ہریانہ: ’صاف ظاہر تھا کہ ہنگامہ آرائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی‘

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy of Ankur Bhatia
Image caption پنچکلا میں واقع ہوٹل جسے ہنگاموں میں جلا دیا گیا

'جس وقت عدالت فیصلہ سنا رہی تھی ہم سب ٹی وی کے سامنے اس کا فیصلہ سننے کے لیے بیٹھے ہوئے تھے لیکن جیسے ہی فیصلہ آیا، ہمیں باہر سے گولیاں چلنے کی آوازیں آئیں۔'

یہ بات ریاست ہریانہ کے علاقے پنچکلا کے رہائشی انکُر بھاٹیا نے بی بی سی سے گفتگو کے دوران بتائی۔

انکُر بھاٹیا کے گھر سے پانچ سے سات منٹ کی مسافت پر واقع ریاست کی ایک عدالت نے جمعے کو مذہبی رہنما گرو گرمیت رام رحیم کو ریپ کے ایک معاملے میں مجرم قرار دیا ہے جس کے بعد سے پرتشدد ہنگاموں میں اب تک کم از کم 31 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً دو سو گاڑیاں نذر آتش کی جا چکی ہیں۔

’وفاقی اور ریاستی حکومتیں تشدد روکنے میں ناکام رہیں‘

انکُر بھاٹیا نے بتایا کہ سنیچر کو حالات میں قدرے بہتری دیکھنے میں آئی اور شہر میں نافذ کرفیو بھی جزوی طور پر ختم کر دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود خوف کی فضا ابھی بھی موجود ہے۔

'میں شام کے وقت گھر سے باہر ضروریات زندگی کی اشیا لینے نکلا تو بہت کم دکانیں کھلی تھیں۔ ہفتے کے روز عام طور پر چہل پہل زیادہ ہوتی ہے لیکن آج ایسا کچھ نہیں تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Bhatia
Image caption سوموار کو کرفیو جزوی طور ہر ہٹا دیا گیا لیکن روز مرہ زندگی معمول پر نہیں آئی تھی

انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے حکم کے مطابق 72 گھنٹوں کے لیے موبائل کی ڈیٹا سروس کو بند کر دیا گیا ہے جس پر پابندی اتوار کی رات کو ختم ہوگی۔

فیصلے کے بعد ہونے والے ہنگاموں کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکُر بھاٹیا نے کہا کہ 22 اگست کی شام سے ہی پنچکلا میں دوسرے علاقوں سے لوگوں کی آمد شروع ہوگئی تھی اور رات تک ان کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی جس کے بعد انتظامیہ نے علاقے میں دفعہ 144 نافذ کرنے کا حکم دیا لیکن اس پر مکمل طور پر عمل در آمد کرانے میں ناکام رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ankur Bhatia
Image caption انکر بھاٹیا کے گھر سے سرکاری عمارتوں سے اٹھتا ہو دھواں واضح طور پر نظر آرہا تھا

'فیصلہ آتے ہی جب گولیاں چلنے کے آوازیں آئیں تو میں اپنے گھر کی چھت پر گیا جہاں مجھے کچھ فاصلے پر دھواں اٹھتا ہوا نظر آیا جو بعد میں پتا چلا کے سرکاری دفاتر کی عمارتیں تھیں جن پر بلوہ کرنے والوں نے حملہ کیا اور آگ لگا دی۔'

انکر بھاٹیا کے مطابق ان کے دوستوں نے انھیں پنچکلا کے دوسرے علاقوں کے بارے میں بتایا جہاں پر پتھراؤ ہوا اور پولیس نے مظاہرین پر آنسو گیس فائر کی۔

انھوں نے بتایا: 'شہر کے کچھ حصوں میں مظاہرین پیٹرول سے بھری بوتلیں سڑکوں اور لوگوں کے گھروں کے سامنے رکھ رہے تھے جس سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ہنگامہ آرائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی جا رہی ہے۔'

انکُر بھاٹیانے کہا کہ فیصلہ تین بجے کے قریب آیا اور ایک گھنٹے کے اندر شہر میں مکمل کرفیو نافذ کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ انڈیا کے قصبے پنچکلا میں ایک خصوصی عدالت کی جانب سے ڈیرہ سچا سودا نامی تنظیم سے تعلق رکھنے والے گرو گرمیت رام رحیم کو ریپ کے معاملے میں مجرم قرار دیے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور ہریانہ اور پنجاب کی ہائی کورٹ نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ وفاقی اور ریاستی حکومتوں کا ردعمل 'سیاسی سرینڈر' کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

علاقے میں مزید تشدد کو روکنے لیے کچھ علاقوں میں فوج کو بھی تعینات کر دیا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Courtesy of Ankur Bhatia
Image caption پنچکلا میں ہونے والے ہنگاموں کے بعد اب تک تقریباً دو سو گاڑیوں کو نذر آتش کیا جا چکا ہے

گرو گرمیت رام رحیم پر 15 برس پہلے دو خواتین کے ساتھ ریپ کا الزام تھا۔ ان کی سزا کا اعلان پیر کو کیا جائے گا۔

وزارت داخلہ کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گيا ہے کہ ان واقعات میں اب تک تقریباً 31 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جبکہ مقامی اخبارات نے یہ تعداد اس سے زیادہ بتائی ہے۔

بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز سمیت 250 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں جن کا مختلف ہسپتالوں میں علاج چل رہا ہے۔

دوسری جانب ڈیرہ سچا سودا کے ترجمان ڈاکٹر دلاور انشا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہوا اور ہم اپیل کریں گے۔ ہمارے ساتھ ماضی میں بھی ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ ڈیرہ سچا سودا انسانیت کے فلاح کے لیے ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Narendar Kaushik
Image caption مذہبی رہنما گرو گرمیت رام رحیم

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں