال پر میر واعظ نے کہا کہ بہت سے کشمیری لوگ بیرون ملک رہتے ہیں اور کشمیر کے اس مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں اور ایسے ہی لوگ ان کی تنظیم کی حمایت کرتے ہیں۔

اگر آپ کا بیٹا بندوق اٹھائے تو آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ اس سوال پر انھوں نے کہا: 'کون چاہتا ہے کہ یہاں کی نوجوان نسل کے ہاتھوں میں پتھر یا بندوقیں ہوں۔ اس سے متعلق کوئی ایک بھی ایسا بیان نہیں دکھا سکتا، جہاں میں نے یا گیلانی صاحب نے کہا ہو کہ کشمیری پتھر یا بندوق اٹھائیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ مزید کہتے ہیں: 'ہم تو خود اس بات سے پریشان ہیں کہ نئی نسل کو کس طرح بچایا جائے۔ لیکن اگر بندوق اٹھانے والے بیشتر نوجوانوں کی کہانیاں دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہ سب کے سب بہت ستائے ہوئے ہیں۔'

اٹل بہاری واجپئی کی حکومت اور نریندر مودی کی حکومت کے درمیان فرق پر بات کرتے ہوئے میر واعظ عمر فاروق کا کہنا تھا کہ 'جب واجپئی کی حکومت تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ اس مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کرنا ہے۔ تب ہمیں کہیں نہ کہیں اس بات کا احساس ہوا کہ صحیح بات ہے۔ لیکن جب مودی صاحب آئے تو سب سے پہلا بیان میں نے دیا کہ مودی کی حکومت آئی ہے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ این ڈی اے واجپئی کے ماڈل کی پیروی کرے گی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER @DDNEWSLIVE

میر وا‏عظ نے وزیراعظم مودی کی پالیسی کو سختی کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کشمیر کے مسئلے کو فوجی طریقے سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

اس سوال کے جواب میں، کہ گذشتہ برس حریت نے جو تحریک چلائی اس سے کیا فرق پڑا ہے؟ حریت کانفرنس کے رہنما کا کہنا تھا ان کے پاس ہڑتال ایک آخری ہتھیار بچا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ، جیسے نصف گھنٹے کا امن مارچ یا سڑک پر احتجاج وغیرہ تو اب تو اس کی قطعی اجازت ہی نہیں دی جاتی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں