انڈیا: سیلاب سے بہار میں 482، اترپردیش میں 101 افراد ہلاک

بہار سیلاب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صرف ریاست بہار میں لاکھوں افراد سیلاب کی زد میں ہیں اور محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں جان جوکھم میں ڈال رہے ہیں

انڈیا کی شمال مشرقی ریاستیں تباہ کن سیلاب کی زد میں ہیں اور گذشتہ 24 گھنٹوں میں صرف ریاست بہار سے 42 مزید اموات کی اطلاعات ہیں۔

انڈیا کی سرکاری خبررساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق ریاست میں ‎سیلاب سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد اب 482 ہو گئی ہے۔

اس کے علاوہ انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش میں بھی سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔

٭ بہار میں سیلاب، ہلاکتوں کی تعداد 253 ہو گئی

٭ بہار میں آسمانی بجلی گرنےسے 26 افراد ہلاک

ریاست بہار میں 19 اضلاع کے تقریبا پونے دو کروڑ افراد سیلاب سے متاثر ہیں جبکہ تقریبا ڈیڑھ لاکھ افراد 222 عارضی کیمپوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

ریاست کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محمکے کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صرف اڑریہ ضلعے میں ہی 95 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ سیتامڑھی (46)، پورنیہ (44)، کٹیہار (40)، مغربی چمپارن (36)، مشرقی چمپارن (32)، دربھنگہ (30)، مدھوبنی (28)، مدھیہ پورہ (25)، کشن گنج (24)، گوپال گنج(20)، سپول (16)، سارن (13)، مظفرپور (9)، سہرسہ (8)، کھگڑیا (8)، شیوہر (6)، اور سمستی پور میں دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ریاست میں سیلاب سے پونے دو کروڑ افراد متاثر ہیں

پی ٹی آئی کے مطابق آسام کے تازہ سیلاب میں ابھی تک 73 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق یہ رواں سال ریاست میں آنے والا سیلاب کا تیسرا دور ہے اور مجموعی طور پر وہاں ابھی تک ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بہار اور آسام سے ملحق ریاست مغربی بنگال میں پانی کم ہو رہے ہیں لیکن اب تک اس کی زد میں آ کر 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دو روز قبل سنیچر کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ریاست کے وزیر اعلی نتیش کمار کے ساتھ بہار کے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی جائزہ لیا اور انھوں نے سیلاب زدگان کی امداد کے لیے 500 کروڑ روپے کے پیکج کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ انھوں نے سیلاب کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ کو دو دو لاکھ روپے معاوضے کا بھی اعلان کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption لوگوں کو غذائی قلت اور پینے کے صاف پانی کی قلت کا سامنا ہے

دوسری جانب گذشتہ روز ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں راشٹریہ جنتا دل کے رہنما لالو پرشاد یادو نے وزیراعلی نیتیش کمار اور بی جے پی کے خلاف ایک بڑی ریلی کا انعقاد کیا جس میں انھوں نے کہا کہ 'سیلاب آیا نہیں لایا گیا ہے۔'

انھوں نے وزیر اعلی نتیش کمار پر الزام لگایا کہ 'ایک خاص طبقے کے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے سیلاب لایا گیا ہے۔' اس کے ساتھ ہی انھوں نے اپنی پارٹی کے حامیوں سے امدادی کاموں میں حتی المقدور امداد کی اپیل کی۔

خیال رہے کہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاستوں میں سیلاب سالانہ مسئلہ ہے جس میں ہر سال سینکڑوں جانیں تلف ہوتی ہیں۔ بہار میں سیلاب کی خاص وجہ پڑوسی ملک نیپال سے مونسون کے موسم میں پانی چھوڑے جانے کو قرار دیا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں