انڈیا کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے: چینی وزارت خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

انڈیا کی جانب سے متنازع علاقے میں سڑک تعمیر کرنے کی منصوبہ بندی کی اطلاعات پر چین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انڈیا کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔

انڈین میڈیا میں چینی سرحد کے قریب متنازع علاقے میں سڑک کی تعمیر پر آنے والی خبروں پر جواب دیتے ہوئے چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو شینگ نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ انڈیا نے خود کو ہی تھپڑ جڑ دیا ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ سرحدی حدود کے مسئلے پر انڈیا کہتا کچھ ہے اور کرتا کچھ ہے۔

٭ انڈیا اور چین کی سرحد پر گولیاں کیوں نہیں چلتیں؟

٭ انڈیا اور چین کی سرحد پر کون کیا تعمیر کر رہا ہے؟

٭ کیا انڈیا اور چین کی جنگ میں جوہری ہتھیار استعمال ہو سکتے ہیں؟

٭ ’دو ہفتوں میں انڈیا کے خلاف چین کی جنگی کارروائی‘

انڈین اخبار ہندوستان ٹائمز نے دعویٰ کیا تھا کہ ملک کے وزارت داخلہ نے پےگنگ جھیل سے بیس کلومیٹر کے فاصلے پر سڑک کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ہو شینگ نے کہا کہ انڈیا کے اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی اور بڑھے گی۔

جون میں ڈوكلام کے متنازع علاقے میں چین کے سڑک تعمیر کرنے کی کوشش پر دونوں ممالک کی فوجیں آمنے سامنے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

چین اسے اپنی زمین بتاتا ہے جبکہ انڈیا اس پر بھوٹان کے دعوے کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ سٹریٹجک طور پر اہم علاقے میں سڑک بننے نہیں دے سکتا۔

ترجمان ہو شینگ کہا کہ'انڈیا حالیہ دنوں چین کی سڑک بنانے کی کوششوں کے پیچھے لگا ہے لیکن انڈیا نے اپنی سرگرمیوں سے ہی یہ ثابت کیا ہے کہ وہ کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔'

انہوں نے کہا کہ 'اس علاقے میں انڈیا کی جانب سے سڑک کی تعمیر وہاں امن اور استحکام کے لیے فائدہ مند نہیں ہے۔'

خیال رہے کہ انڈیا، چین اور بھوٹان کی سرحد کے قریب ایک ٹرائی جنکشن پر سڑک کی تعمیر کے حوالے سے دو ایشیائی حریفوں کے درمیان تعطل برقرار ہے۔

دونوں ہی ملک اپنی اپنی سرحدوں پر فوجیوں کی بنیادی سہولیات میں اضافہ کر رہے ہیں، کیونکہ دونوں ہی اس علاقے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔

انڈیا کی حکومت کا موقف ہے کہ چین کی جانب سے سڑک کی تعمیر 'ملک کی سلامتی کے لیے خطرہ اور موجودہ صورت میں اہم تبدیلی کا باعث'ہے۔

دونوں ملک سرحد پر بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے حوالے سے ایک دوسرے کے منصوبوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

چین میں ڈوکلام اور انڈیا میں ڈوكلام کہا جانے والا علاقہ دونوں ممالک کے درمیان موجودہ تعطل کا اہم سب ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں