انڈیا: گورکھ پور میں دو روز میں 42 بچے ہلاک

انڈیا کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں گورکھ پور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج کے مطابق ایک مرتبہ پھر بڑی تعداد میں بچے ہلاک ہو گئے ہیں۔

میڈیکل کالج کا کہنا ہے کہ فقط دو روز میں 42 بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

بی بی سی ہندی کے مطابق بی آر ڈی میڈیکل کالج کے ڈاکٹر پی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ اچانک بھلے ہی زیادہ اموات ہو گئی ہیں تاہم اس موسم میں یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔

اس حوالے سے اعدادو شمار بتاتے ہوئے ڈاکٹر پی کے سنگھ نے کہا کہ ' 27 اور 28 اگست کو 48 گھنٹوں کے دوران 42 بچے انسیفلائٹس یعنی دماغی بخار کی وجہ سے ہلاک ہوگئے ہیں۔'

ڈاکٹر پی کے سنگھ کا کہنا ہے کہ بچوں کو بہت تشویشناک حالت میں ہسپتال لایا گیا تھا اور باوجود طبی امداد فراہم کرنے کے ان کی زندگی بچانا مشکل ہو گیا تھا۔

گورکھ پور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ 'اس وقت ہسپتال میں دوائیوں اور آکسیجن کی کمی نہیں ہے۔ لیکن جب تک ڈاکٹر ہسپتال پہنچتے تب تک بچوں کی حالت بہت بگڑ چکی تھی اور ڈاکٹر تمام تر کوششوں کے باوجود انھیں بچا نہیں سکے۔'

ڈاکٹر پی کے سنگھ کہتے ہیں کہ جولائی، اگست اور ستمبر بچوں کی صحت کے حوالے سے بہت حساس ہوتے ہیں۔

پرنسپل کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں ابھی بھی 342 بچے زیر علاج ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گورکھپور میں ایک عرصے سے اس موسم میں بچے دماغی بخار سے ہلاک ہو رہے ہیں

10 اگست کو اسی میڈیکل کالج میں بڑی تعداد میں بچوں کی موت نے حکومت کی کارکردگی پر سوال پیدا کیے تھے۔ صرف پانچ دنوں میں 100 سے زیادہ بچے ہلاک ہو گئے تھے۔

اس وقت، آکسیجن کی کمی کو مبینہ طور پر بچوں کی موت کی وجہ قرار دی گئی تھی۔

تاہم میڈیکل کالج کے اس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر راجیو مشرا اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر پورنما کو اس واقعہ کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ایس ٹی ایف نے منگل کو گرفتار کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں