پرائیویسی شہریوں کا بنیادی حق ہے: انڈین سپریم کورٹ

انڈین سپریم کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی سپریم کورٹ نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ پرائیویسی یعنی 'نجی معلومات کو پوشیدہ رکھا جانا شہریوں کا ایک بنیادی حق ہے۔

نو ججوں پر مشتمل سپریم کورٹ کے بنیچ نے اپنے متفقہ فیصلے میں کہا ہے کہ پرائیویسی کا حق بھی آئین کی دفعہ 21 کا ایک بنیادی حصہ ہے جو زندگی اور آزادی کا ضامن ہے۔'

’صارفین کی نجی معلومات کا تحفظ اولین ترجیح ہے‘

’سب کے لیے آدھار کارڈ کا استعمال لازمی نہیں‘

تاہم عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پرائیویسی کی حد مقرر کی جا سکتی ہے۔

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل پرشانت بھوشن نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ حکومت نے سماجی فلاح کی سکیموں سے فائدہ اٹھانے کے لیے جو نیا قانون بنایا ہے اس کے تحت بائیومیٹرک شناختی کارڈ یعنی 'آدھار' کو لنک کرنا لازمی کر دیا گيا ہے اور اس فیصلے کے بعد اب اس پر بھی غور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ریلوے، ہوائی جہاز کے ٹکٹوں کی خرید و فروخت اور دوسری چیزوں کے لیے آدھار کو لازمی بناتی ہے تو اس کے خلاف بھی آواز بلند کی جائےگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عدالت کے فیصلے سے حکومت کی جانب سے آدھار کارڈ جو کی سکیم تیار کی گئی ہے وہ بھی متاثر ہوسکتی ہے

اس سے قبل جولائی میں اس کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پرائیویسی کوئی مطلق بنیادی حق نہیں ہے اور اس پر کچھ حد تک منطقی وجوہات کی بنیاد پر پابندی لگائی جاسکتی ہے۔

جب حکومت نے بائیومیٹرک شناختی کارڈ آدھار (جو فرد کی آنکھ کی تفصیلات اور انگلیوں کے نشانات پر مشتمل ہے) کو بیشتر سہولیات سے مربوط کرنے کا فیصلہ کیا اور بعض فلاحی سکیموں تک رسائی کے لیے اسے لازم کر دیا تب پرائیویسی سے متعلق بحث تیز ہوئی اور یہ معاملہ سپریم کورٹ تک پہنچا۔

مرکزی حکومت کے وکیلوں نے عدالت میں جو موقف اپنایا تھا اس سے پرائیویسی پر کئی طرح کے سوالات کھڑے ہوئے تھے۔

حکومت کی منطق یہ تھی کہ اس کے بارے میں کبھی بھی عدالت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا اور آئین میں بھی اس بارے میں کوئی وضاحت درج نہیں ہے۔

عدالت کے اس فیصلے پر سوشل میڈیا میں بھی بحث چل پڑی ہے۔ کچھ لوگ عدالت کے فیصلے کی تعریف کر رہے ہیں تو بعض نے طنزیہ باتیں لکھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

دلی کے وزیر اعلی اروند کیجری وال اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'اس اہم فیصلے کے لیے سپریم کورٹ آپ کا بہت بہت شکریہ۔'

رمیش سری واستو لکھتے ہیں: پرائیویسی کے حق پر فائنل سکور: پرائیویسی کو 9 اور آدھار کو صفر۔'

@ EkVillainOO7 نے لکھا: 'اب کوئی بھی شخص ٹویٹر کسی اینجیل پریا سے یہ نہیں پوچھےگا کہ آپ لڑکی ہو ی لڑکا۔ یہ اس کا پرائیویسی حق ہے بھائی۔'

انو گرہ مشرا نے لکھا: 'فیس بک پر برائے کرم جبرا ٹیگ نہ کریں۔ اب تو 9 ججز کی بینچ بھی یہ کہہ چکی ہے۔'

روی پاریکھ نے لکھا: 'سپریم کورٹ نے پرائیویسی کو بنیادی حق کہا ہے۔ بس اب یہی بات یوگی آدتیہ ناتھ اور اینٹی رومیو سکواڈ کو بھی سمجھا دیں۔'

جنید علی لکھتے ہیں: 'سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ مبنی برحق ہے۔ مرکزی حکومت کے رویے پر روک لگے گي اور اب پرايئویسی کی حفاظت کرنا آسان ہوگا.'

RoflGandhi_ نے لکھا: 'پرائیویسی کا حق اب بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔ اب کوئی ذاتی سوال نہیں پوچھےگا۔'

کوٹلییا دت لکھتے ہیں: پرائیویسی کا حق ضروری ہے۔ لیکن قومی سلامتی سے اوپر نہیں ہونا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں