رخائن میں پرتشدد واقعات، ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش میں پناہ

روہنگیا تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بنگلہ دیش میں گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں

پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی آئی او ایم کا کہنا ہے کہ میانمار کے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں پرتشدد واقعات کے بعد ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں 18 ہزار سے زیادہ روہنگیا مسلمان علاقے سے نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں داخل ہوئے ہیں۔

میانمار میں حکام کے مطابق تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے جمعے کو 30 پولیس سٹیشنز پر حملہ کیا اور اس کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں فوج کو بلانا پڑا۔

٭ ’میانمار میں روہنگیا اقلیت کی نسل کشی نہیں ہو رہی ہے‘

٭ روہنگیا مسلمانوں کا درد

امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انھیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے جبکہ کیمپ میں آنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب پناہ گزین گولیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہزاروں کے قریب روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کی سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان جھڑپوں میں ایک سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں زیادہ تعداد شدت پسندوں کی بتائی جا رہی ہے۔

رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

پناہ گزینوں کی عالمی ایجنسی آئی او ایم کا کہنا ہے کہ جمعے سے بدھ تک 18 ہزار چار سو پینتالیس روہنگیا مسلمانوں کا کیمپ میں اندراج کیا گیا ہے۔

٭ 'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

٭ جموں میں آباد روہنگیا واپس نہیں جانا چاہتے

ایجنسی کے مطابق کیمپ میں آنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

آئی او ایم کے ترجمان پیپی صادق نے بی بی سی کو بتایا کہ' ابھی تک ہزاروں افراد سرحد پر موجود ہیں جن تک ہماری رسائی نہیں ہے۔ کیمپ میں نئے آنے والے پناہ گزینوں میں سے بعض کے پاس کپڑے تھے جبکہ بعض کے پاس کھانے پینے کے برتن بھی تھے تاہم بڑی تعداد اپنا سب کچھ پیچھے ہی چھوڑ آئی ہے اور انھیں فوری پناہ اور خوراک کی ضرورت ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو پولیس سٹیشنز پر حملے کے بعد پرتشدد واقعات شروع ہو گئے

گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش میں بلاکھلی کے علاقے میں قائم عارضی کیمپ میں آنے والے روہنگیا اپنے ساتھ دل دہلا دینے والی کہانیاں لائے ہیں۔

70 سالہ محمد ظفر کے دو بیٹوں کو مسلح بودھوں نے ہلاک کیا۔ 'انھوں نے اتنے قریب سے فائرنگ کی کہ اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ سلاخوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے اور ہمیں سرحد کی جانب دھکیل رہے تھے۔'

٭ ’میانمار روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے‘

٭ ’مسلم ممالک روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے آئیں‘

ایک اور روہنگیا 61 برس کے عامر حسین نے بنگلہ دیش کے گاؤں گھمدھم کے قریب برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا 'ہمیں بچا لو۔ ورنہ ہمیں مار دیا جائے گا۔'

واضح رہے کہ ریاست رخائن میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بودھوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ کئی برسوں سے تناؤ جاری ہے جبکہ دسیوں ہزاروں روہنگیا بنگلہ دیش نقل مکانی کر چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بدھ کو اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کی سربراہی میں ایک کمیشن نے حکومت سے روہنگیا مسلمانوں کو شہریت دینے کے لیے کوئی راستہ نکالنے کی درخواست کی تھی۔

کوفی عنان نے روہنگیا مسلمانوں کو 'دنیا کا سے بڑا بغیر ریاست کا گروہ' قرار دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں