طالبان سے لاتعلقی، سلامتی کا واحد راستہ؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

طويل انتظار کے بعد بالآخر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بارے میں اپنی نئی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔

اس تاخیر کا سبب شاید یہی تھا کہ صدر ٹرمپ طویل عرصے سے افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے خلاف آواز اٹھاتے چلے آئے جبکہ افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی ان کے پہلے موقف سے متصادم ہے۔

اب جبکہ اس حکمت عملی کا اعلان ہو چکا ہے اور افغانستان، پاکستان، چین، طالبان اور دیگر کا رد عمل بھی سامنے آچکا ہے، ہم ان سطور میں یہ دیکھیں گے کہ اس حکمت عملی کا فرق سابقہ امریکی حکمت عملیوں سے کیا ہے اور آیا یہ حکمت عملی مطلوبہ مقاصد کے حصول میں معاون ثابت ہوگی یا کہ اس کا حشر بھی سابقہ حکمت عملیوں جیسا ہوگا۔

٭ ’پاکستان کو کمبوڈیا یا ویت نام نہ سمجھا جائے‘

٭ ’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر امن نہیں لایا جاسکتا‘

٭ ’اب ’ڈو مور‘ کسی اور کو کرنا ہے ‘

حکمت عملی کا وسیع تناظر:

اس سے قبل اعلان شدہ امریکی حکمت عملی کو عموماً ایف-پاک کے نام سے یاد کیا جاتا تھا جس سے مراد یہ ہوتی کہ یہ حکمت عملی افغانستان اور پاکستان کے بارے میں ہے۔

تاہم صدر ٹرمپ کی جانب سے اعلان شدہ حالیہ حکمت عملی کو افغانستان - جنوبی ایشیا کا نام دیا گیا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے پیشرو صدر کے برعکس اپنی حکمت عملی ایک وسیع علاقائی تناظر میں تیار کی ہے۔

کینوس کو وسیع رکھنے سے شاید صدر ٹرمپ نے پالیسی آپشنز کو وسیع رکھنے کی کوشش کی ہے۔ جنوبی ایشیا کے تناظر میں صدر ٹرمپ نے انڈیا کو اپنا نیا علاقائی اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر قرار دیا۔

مسٹر ٹرمپ نے پاکستان کو پیغام دیا کہ اگر وہ علاقائی سیاست میں امریکہ سے منہ موڑ کر روس اور چین سے پینگیں بڑھا سکتا ہے تو امریکہ بھی پاکستان کی بجائے انڈیا کو اپنا تزویراتی شراکت دار بنا سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ چین اور انڈیا کے درمیان حالیہ سرحدی کشیدی کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔

اگر چین اور انڈیا کے درمیان مستقبل قریب میں کشیدگی کسی حربی کشمکش کی صورت اختیار کرتی ہے تو پاکستان شاید غیر جانبداری سے لطف اندوز نہیں ہو پائے گا اور یقینی طور پر اپنے روایتی حلیف چین کا ساتھ دے گا۔

ایسی صورت میں امریکہ انڈیا کی حمایت کرے گا اور یوں دو پرانے حلیف یعنی پاکستان اور امریکہ ایک نئے علاقائی تنازعے میں حریفوں کی حیثیت سے آمنا سامنا کریں گے۔

بطور مختصر، صدر ٹرمپ کی پالیسی تقریر پاکستان کے لیے انتہائی صاف لیکن تلخ پیغام کی حامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایٹمی ہتھیار، پاکستان کے لیے نیا درد سر:

مسٹر ٹرمپ نے پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے بارے میں بھی اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں یہ اسلحہ غلط ہاتھوں میں نہ چلا جائے اور امریکہ یا دیگر ممالک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا اس نکتے سے شاید دو اہم اشارے دینا مقصود ہے۔ پہلا یہ کہ ٹرمپ انتظامیہ مستقبل قریب میں ایٹمی پروگرام کو پاکستان کے خلاف ممکنہ دباؤ کے ایک علیحدہ پالیسی آپشن کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، گو کہ اگر افغانستان اور طالبان کا موضوع نہ بھی ہو، ایٹمی پروگرام ہی کا موضوع پاکستان کو تنہا کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

دوسرا یہ کہ صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کو یہ باور کرایا جاچکا ہے کہ پاکستان گذشتہ تقریباً 40 برسوں سے سخت گیر جہادی گروپوں کو تشکیل دے کر انہیں افغانستان اور انڈیا میں پراکسی ٹولز کے طور پر استعمال کرتا چلا آرہا ہے۔

اب جبکہ پاکستانی فوج نے امن و امان کے قیام کے لیے اندرون ملک سخت گیر مذہبی گروپوں کے خلاف آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، لہذا کچھ پرانے اور کچھ نئے گروپس پاکستانی حکومت اور فوج کے خلاف ہوکر ان سے نبرد آزما ہوچکے ہیں۔ چنانچہ امریکی دعویٰ کر سکتے ہیں کہ مذکورہ گروپ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کرسکتے ہیں۔ ٹرمپ کی نئی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں اس آپشن کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

قوموں کی تعمیر نہیں اپنا مفاد:

صدرٹرمپ نے اپنی تقریر میں یہ وضاحت بھی کی کہ امریکہ فوجی کارروائیوں کے ذریعے قوموں کی تعمیر نہیں کرے گا بلکہ اس کی بجائے ان کی تمام تر توجہ دہشت گردوں کو قتل کرنے پر ہوگی۔

افغانستان کے بارے میں انھوں نے کہا کہ امریکہ افغانوں کو طرز زندگی اور نظام حکومت سکھانے کی بجائے وہاں پر موجود القاعدہ، داعش اور طالبان کے خلاف لڑے گا۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکیوں کی تمام تر دلچسپی افغانستان میں اپنے مفادات کے حصول میں ہے اور انہیں افغان حکومت اور مخالفین کے درمیان مصالحت کے عمل سے کوئی سروکار نہیں ہے، مگر چونکہ افغانستان میں امریکی مفادات کے حصول کا دار و مدار قیام امن پر ہے، لہذا مصالحت کے عمل سے امریکیوں کی لاتعلقی جنگ کو مزید طول دے سکتی ہے۔

نتیجتاً ٹرمپ حکمت عملی حملے، قتل، شکست اور جیت سے عبارت ہے۔

مسٹر ٹرمپ کی حکمت عملی کے مذکورہ بالا خد وخال کو سامنے رکھتے ہوئے افغان طالبان کے سامنے بھی جیتنے یا مرنے کے سوا کوئی تیسرا آپشن نہیں بچا ہے۔

یہ کہ صدر ٹرمپ انہیں صفحۂ ہستی سے مٹانے میں کس حد تک کامیاب ہوجائیں گے یا یہ کہ طالبان امریکہ کے علاقائی حریفوں کی مدد سے امریکہ کو شکست سے دوچار کرسکتے ہیں یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا تاہم ایک حقیقت جو واضح طور پر نظر آرہی ہے وہ یہ ہے کہ افغانستان میں شاید خونریزی کا سلسلہ مستقبل قریب میں رکنے والا نظر نہیں آرہا۔

پاکستان کے لیے انتخاب:

امریکی صدر کی تقریر کے لب و لہجے، الفاظ و انداز سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید پاکستان کے لیے امریکہ کے صبر کا پیمانہ اب لبریز ہوچکا ہے اور اسلام آباد کو امریکہ سے مزید مروت کی توقع رکھنے کا وقت ختم ہو چکا ہے۔ اس تناظر میں پاکستان کے پاس مندرجہ ذیل دو آپشنز میں سے صرف ایک ہی کے انتخاب کا موقع ہے:

  • پاکستان علاقے میں موجود اپنے طاقتور اور امریکہ مخالف طاقتوں کے آشیرباد سے، ہر قسم کے نتائج سے بے پروا ہوکر امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اور شیر کی طرح اس کا سامنا کرے۔
  • مگر چونکہ دنیا دارالاسباب ہے اور ریاستوں کے تمام تر فیصلوں کا دارو مدار قومی مفادات پر ہوتا ہے، لہذا ایسا لگتا ہے کہ شیر کی طرح سامنا کرنا شاید پاکستان کے قومی مفاد میں نہ ہو اور یوں پاکستان کے لیے امریکی عتاب سے بچنے کا جو واحد راستہ بچا ہے وہ ہے افغان طالبان سے لاتعلقی۔ چنانچہ یہ لا تعلقی اس وقت ثابت ہوسکتی ہے جب پاکستانی فوج اپنی سرزمین پر موجود طالبان کو ایک بار پھر قربانی کا بکرا بنا کر اپنی سلامتی کو یقینی بنائے۔

اسی بارے میں