کشمیر: ان افراد کی بے بسی جن کے مکانات تصادم میں تباہ کر دیے گئے

کشمیر، تباہ شدہ مکان تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption محمد سبحان کا مکان

محمد سبحان بٹ نے مکان تعمیر کرنے میں اپنی 25 برس کی کمائی صرف کی تھی لیکن صرف تین گھنٹوں میں ان کا گھر ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو کر رہ گیا۔

اب سبحان کے پاس اپنے گھر کا ملبہ ہٹانے کے بھی پیسے نہیں ہیں۔

یکم اگست 2017 کی بات ہے جب انڈيا کے زير انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ کے رہائشی محمد سبحان کا مکان انتہاپسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم میں تباہ ہوگيا تھا۔

لشکر طیبہ کے دو شدت پسند ان کے گھر میں چھپے ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے ان کے مکان کا محاصرہ کر لیا تھا۔

محمد سبحان کہتے ہیں: 'رات کے ساڑھے دس بج چکے تھے۔ ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے۔ تبھی دو شدت پسند ہمارے گھر میں داخل ہو ئے۔ میرے بیٹے نے ان سے کہا کہ آپ کیوں یہاں آ گئے؟ آپ کو پتہ ہے کہ ہمارے گھر پر چھاپہ پڑےگا لیکن انھوں نے کہا ہم یہاں سے باہر نہیں نکلیں گے کیونکہ ہمارے پیچھے فوج ہے۔ ان کے پاس بھی ہتھیار تھے تو پھر ہم کچھ بھی نہیں کہہ سکے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Majid Jahangir
Image caption سبحان کا کہنا ہے کہ تمام رات جاگنے کے بعد صبح آٹھ بجے فوج نے انھیں ان کے گھر سے باہر نکال دیا

انھوں نے مزید کہا: 'صرف دو گھنٹے کے بعد، فوج نے ہمارے گھر کو گھیر لیا۔ فوج نے ہمارے دروازے پر دستک دی۔ جب ہمیں پتہ چلا کہ فوج نے ہمارے گھر کا محاصرہ کر لیا ہے تو ہم نے عسکریت پسندوں کو بتایا کہ آپ یہاں سے نکل جائیں لیکن انھوں ہماری بات نہیں مانی۔ پھر ہم صبح تک ان کے ساتھ ہی گھر میں بیٹھے رہے۔'

سبحان کا کہنا ہے کہ تمام رات جاگنے کے بعد صبح فوج نے انھیں ان کے گھر سے باہر نکال دیا۔

وہ بتاتے ہیں: 'صبح ساڑھے سات بجے فوج کے میجر نے میرے بیٹے کو فون کر کے بتایا کہ شدت پسندوں سے ہتھیار ڈالنے کے لیے کہو، لیکن وہ نہیں مانے۔

’پھر گھر سے باہر نکلنے کے بعد ہم ایک پڑوسی کے مکان میں داخل ہو ئے۔ صرف چار منٹ کے اندر اندر گولیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے کئی دھماکوں کی بھی آوازیں سنيں۔ میرے مکان کو چاروں طرف سے فوج نے دھماکوں سے اڑا دیا۔ حالت یہ تھی کہ ایک کاغذ کی پرچی بھی ہم مکان سے نہیں نکال سکے۔ جو کچھ تھا سب خاک ہو گیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption محمد سبحان اپنے بیٹے ساتھ

لشکر طیبہ کے کمانڈر ابو دجانہ اور ان کے ایک ساتھی ان کے گھر میں مارے گئے تھے۔

محمد سبحان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ایک عام شہری کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ وہ کہتے ہیں کہ عام آدمی تو دونوں طرف سے پھنس جا تا ہے۔

محمد سبحان کے خاندان کے آٹھ افراد اس وقت ایک عارضی شیڈ میں رہتے ہیں اور ان گزارہ بہت مشکل سے ہوپاتا ہے۔ ان کے عارضی ٹینٹ کو بنانے کے لیے گاؤں کی کمیٹی نے 30 ہزار روپے جمع کیے تھے لیکن ان کی حالت ایسی نہیں کہ وہ اپنا گھر بنا سکیں۔

وہ اپنے گھر کے ملبے کو بار بار یوں دیکھ کر بس مایوس ہوتے ہیں۔ انھیں حکومت سے کوئی مدد نہیں ملی ہے اور نہ ہی کوئي معاوضہ۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption محمد سبحان کے خاندان کے آٹھ افراد اس وقت ایک عارضی شیڈ میں رہتے ہیں اور ان گزارا بڑی مشکل سے ہوپاتا ہے

وہ کہتے ہیں کہ جس دن تصادم ہوا تھا اس روز تحصیل دار آيا تھا اس کے بعد سے کسی بھی ان کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا ہے۔

پلوامہ کے بامنو گاؤں کے رہنے والے 55 سالہ علی محمد چوپان اور ان کے چھ کزنز کے مکانات سکیورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے تصادم میں میدان جنگ میں تبدیل ہوگئے تھے۔

یہ واقعہ تین جولائی کا ہے۔ تقریبا 30 گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس تصادم میں تین شدت پسند ہلاک ہوئے تھے۔

جن چھ خاندانوں کے مکانات اس میں تباہ ہوئے تھے ان میں سے چار وہاں سے دور اپنے رشتہ داروں کے پاس رہنے کے لیے چلے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption علی محمد اور اعجاز احمد اپنے تباہ شدہ مکان کے پاس

علی محمد تصادم کے دن کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں: 'میں صبح ساڑھے سات بجے بھیڑیں چرانے کے لیے گھر سے نکل رہا تھا۔ گھر سے باہر نکلتے ہی جب میں مسجد کے قریب پہنچا تو تین شدت پسند میرے پیچھے آ گئے۔ جب میں نے اپنی نظر دوڑائی تو دیکھا چاروں طرف فوج کا گھیرا تھا۔'

انھوں نے بتایا: 'میری آنکھوں کے سامنے ایک شدت پسند ہلاک ہو گیا۔ اتنے میں دو اور شدت پسند ادھر ادھر بھاگ گئے۔ پھر اگلے دن تصادم ختم ہونے کے بعد ہم نے اپنے گھروں کو دیکھا جہاں صرف ملبہ پڑا ہوا تھا۔ مکانوں میں جو کچھ بھی تھا، وہ بچا نہیں تھا۔ جس جو ہم نے کپڑے پہنے تھے وہی بچا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption علی محمد کے بھائی کا مکان

علی محمد کہتے ہیں کہ 'اگر حکومت کسی طرح کی مدد کرے تبھی مکان بن سکتا ہے، ورنہ تو ہمیں خیموں میں ہی رہنا پڑے گا۔'

ان کا خاندان ابھی گاؤں کے پڑوسی کے گھر میں ایک کمرے میں رہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مکان ان کے والد نے تقریبا پندرہ لاکھ روپے کی لاگت سے بنایا تھا اور اب وہ یہ رقم جمع نہیں کر سکتے۔

علی محمد کہتے ہیں: 'اگر ہم شدت پسند کو گھر میں ٹھہرنے نہ دیں تو ہمیں ان سے خطرہ ہے اور اگر انھیں جگہ دیں تو بھی ہمیں خطرے میں ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption علی محمد

ضلع اننت ناگ میں برنٹی علاقے کے رہنے والے بشیر احمد گناي کا گھر بھی یکم جولائی 2017 کو شدت پسندوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان ہونے والے تصادم میں ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا تھا۔

بشیر احمد کا خاندان سولہ ارکان پر مشتمل ہے، جو آج ایک شیڈ میں رہتا ہے۔

وہ کہتے ہیں: 'میں نے پانچ سال پہلے اپنی زمین بیچ کر مکان بنایا تھا۔ اب پھر زمین بیچ کر مکان بنانے کا کام شروع کیا تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے دو تین لاکھ روپے کی مدد کی تھی جس کے بعد میں نے کام شروع کیا لیکن اب اسے روک دیا ہے کیونکہ میرے پاس پیسہ نہیں ہے، ابھی تک حکومت نے نہ تو کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی کسی تنظیم نے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MAJID JAHANGIR
Image caption بشیر احمد کا خاندان سولہ ارکان پر مشتمل ہے، جو آج ایک شیڈ میں رہتا ہے

پلوامہ کے کلیکٹر غلام نبی ڈار کہتے ہیں: 'اگر شدت پسندی کے تعلق سے کوئی مارا جائے یا کسی کی جائیداد یا املاک کو نقصان پہنچے تو حکومت نے اس کی بحالی کے لیے معاوضے کی پالیسی رکھی ہے لیکن اگر کسی گھر والے کی شدت پسندوں کے ساتھ سانٹھ گانٹھ کا معاملہ رہا ہو تو اس کو معاوضہ نہیں ملتا ہے۔ ایسے تمام معاملات میں پولیس سے پہلے 'نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ' حاصل کرنا پڑتا ہے۔ کسی بھی کیس یہ اس بات پر منحصر ہے کہ محکمہ پولیس کتنی جلد متاثرہ شخص کو 'نو ابجیکشن سرٹیفکیٹ' دیتی ہے۔ اسی بنیاد پر کیس آگے بڑھ سکتا ہے۔'

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے قریہ قریہ گاؤں گاؤں میں اس طرح کی کہانیاں بکھری پڑی ہیں جہاں سکیورٹی فورسزنے شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کے لیے پورا کا پورا کا مکان تباہ کر دیا ہے اور ایسے متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ انتہا پسندی سے منسلک اس طرح کے جانی اور مالی نقصان کے معاملات میں بہت تاخیر ہوتی اور متاثرین کو معاوضہ نہیں مل پا تا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں