بابا عرش پر، نظر فرش پر

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بابا گرومیت رام رحیم کے مریدوں کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے

انڈیا مختلف مذاہب، نسلوں اور زبانوں کا ملک ہے۔ روایتی طور پر ہندوستانی مذہبی ہوتے ہیں اور مذہب کی ریت رواج پر عمل کرتے ہیں۔ انڈیا میں مذاہب کا ایک اہم پہلو ذات پات کا نظام بھی ہے۔ روایتی مذاہب میں ذات پات کے سبب دلت اور اقتصادی طور پر کمزور طبقوں کو وہ مقام نہیں مل پاتا جو نام نہاد اعلیٰ طبقے کے لوگوں کو ملتا ہے۔

بابا گرومیت رام رحیم جیسے سادھؤں کی مقبولیت کا سبب یہی ہے کہ وہ ان دبے کچلے لوگوں کو نہ صرف وقار اور عزت دیتے ہیں بلکہ ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ بابا گرومیت رام رحیم کے مریدوں کی تعداد کروڑوں میں بتائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا میں صوفی طرز کے بابوں اور سادھو سنتوں کی روایت بڑی پرانی ہے لیکن گذشتہ تیس چالیس برس میں بابوں کی روایت روحانیت سے نکل کر معیشت پر مرکوز ہونے لگی ہے۔ پورے ملک میں بابوں کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ ذات پات، معاشرتی پیچیدگیوں اور جدید دور کی مشکلات نے ان مذہبی رہنماؤں کو انتہائی مقبول بنا دیا ہے۔ ان کے کروڑوں پیروکار ہوتے ہیں۔ جب یہ نکلتے ہیں تو ان کے آگے پیچھے سینکڑوں گاڑیوں کا قافلہ چلتا ہے۔ ان میں سے کئی ایسے ہیں جن کے اپنے ٹی وی چینل بھی ہیں۔ کچھ رہنما روزانہ ٹی وی پر وعظ بھی دیتے ہیں۔

لیکن بابوں کو اس طرح کی کامیابی ہرگز نہ ملتی اگر انھیں سیاسی پشت پناہی حاصل نہ ہوتی۔ حکمراں سیاسی جماعتیں ان کی مقبولیت اور اثر رسوخ کی بنیاد پر انھیں بڑی بڑی زمینیں الاٹ کرتی ہیں اور ان کی فلاحی سکیموں اور پروگراموں کے لیے بڑے بڑے چندے سرکاری خزانے سے دیتی ہیں۔ چونکہ ان بابوں کے کروڑوں لوگ مرید ہوتے ہیں اس لیے سیاسی رہنما ان سے قربت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں انتخابات کے وقت اپنی مدد کے عوض ان بابوں سے اپنے حق میں حمایت حاصل کرتی ہیں۔ گذشتہ پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کی جیت میں کئی بابوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مذہبی بابوں کی مقبولیت کا اندازہ ان کے آشرموں کی تعداد اور ان کی زمینوں کی ملکیت سے ہوتا ہے۔ یوگا گرو بابا رام دیو تو ایک قدم آگے نکل گئے۔ وہ دواؤں سے لے کر چاول، تیل، کریم ٹوتھ پیسٹ اور شیمپو تک کی فیکٹری لگا چکے ہیں اور کئی ہزار کروڑ کے منافعے میں چل رہے ہیں۔ بابا آشارام اور ان کے بیٹے بھی کچھ عرصے تک ملک کے انتہائی مقبول بابوں میں تھے۔ ان کے آشرم اور مراکز شمالی ہندوستان کے ہر کونے میں پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن سیاسی رہنماؤں سے ٹکرانے کے بعد ان کا زوال شروع ہو گیا اور ان دنوں کئی ریپ کے معاملوں میں جیل میں ہیں۔

پنجاب میں بھی ایک بابا ہیں جن کے انتقال کے بعد ان کے حامیوں نے ان کی لاش کی ممی بنا رکھاہوا ہے۔ انھیں یقین ہے کہ بابا دوبارہ زندہ ہوں گے۔ بابا کی پراپرٹی کئی ہزار کروڑ روپے میں بتائی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بابا رام دیو وزیر اعظم مودی کے ساتھ

بابا گرمیت رام رحیم اپنی طرز کے انوکھے بابا ہیں۔ وہ قدرے کم عمر ہیں۔ چمکدار کپڑے پہنتے ہیں۔ پاپ گانے گاتے ہیں، فلموں میں ایکٹنگ کرتے ہیں، بائیک چلاتے ہیں اور ساتھ میں وعظ بھی دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سبھی مذاہب کا احترام کرتے ہیں اور ان کا پیغام انسانیت اور بھائی چارے کا ہے۔ وہ اپنی دو خاتون مریدوں کا ریپ کرنے کے مجرم پائے گئے ہیں۔

ان سبھی بابوں کے کچھ پہلو مشترک ہیں۔ ان سبھی کا گہرا تعلق سیاست سے ہے۔ سیاسی حمایت سے ہی ان کا عروج اور زوال ہوتا ہے۔ کسی تجزیہ کار نے کہا تھا کہ یہ بابے روحانیت اور عرش کی بات کرتے ہیں لیکن ان کی نظر عرش پر کم اور فرش پر زیادہ ہوتی ہے۔ یہ بڑی بڑی زمینوں اور املاک کے مالک ہیں۔ سیاست میں وہ کافی متحرک ہیں۔ معیشت اور سیاست میں ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں ہی ان کے زوال کا سبب بنتی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں