فضائی حدود کی خلاف ورزی پر بنگلہ دیش کا میانمار سے احتجاج

روہنگیا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھیں زبردستی بےدخل کیا جا رہا ہے

بنگلہ دیش نے ہمسایہ ملک میانمار پر اپنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے سخت احتجاج کیا ہے۔

ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ جمعے کو میانمار کے ہیلی کاپٹر تین مرتبہ اس کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔

وزارتِ خارجہ کے مطابق اس قسم کے واقعات اس سے قبل ہفتۂ رواں کے دوران کئی بار پیش آ چکے ہیں۔

٭ میانمار سے ہزاروں روہنگیا مسلمانوں کی بنگلہ دیش میں پناہ

٭ ’میانمار میں روہنگیا اقلیت کی نسل کشی نہیں ہو رہی ہے‘

٭ روہنگیا مسلمانوں کا درد

بنگلہ دیش کی جانب سے یہ احتجاج ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب میانمار کی مسلم اکثریتی ریاست رخائن سے پناہ کی خاطر بنگلہ دیش جانے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد تقریباً 40 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ جمعے تک ایک ہفتے کے دوران 38 ہزار افراد سرحد عبور کر چکے ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان پناہ گزینوں کے مطابق سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران ان پر فائرنگ بھی کی گئی۔

ادھر میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر حالیہ جھڑپوں میں مارے جانے والوں کی تعداد 400 تک پہنچ گئی ہے اور ان میں سے بیشتر 'مزاحمت کار' تھے۔

میانمار میں تازہ جھڑپیں مزاحمت کاروں کی جانب سے رخائن میں پولیس اور فوج کی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بنگلہ دیش میں گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں

روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انھیں زبردستی بےدخل کیا جا رہا ہے جبکہ برما کی حکومت کے مطابق وہ علاقے سے مزاحمت کاروں کو باہر نکال رہی ہے تاکہ عام شہریوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

میانمار میں حکام کے مطابق تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب روہنگیا شدت پسندوں نے گذشتہ جمعے کو 30 پولیس سٹیشنوں پر حملہ کیا اور اس کے بعد شروع ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں فوج کو بلانا پڑا۔

رخائن ریاست سے مصدقہ اطلاعات حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ صرف چند ایک صحافیوں کو علاقے میں جانے کی اجازت دی گئی ہے۔

امدادی کارکنوں کے مطابق نقل مکانی کرنے والے روہنگیا مسلمانوں کے لیے کیمپ قائم کیے گئے ہیں جہاں انھیں پناہ اور خوراک مہیا کی جا رہی ہے جبکہ کیمپ میں آنے والے تقریباً ایک درجن کے قریب پناہ گزین گولیوں کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔

٭ 'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

٭ جموں میں آباد روہنگیا واپس نہیں جانا چاہتے

ایجنسی کے مطابق کیمپ میں آنے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعے کو پولیس سٹیشنز پر حملے کے بعد پرتشدد واقعات شروع ہو گئے

٭ ’میانمار روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کرنا چاہتا ہے‘

٭ ’مسلم ممالک روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے آگے آئیں‘

گذشتہ اکتوبر سے اب تک ایک لاکھ روہنگیا مسلمان نقل مکانی کر کے بنگلہ دیش میں پناہ لے چکے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بنگلہ دیش میں بلاکھلی کے علاقے میں قائم عارضی کیمپ میں آنے والے روہنگیا اپنے ساتھ دل دہلا دینے والی کہانیاں لائے ہیں۔

70 سالہ محمد ظفر کے دو بیٹوں کو مسلح بودھوں نے ہلاک کیا۔ 'انھوں نے اتنے قریب سے فائرنگ کی کہ اب مجھے کچھ سنائی نہیں دیتا۔ وہ سلاخوں اور ڈنڈوں سے لیس تھے اور ہمیں سرحد کی جانب دھکیل رہے تھے۔'

واضح رہے کہ ریاست رخائن میں تقریباً 10 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ بودھوں کی اکثریتی آبادی کے ساتھ کئی برسوں سے تناؤ جاری ہے جبکہ دسیوں ہزاروں روہنگیا بنگلہ دیش نقل مکانی کر چکے ہیں۔

اسی بارے میں