ہریانہ: 'تمام پارٹیوں کے ڈیرا سچا سودا سے تعلقات تھے'

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption گرو گرمیت رام رحیم

(انڈیا میں گرو گرمیت رام رحیم کو جنسی زیادتی کے معاملے میں مجرم قرار دینے کے بعد پرتشدد ہنگاموں میں متعدد افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ اس موقعے پر سوارج پارٹی کے سربراہ یوگیندرا یادو نے بی بی سی کے وٹسالیا رائی سے بات کرتے ہوئے معاملے کی سنگینی اور پھیلاؤ کا تجزیہ کیا جو ان کی ذاتی رائے ہے۔)

یہ کہنا مضحکہ خیز ہو گا کہ حکومت کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ پنچکلا میں کیا ہو جائے گا۔ اگر اس بات میں کوئی حقیقت تھی تو نے حکومت 18 اگست کو شہر میں کرفیو کیوں نافذ کیا؟

تمام میڈیا کو اس بات کا علم تھا۔ پورے ملک میں اس مقدمے کے بارے میں گفتگو ہو رہی تھی۔ حتی کہ ہائی کورٹ نے بھی حکومت سے معلوم کیا کہ کیا وہ حالات قابو میں رکھنے کے لیے تیاری کر چکے ہیں یا نہیں۔ اور ہر بات پر پولیس کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جا سکتا۔

’ ہنگامہ آرائی منصوبہ بندی کے ساتھ کی گئی تھی‘

بابا عرش پر، نظر فرش پر

’وفاقی اور ریاستی حکومتیں تشدد روکنے میں ناکام رہیں‘

لیکن تمام تر معلومات کے باوجود یہ واقعہ رونما ہو گیا۔ انتظامیہ اور پولیس اور تمام حکام کو معلوم تھا کہ کب کچھ ہو سکتا ہے، کون اس میں ملوث ہوگا، کن حالات میں ایسا ہو گا، مگر ان تمام معلومات سے کوئی فائدہ نہیں ہوا اور فسادات کے نتیجے میں 36 افراد کو جان گنوانی پڑی اور یہ بات کسی بھی حکومت کے لیے نہایت شرمناک ہے۔

ریاست ہریانہ میں یہ تیسرا موقع ہے جب ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہو۔ تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت پیشگی معلومات کے باوجود کچھ کر کیوں نہیں سکی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ریاست ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر

کچھ لوگ کہیں گے کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ اتنے تجربہ کار نہیں تھے لیکن اس سے پہلے ہریانہ میں جٹ تحریک چلے تھی جس کے نتیجے میں ریاست میں فسادات ہوئے تھے۔ اگر کھٹر صاحب کو وزارت اعلیٰ کے عہدے سے نہیں ہٹایا جاتا تو بھی ان کی انتظامیہ کو کسی بھی طرح معاف نہیں کیا جا سکتا۔

یہ کہنا آسان ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اس واقعے کی قصوروار ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پنجاب اور ہریانہ میں تمام اہم جماعتوں نے ڈیرا سچا سودا سے مختلف مواقعوں پر مذاکرات کیے ہیں۔

جب 2002 میں اس تنازعے کی ابتدا ہوئی تو اس وقت ہریانہ میں چوٹالا جی کی حکومت تھی جنھوں نے گرو کی کھل کر حمایت کی۔ اس کے بعد آنے والی تمام حکومتوں کا ان سے کسی نہ کسی طرح سے تعلق رہا ہے۔

لیکن آج بھی کوئی سیاسی جماعت یہ کھل کر نہیں کہے گی کہ ایک جنسی زیادتی کرنے والے شخص کو سزا ہوئی ہے اور وہ اس فیصلے کی حمایت کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ بی جے پی اس معاملے میں ملوث ہے اور اس نے اتنے بڑے تنازعے کو پنپنے دیا، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ دوسری جماعتیں بھی کچھ نہیں کہہ رہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ بھی ماضی میں ان گرو کے ساتھ تھیں۔

یہ بات پورے ہریانہ میں کہیں بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے لیکن کوئی اس بارے میں سامنے بات کرنے کو تیار نہیں ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں